مستونگ خودکش دھماکہ ، سراج رئیسانی سمیت 85شہید ، بنوں : اکرم درانی کے قافلے میں بم دھماکہ ، 4شہید ، سینکڑوں زخمی

مستونگ خودکش دھماکہ ، سراج رئیسانی سمیت 85شہید ، بنوں : اکرم درانی کے قافلے ...

مستونگ،کوئٹہ ( مانیٹرنگ ڈیسک ،آن لائن)مستونگ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے جلسہ کے دوران خودکش دھماکہ میں سراج رئیسانی سمیت 85افراد شہید اور100سے زائد زخمی ہو گئے ، شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ، واقعہ کے بعد مستونگ اور کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ۔اطلاعات کے مطابق مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں جمعہ کے روز بلوچستان عوامی پارٹی کے زیراہتمام انتخابی مہم کا جلسہ ہو رہا تھا ،خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جلسہ میں بلوچستان عوامی پارٹی حلقہ پی بی 35 سے نامزد امیدوار میرسراج رئیسانی بھی شریک تھے کہ اس دوران خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں میر سراج رئیسانی سمیتً 80فراد شہید اور 100سے زائد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر مستونگ ہسپتال اور بعد میں سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیاگیا۔سراج رئیسانی کو فوری طورپر سی ایم ایچ لایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملے۔ان کے بڑے بھائی لشکری رئیسانی نے خود کش حملے میں سراج رئیسانی کے شہید ہونے کی تصدیق کردی ہے جبکہ سیکرٹری داخلہ بلوچستان نے بتایا کہ خودکش حملہ میں 80فراد بھی شہید ہوئے ۔ ڈپٹی کمشنر مستونگ کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جو نوابزادہ میر سراج رئیسانی جلسہ گاہ پہنچے ۔ دوسری جانب مستونگ دھماکے کے بعد کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، چھٹی پر موجود ڈاکٹروں اور طبی عملے کو واپس طلب کرلیا گیا ہے ترجمان سول اسپتال کوئٹہ کے مطابق مستونگ دھماکے کے متعددزخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر دھماکے کی جگہ سے شواہد اکھٹے کرنا شروع کردیے ہیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بھی مستونگ دھماکا خود کش قرار دیا ہے جب کہ بی ڈی ایس کے مطابق دھماکے میں 16 سے 20 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

مستونگ دھماکہ

بنوں (آئی این پی) جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ کے پی کے اکرم خان درانی کے قافلے پر بم حملہ‘ حملے میں4 افراد شہید ‘25 سے زائدزخمی ہوگئے جن میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ جمعہ کو پولیس کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ کے پی کے اکرم خان درانی کے قافلے پر بم حملہ ہوا ۔ حملے میں4 افراد جاں بحق ‘25زخمی ہوگئے جن میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اکرم خان درانی انتخابی جلسے میں شرکت کے لئے جارہے تھے اکرم درانی این اے 35 سے عمران خان کے مدمقابل ہیں۔ امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں ۔ بم جے یو آئی (ف) کے رہنما اکرم درانی کے قافلے پر موٹرسائیکل میں نصیب تھا ۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر واقعہ کی تحقیقات شروع کردیں۔ واضح رہے کہ پرائیویٹ گاڑیوں میں جاں بحق افراد اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچایا گیا ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرکے گیٹ بند کردیئے گئے۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے وزیر داخلہ سے واقعے کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔پولیس کے مطابق دھماکا بنوں کے مضافاتی علاقے حوید میں ہوا، جب اکرم خان درانی کا قافلہ انتخابی جلسے میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا۔دھماکے کے بعد نجی ٹی وی سے گفتگو میں اکرم خان درانی نے اپنی خیریت کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ وہ بالکل محفوظ ہیں، لیکن ان کے 4 ساتھی شہید ہوئے۔ اللہ نے بچایا ہے، دھماکا ان کی جیپ کے ٹائر کے ساتھ ہوا، جس سے ان کی گاڑی کے ٹائر، شیشے اور باڈی تباہ ہوگئی'۔اکرم خان درانی کا مزید کہنا تھا کہ 'جلسہ گاہ کے اندر سیکیورٹی اچھی تھی اور اسٹیج کے ساتھ خاردار تاریں بھی لگائی گئی تھیں۔دریں اثنانگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے بنوں اور مستونگ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی کے واقعہ میں شہید افراد کے لواحقین سے ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی،آصف علی زرداری نے بھی اکرم درانی پر بم حملے کی مذمت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعاکی۔عمران خان نے اکرم خان درانی کے قافلے پر حملے کی مذمت اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مرحلے کے دوران دشمن عدم استحکام کا خواہاں ہے،سپیکر قومی اسمبلی سردار ایا ز صادق نے بنوں اور مستونگ میں بم دھما کوں کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ۔ شہباز شریف نے بھی دونوں دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اکرم خان درانی کے انتخابی قافلے پر حملہ افسوسناک ہے۔ علاوہ ازیں چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے اکرم خان درانی پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا ،آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے واقعہ پر رپورٹ طلب کرلی۔

بنوں دھماکہ

مزید : کراچی صفحہ اول