ضابطہ اخلاق کی خلا ف ورزی کے جرم میقں گرفتار افراد کی ضمانتوں پر رہائی کا حکم

ضابطہ اخلاق کی خلا ف ورزی کے جرم میقں گرفتار افراد کی ضمانتوں پر رہائی کا حکم

لاہور(نامہ نگار خصوصی)قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس انوارلحق نے پاکستان مسلم لیگ (ن )کے کارکنوں اور راہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف درخواست پرحکم جاری کیا ہے کہ الیکشن کمشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتارتمام کارکنوں اور راہنماؤں کو متعلقہ ایس ایچ اوز ضمانت نامے لے کرفوری طور پر رہا کریں جبکہ نظر بندیوں کے معاملہ کا 24گھنٹے کے اندر اندر فیصلہ کیا جائے ۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ کسی کو غیر قانونی طور پر ہراساں نہ کیا جائے اور جو لوگ غیر قانونی طور پر گرفتار کئے گئے ہیں انہیں چھوڑ دیا جائے۔عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن کمشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا جرم قابل ضمانت ہے اور ضمانت پر رہائی ان لوگوں کا حق ہے ۔فاضل جج نے عدالت میں موجود آئی جی پنجاب اور ہوم سیکرٹری کو مخاطب کرکے ریمارکس دیئے کہ یہ نگران حکومت ہے ،آپ بلیم گیم نہ کریں، آپ کے کسی ایکشن سے یہ نظر نہیں آنا چاہیے کہ آپ کسی ایک پارٹی کو ٹارگٹ کررہے ہیں ،تمام پارٹیوں کیلئے یکساں اقدامات کریں ۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ نگران حکومت کوئی ایسا اقدام نہ کرے جس سے سسٹم تباہ ہوجائے ۔مسلم لیگی کارکنوں اور راہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف نصیر احمد بھٹہ کی طرف سے دائر درخواست پر فاضل جج نے گزشتہ روز صبح کے وقت سماعت کرتے ہوئے فوری نوٹس پر آئی جی پنجاب پولیس اور ہوم سیکرٹری کو طلب کرکے انہیں حکم دیا کہ غیر قانونی طور پر گرفتار تمام افراد کو رہا کردیا جائے اور 2بجے دوپہر اس بابت رپورٹ دی جائے کہ کتنے لوگوں کو نظر بند کیا گیا اور کتنے لوگوں کے خلاف مقدمات درج ہیں۔2بجے اس کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو متعلقہ حکام کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ 237 افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں جبکہ 141 افراد کو نظر بند کیا گیا ہے ۔فاضل جج نے استفسار کیا کہ جن لوگوں کے خلاف مقدمات درج ہیں ان پر کیا الزام ہے ؟ عدالت کو بتایا گیا کہ انہیں الیکشن کمشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے ۔فاضل جج نے پولیس حکام سے کہا کہ یہ تو قابل ضمانت جرم ہیں ۔حکومت کی طرف سے تسلیم کیا گیا کہ ایف آئی آرز کی دفعات قابل ضمانت ہیں جس پر فاضل جج نے حکم دیا کہ تمام تھانوں کے ایس ایچ اوزگرفتار افراد کوفوری طور پر ضمانت پررہا کریں جبکہ جن افراد کو نظر بند کیا گیا ہے وہ ان نظر بندیوں کے خلاف ہوم سیکرٹری کو عرضداشت پیش کریں ،عدالت نے ہوم سیکرٹری کو حکم دیا کہ ان تمام عرضداشتوں پر آج 14جولائی کو فیصلہ کیا جائے۔آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ دہشت گردی کے خدشات اورنقص امن عامہ کے پیش نظر گرفتاریاں کی گئیں، لاہور اور پورے پنجاب میں دہشت گردی کا خطرہ ہے،عدالت نے واضح کیا کہ ایسی کوئی حرکت نہیں ہونی چاہیے جس سے سسٹم خراب ہو،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ 141 افراد کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 237 افراد کو الیکشن کمشن کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا ہے۔عدالت عالیہ نے قابل ضمانت جرم میں حوالات میں قید افراد کو ضمانت پر رہا نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ عدالتیں شہریوں کے حقوق کیلئے بیٹھی ہیں اور آئین اور قانون کی محافظ ہیں ،قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کے معاملہ پر موبائل فون سروس بند ہونے کا بہانہ نہیں چلے گا ۔

جسٹس انوارالحق

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...