نواز شریف نے واپس آکر مہربانوں کے سارے اندازے اور قیافے غلط ثابت کر دیئے

نواز شریف نے واپس آکر مہربانوں کے سارے اندازے اور قیافے غلط ثابت کر دیئے

تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری

جن لوگوں نے باقاعدہ یہ بیان ریکارڈ کرایا تھا کہ نوازشریف نے برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کر لی ہے یا مستقبل قریب میں کرنا چاہتے ہیں، انہیں نوید پہنچے کہ ان کا یہ بیان دن کی روشنی میں غلط ثابت ہو چکا، نوازشریف پہلے سیاستدان ہیں جو سزا سننے کے چند دنوں کے اندر اندر اپنی بیٹی کے ساتھ وطن کی سرزمین پر گرفتار ہونے کے لئے آ گئے، ہم نے ماضی قریب و بعید میں سیاستدانوں اور غیر سیاستدانوں کو محض سزاؤں کے خوف سے بھاگتے تو بہت دیکھا واپس آتے سنا اور نہ دیکھا، ابھی نوازشریف کو سزا نہیں سنائی گئی تھی محض پیشیاں ہو رہی تھیں، جن کے دوران انہیں دوچار مرتبہ اپنی بیمار اہلیہ کی عیادت کے لئے لندن جانا پڑا تو بھی ان کے بہی خواہوں نے بڑے طمطراق اور جذبے کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ وہ واپس نہیں آئیں گے۔ ان میں بڑے بڑے معتبر لوگ تھے، جو ماضی میں اعلیٰ ریاستی مناصب پر بھی فائز رہے، انہیں قانون کی شقیں بھی ازبر ہیں، وہ خطے کی سیکیورٹی کے امور پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں، انہیں سفارتی اور سیاسی کامیابیوں کا بھی دعویٰ ہے لیکن اتنے سارے دعوے کرنے کے باوجود وہ نوازشریف کے متعلق اندازے لگانے میں غلطی کر گئے، انہوں نے سیاسی پناہ لی نہ اس بات سے خائف ہوئے کہ پاکستان میں ان کے لئے درِزنداں کھلا ہوا ہے اور پاک سرزمین پر قدم رکھتے ہی انہیں گرفتار کرکے کسی نہ کسی قیدخانے میں پہنچا دیا جائے گا۔ وہ چاہتے تو جنرل پرویز مشرف کی طرح آرام سے بیٹھے رہتے جنہیں عدالت نے حفاظتی ضمانت بھی دی تو انہیں واپسی کا حوصلہ نہ ہوا۔ انہوں نے اپنے قانونی ماہرین کو عدالتی حکم کی تشریح کے لئے دبئی طلب کیا جنہوں نے غالباً انہیں وضاحت سے بتا دیا کہ عدالت جانے تک تو انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا لیکن اس امر کی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ عدالت میں پیشی بھگت کر اپنے چک شہزاد والے فارم میں پہنچ سکیں گے یا نہیں، بس اس انجانے خوف نے ان کے بڑھتے ہوئے قدم روک لئے، سیاست دان جو کچھ کرتا ہے اس کے اثرات مدتوں محسوس ہوتے رہتے ہیں۔ نوازشریف نے واپس آ کر جو کر دکھایا اور پرویز مشرف نے نہ آنے کی صورت میں جو تاریخ رقم کی اس کا موازنہ آنے والے دنوں میں بہت عرصے تک ہوتا رہے گا۔

13 جولائی اور 25 جولائی کے درمیان کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہے اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ لاہور کے ایئرپورٹ سے ہونے والی ان دو گرفتاریوں کے 25 جولائی پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے تو وہ بے شک اپنے دل کو تسلی دے لے لیکن وہ جو شاعر نے کہا تھا:

ہرگز نہ میرد آنکہِ دلش زندہ شد بہ عشق

ثبت است برجریدہ عالم دوامِ ما

اس آمد اور اس گرفتاری کے اثرات ملکی سیاست پر اتنے گہرے مرتب ہوں گے کہ شاید آنے والے کئی عشروں تک اس کے اثرات محسوس کئے جائیں۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا، مستقبل میں نوازشریف اور مریم نواز کے لئے کیا رکھا ہے اور جیل کی زندگی میں انہیں کن مصائب سے گزرنا پڑے گا اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس دوران لندن میں بیمار کلثوم نواز کی صحت کی صورت حال کیا ہوتی ہے، لیکن اتنا معلوم ہے نوازشریف کی سزا پر جن لوگوں نے مٹھائیاں بانٹیں اور محاورتاً نہیں واقعتاً گھی کے چراغ جلائے، یا جنہوں نے محسوس کیا کہ اب ان کے راستے کی کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی اور وہ کامرانیوں کے ایک نئے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں انہیں چند گھنٹوں کے اندر ہی اندازہ ہوگیا ہے کہ ایسا نہیں، ان کے چہروں سے شادابی رخصت ہو گئی اور اس کی جگہ گھمبیرتا نے لے لی ہے، جسے یہ کہہ کر چھپایا جا رہا ہے کہ ایک سزا یافتہ مجرم کا استقبال کرنے والے گدھے ہیں، ٹھیک کہا تھا شیراز کے شیخ نے:

خرِ عیسیٰ اگر بہ مکہ رود

چوں باز آید ہنوز خر باشد

نوازشریف کو سزا کے فیصلے پر ماہرین قانون نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جو اب سیاستدان ہیں اور نوازشریف کی سیاست کو ہدف تنقید و ملامت بناتے رہتے ہیں، نام لے کر کہا ہے کہ یہ فیصلہ اغلاط سے پُر ہے۔ یہ فیصلہ جیسا بھی ہے، ابھی اسے ملک کی دو اعلیٰ عدالتوں میں جانچا پرکھا جانا ہے۔ ایک ہائی کورٹ اور دوسری سپریم کورٹ، یہ قانونی پوزیشن ہے کیا آپ ایک ’’مجرم‘‘ کو اس کا قانونی حق دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں؟ جن لوگوں کو ماتحت عدالتوں سے قتل کے الزام میں موت کی سزا ہوتی ہے کیا انہیں اسی وقت پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے؟ کیا وہ اس سزا کے خلاف اپنا مقدمہ اعلیٰ عدالتوں میں لے کر نہیں جاتے، کیا وہ ان عدالتوں سے بری نہیں ہوتے، لیکن نوازشریف کے خلاف خبثِ باطن کا مظاہرہ کرنے والے ایک جونیئر عدالت کے فیصلے پر ایسے شاداں و فرحاں ہیں جیسے یہ آخری عدالت کا فیصلہ ہو، یہ تو خیر قانونی پوزیشن ہے، سیاست کے فیصلے بھی اپنے ہوتے ہیں اور جو فیصلہ آج لکھا گیا ہے وہ بہت سے لوگوں کی امیدوں کو خاک میں ملا دے گا، ایئرپورٹ پر سوا سو لوگ تھے یا سوا لاکھ، یہ بات اہم نہیں ہے۔ اہم یہ ہے کہ آج کی آمد کا پیغام کیا ہے۔ امریکہ کے سابق صدر نکسن جب اپنے پہلے دورے پر چین گئے تو یہ ماؤزے تنگ اور چواین لائی کا چین تھا، آخر الذکر سے ملاقات کے دوران نکسن نے کہا یہ بات اہم نہیں ہے کہ کوئی اس دنیا میں کتنے برس جیا، اہم تر بات یہ ہے کہ ان طویل برسوں میں وہ کس ڈھنگ سے جیا، ٹیپو سلطان نے یہ بات یوں کہی تھی، شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔

مزید : تجزیہ