نواز شریف کارکنوں سے خطاب کیلئے بے چین ، کچھ پڑھتے رہے ،مریم نواز بھی پریشان، سابق وزیراعظم پسینے صاف کرتے رہے

نواز شریف کارکنوں سے خطاب کیلئے بے چین ، کچھ پڑھتے رہے ،مریم نواز بھی ...
نواز شریف کارکنوں سے خطاب کیلئے بے چین ، کچھ پڑھتے رہے ،مریم نواز بھی پریشان، سابق وزیراعظم پسینے صاف کرتے رہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم نوز شریف جب لاہور ایئر پورٹ پر پہنچے تو وہ کارکنوں سے خطاب کرنے کے لئے بے قرار تھے، ذرائع بتاتے ہیں کہ جب طیارہ لاہور ایئر پورٹ پر اترا تو اس وقت نواز شریف کچھ پڑھ رہے تھے، اور ان کے ساتھ ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف بھی پریشان تھیں، جبکہ نواز شریف لینڈنگ سے بیس منٹ قبل ہی مسلسل اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے رہے ۔

حسن رضا نے روزنامہ دنیا میں ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ   انہوں نے سکیورٹی حکام اور نیب اہلکاروں سے منت سماجت کی کہ انہیں کارکنوں سے خطاب کرنے دیا جائے پھر آپ نے جو کارروائی کرنی ہے کر لیں۔ جس کے جواب میں نیب اہلکار نے کہا نواز شریف صاحب آپ اب مجرم ہیں ، آپکو گرفتار کر لیا گیا ہے ، آپ اب کسی سے خطاب نہیں کر سکتے ، قانون کے مطابق آپ اب مجرم ہیں ۔ طیارے سے نیچے اترنے پر سکیورٹی جوان نے نواز شریف سے کہا کہ آپ گاڑی میں بیٹھیں جس پر نواز شریف نے سوال کیا کہ یہ کون سی گاڑی ہے ؟ ہم اس گاڑی میں کیوں بیٹھیں۔

اس موقع پر انہوں نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار واضح طور پر نمایاں تھے۔ نواز شریف نے مریم نواز کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا او رانہیں ساتھ چلنے کو کہا۔ اس کے بعد مریم نواز اپنے والد نواز شریف کے ساتھ رن وے پر چل پڑیں۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف چلتے چلتے مریم سے باتیں کرتے رہے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک طیارے کے پاس پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ انہوں نے اس طیارے کے ذریعے اسلام آباد جانا ہے۔ بعد میں نواز شریف اور مریم نواز طیارے میں سوار ہوگئے۔

واضح رہے نواز شریف اور مریم نواز شریف لاہور میں تقریباً ایک گھنٹہ ہی رہ سکے۔ اس دوران نواز شریف کی ان کی والدہ سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ نواز شریف کا طیارہ لاہور ایئر پورٹ پر 8بجکر 44منٹ پر لینڈ کیا، اور 9بجکر 44منٹ پر خصوصی طیارہ اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگیا۔ نواز شریف کے طیارے کی لاہور آمد سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل اچانک قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے لاہور ایئر پورٹ پر مکمل طور پر ایمرجنسی نافذ کردی۔

نواز شریف اور مریم کو اسی خصوصی طیارے میں اسلام آباد لیجا یا گیا جس میں شہباز شریف بطور وزیر اعلیٰ پنجاب سفر کرتے تھے۔ نواز شریف جیل میں موجود اہلکاروں سے یہ بھی پوچھتے رہے کہ یہ کون کونسے افسران ہیں ، اور اس وقت طیارے کے اندر کون موجود تھا ، لیکن کسی بھی اہلکار نے کچھ بھی نہ بتایا بلکہ اشاروں میں ہی بات کرتے رہے۔ نواز شریف کچھ دیر سوال کرتے رہے پھر خاموش ہی بیٹھ گئے۔ نواز شریف خصوصی طیارے میں بیٹھ کر اپنی قمیض کو بار بار درست کرتے رہے اور جھاڑتے رہے، جبکہ مریم نواز شریف خصوصی طیارے میں مسلسل خاموش ہی بیٹھی رہیں۔ ذرائع کے مطابق ایئر پورٹ سے اڈیالہ جیل منتقل ہونے تک نواز شریف کی ہر بات ریکارڈ کی گئی۔

مزید : سیاست /علاقائی /پنجاب /لاہور /قومی