نان فائلرز پالیسی ،اربوں مالیت کی گاڑیاں رجسٹریڈ نہ ہو سکیں،خوانہ کروڑوں کے ٹیکس سے محروم

نان فائلرز پالیسی ،اربوں مالیت کی گاڑیاں رجسٹریڈ نہ ہو سکیں،خوانہ کروڑوں کے ...

اسلام آباد(سید گلزار ساقی سے) ایف بی آر کی طرف سے ایک ہزار سی سی سے اوپر گاڑیوں کی خریداری اور رجسٹریشن کیلئے نان فائلرز ہونے کی شرائط کی وجہ سے اربوں روپے کی لگژری گاڑیاں رجسٹرڈ نہ ہو سکیں مالکان کو شدید پریشانی جبکہ ایف بی آر نے تاحال محکمہ ایکسائز کو واضع پالیسی سے آگاہ نہیں کیا پالیسی میں سقم ہے پاکستان میں 6ماہ قبل بکنگ کروائی جاتی ہے تو گاڑیاں کئی ماہ بعد ڈیلیور کی جاتی ہیں 30جون سے پہلے ہونے والی بکنگ میں ایف بی آر پالیسی واضع نہ کی تو حکومتی خزانہ کو ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا کہ 30جون 2018کے بعد ملک بھر کے چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے محکمہ ایکسائز اور مختلف کمپنیوں کی گاڑیوں کے کاروبارکے کاروبار کرنے والوں کو ہدایات دیں کہ کسی بھی ایسے شخص کو 1000سی سی سے اوپر کی گاڑی فروخت نہ کی جائے اور رجسٹرد بھی نہ کی جائے جو نان فائلر ہو جس پر ایکسائز کے چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ایکسائز کے عملے نے سختی سے عمل درآمد شروع کر رکھا ہے اور 30جون کے بعد اب تک ایک ہزار سی سی سے اوپر کی نان فائلر مالکان کی گاڑیوں کی رجسٹریشن نہیں کر رہے جس پر گاڑیوں کے مالکان کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی طرف نا ن فائلر گاڑی مالکان کی گاڑیاں رجسٹرڈ پر پابندی سے چاروں صوبوں اور اسلام آباد میں لگژری گاڑیوں کی رجسٹریشن میں کمی ہو گئی ہے اور ہزاروں گاڑیاں بغیر رجسٹریشن سڑکوں پر گھوم رہی ہیں ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے احکامات میں اس بات کو واضع نہیں کیا کہ 30جون 2018سے قبل بک ہونیوالی گاڑیوں کی پالیسی کیا ہے جبکہ پاکستان میں 6ماہ پہلے گاڑیاں بک کروائی جاتی ہیں اور 6ماہ یا 3ماہ بعد گاڑیاں مالکان کو ڈیلیور کی جاتی ہیں اور اس طرح ایک اندازہ کے مطابق 20ہزار سے زائد لگژری گاڑیاں جو کہ ایک ہزار سی سی سے اوپر ہیں تاحال رجسٹرڈ نہ ہونے سے قومی خزانے کے ریونیو میں کروڑوں روپے کی کمی ہو گئی ہے ادھر محکمہ ایکسائز ایب بی آر کو خطوط بھی لکھے ہیں کہ ایسی گاڑیاں جو جو کہ نان فائلر افراد کے نام ڈیلیوری ہو چکیں اور ابھی تک رجسٹرڈ کی جارہی ہیں ،اُن کے بارے میں پالیسی واضع کی جائے تاکہ 30جون 2018ء سے پہلے ڈیلیویر ہونے والی گاڑیوں کو رجسٹریشن کے بارے میں سقم سے پاک پالیسی مرتب کریں تاکہ ابھی تک کروڑوں روپے کا ریونیو بغیر رجسٹریشن کے سڑکوں پر سفر کررہے ہیں اُن کو قومی خزانے میں جمع کروایا جا سکے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...