استاد کی موت

استاد کی موت
استاد کی موت

  

پنجاب کی انتظامی قیادت اس وقت پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے پاس ہے اورتحریر کے وقت ان کی وزارت اعلیٰ میں پنجاب کے بڑے شہروں میں ہنگامی صورتحال ہے، اس کے مختلف شہروں سے صوبائی دارالحکومت کی طرف آنے والی سڑکیں کنٹینر ز لگا کے بند کر دی گئی ہیں، شہروں سے نکلنے والے راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جو ڈنڈوں ہی نہیں بلکہ بندوقوں اور آنسو گیس کے شیلوں سے بھی لیس ہے،جہاں شہر کے تمام داخلی راستے بند ہیں وہاں لاہور ائیر پورٹ پر رینجرز بھی طلب کئے گئے ہیں اور خدانخواستہ ایسی کوئی صورتحال نہیں کہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہر اور سیاسی دارالحکومت سمجھے جانے والے شہر لاہور پر کسی دشمن کا حملہ ہونے والا ہے بلکہ معاملہ صرف یہ ہے کہ اس شہر اور صوبے کا بھاری اکثریت کے ساتھ مینڈیٹ رکھنے والی جماعت کا عملی اور حقیقی سربراہ، اپنی انتہائی علیل بیوی کو ہسپتال میں چھوڑتے ہوئے، اپنی بیٹی کے ہمراہ اڈیالہ جیل میں قید ہونے کے لئے آ رہا ہے۔ یہ امن وامان یا کسی دوسری نوعیت کا انتظامی مسئلہ نہیں ہے بلکہ سو فیصد سیاسی معاملہ ہے۔

میں نے کہا کہ پنجاب کی قیادت اس وقت پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے پاس ہے جن سے باقی لوگ تو اس وقت واقف ہوئے ہوں گے جب انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کی مقبولیت کے بعد ٹی وی چینلوں پر سیاسی امور بارے اپنی ماہرانہ رائے فراہم کرنا شروع کی۔ وہ عمومی طور پر فری لانس دستیاب نہیں ہوتے تھے کہ وہ کچھ چینلوں کے ساتھ بہترین معاوضے پر رائے دینے کے معاہدے کرتے تھے جو ان کی بارگیننگ کی بہترین صلاحیتوں کے مظہر تھے حالانکہ اسی دوران پروفیشنل تجزیہ کاروں سے ہٹتے ہوئے سیاسیات اور دیگر علوم کے ماہرین عوام کی رہنمائی کے لئے ٹی وی چینلوں کو مفت ہی دستیاب ہوتے تھے۔ میری واقفیت بلکہ نیاز مندی اس سے بہت پہلے کی ہے جب میں طالب علم تھا اور جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات میں ایم اے کے باقاعدہ طالب علم کے طور پر ڈگری حاصل کر رہا تھا۔ پروفیسر صاحب پولیٹیکل سائنس ڈپیارٹمنٹ کے چئیرمین کے عہدے پر تھے اور ہمیں پولیٹیکل فلاسفی اور انٹرنیشنل ریلیشنز وغیرہ میں لیکچر ز دیا کرتے تھے۔ میں ڈاکٹر صاحب کی قابلیت کا فین تھا کہ وہ پڑھاتے ہوئے کسی بھی پہلو کو نظرانداز نہیں کرتے تھے جیسے بین الاقوامی تعلقات پڑھاتے ہوئے وہ محض اصولی اورنظریاتی درس نہیں دیتے تھے بلکہ حقیقی ایشوز اور معاملات بھی زیر بحث لاتے تھے جو ان تعلقات کو تشکیل دیتے تھے۔

میں آپ کو زیادہ واضح طور پر بتاتا ہوں کہ وہ میکاولی کے فرمودات بھی اصولوں کے طور پر پڑھاتے تھے اور اب میں سوچتا ہوں کہ انہیں ہمیں اچھائی اور برائی کے بارے میں بتانا چاہیے تھا جبکہ وہ برائی اور غلطی کو بھی اصول کے طور پر بیان کرتے تھے، یہ ایک معمولی سامگر ایک سنگین فرق ہے جو بطور طالب علم مجھے اس وقت تک سمجھ نہیں آیا جب تک میں نے عملی زندگی میں درست اور غلط بارے فہم حاصل نہیں کیا۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ سیاسیات کے ڈاکٹر ہیں اور دنیا بھر میں سیاسیات کے ڈاکٹر کسی بھی معاشرے کو لاحق امراض کے علاج میں آئین اور جمہوریت کی موجودگی علاج قرار دیتے ہیں مگر یہ مختلف قسم کے ڈاکٹر ہیں۔ کرنٹ افئیرز کے پروگراموں میں ان کی رائے سے استفادہ کرنے والے جانتے ہیں وہ آمریتوں سے زیادہ جمہوریتوں میں کیڑے نکالنے کے ماہر ہیں اور یہ بات بھی قبول کی جا سکتی تھی کہ وہ جمہوریت کے دلدادہ ہیں اور اسے اپنی بہترین صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اگر وہ ایسے ہی اصول پسند ہوتے تو کبھی پنجاب کی وزارت اعلیٰ قبول نہ کرتے جب پنجاب کی سب سے بڑی او رمقبول سیاسی جماعت ان کے نام پر اعتراض کر رہی ہوتی، سیاسی اور اخلاقی وژن اور مقابلے میں ان سے ناصردرانی اور ناصر کھوسہ بازی لے گئے۔ پنجاب میں گذشتہ بہت سارے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی ا ور اس وقت تمام سرویز میں سب سے آگے اور مقبول جماعت کو ان پر اعتراضات تھے اور ثابت ہوا کہ ان کے اعتراضات سو فیصد درست تھے، چلیں، یہ بھی مان لیتے ہیں کہ غیر متنازعہ تو بہت کم لوگ ہوتے ہیں خاص طور پر وہ تمام جو سیاسی رائے رکھتے ہوں لیکن ایسے میں عہدے قبول کرنے کے بعد متنازعہ سمجھے جانے والے ذمہ داری کے احساس کا زیادہ احساس کرتے ہیں۔

سیاسیات کے ایک استاد ، مفکر اور دانشور سے امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ طاقت کی بجائے سیاست کے علم اور حکمت سے کام لے گا مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ وہ لاہور میں اڑتیس برسوں کے دوران ہونے والی سب سے خوفناک اور تباہ کن بارش کے دوران جہاں انتظامی سطح پر ناکام رہے وہاں سیاسی طور پر بھی اپنی کسی صلاحیت کا اظہار نہیں کر سکے۔ مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کو عدالت سے سزا ہوچکی ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انہیں وطن واپس آتے ہی گرفتا ر کر لیا جائے گا۔ سیاسی بصیرت کا مظاہرہ تو یہ تھا کہ صوبائی حکومت مسلم لیگ ن کی قیادت کے ساتھ رابطہ کرتی، ان کے ساتھ روٹ طے کرتی ، اس امر کو یقینی بناتی کہ لاہور آنے جانے والی سڑکوں ہی نہیں بلکہ ائیرپورٹ پر بھی کسی قسم کی افراتفری نہیں ہوگی مگر اس کے برعکس روایتی سیاسی حکمرانوں سے بھی بدترین منصوبہ بندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابات سے پہلے ایک پر امن سیاسی سرگرمی کو متنازعہ بنا دیا گیا، کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی، سڑکیں بیرئیرز لگا کے بند کر دی گئیں، لاہوریوں کو کئی برسوں کے بعد موبائل فون اورانٹرنیٹ کی سروسز میں بندش کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ یہی سب کچھ اگرکوئی نمائندہ حکومت کر رہی ہوتی تو پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی اسے غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر سیاسی قرار دے رہے ہوتے۔ نوجوانوں کو لیکچر اور ٹی وی پر بھاشن دے رہے ہوتے کہ سیاست اور حکومت کے تقاضے کیا ہیں۔ میں مان لیتا ہوں کہ ماضی میں ایسی روایات رہی ہیں مگر اس کے ساتھ ہی مجھے کہنے کی اجازت دیجئے کہ ایسی پابندیوں پر تنقید کرنے والے منافقت کرتے تھے، وہ جھوٹ بولتے تھے کہ جب ان کے پا س ذمہ داری آئی تو انہوں نے وہی کیا جس کی وہ مخالفت کرتے تھے۔ سورۃ صف کی دوسری اور تیسری آیت میں حکم ہے، اے ایمان والو وہ بات مت کہو جو تم کرتے نہیں ہو اور خدا کے نزدیک سخت برا ہے کہ تم وہ بات کہو جو تم کرتے نہیں ہو۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی پانچ برسوں کے لئے پنجاب کے وزیراعلیٰ نہیں ہیں بلکہ شائد پانچ ، سات یا دس ہفتوں کے لئے ہی ہیں۔ وہ پانچ برس حکمرانی کرنے والوں کی جن روایات پر تنقید کیا کرتے تھے اور بتایا کرتے تھے کہ وہ غیر سیاسی ، غیر جمہوری اور غیرآئینی ہیں انہوں نے اپنے پانچ سے دس ہفتے کے اقتدار میں ان سے بری کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ چند دنوں کا یہ اقتدار ختم ہوجائے گا اوراس کے بعد ان کی یہی کارکردگی ان کا اثاثہ ہو گی۔ وزیراعلیٰ کا عہدہ تو بہرحال نہیں رہے گا مگر اس سے بھی بڑے افسوس اور نقصان کی بات سیاسیات کے ایک استاد کی اپنے علم ، مقام اور مرتبے میں موت کا واقع ہوجانا ہے۔

مزید : رائے /کالم