پٹرولیم مصنوعات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت، چیف جسٹس کا سابق وزیر تیل و گیس شاہد خاقان کیخلاف انکوائری کرانے کا عندیہ

پٹرولیم مصنوعات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت، چیف جسٹس کا سابق وزیر تیل و گیس ...
پٹرولیم مصنوعات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت، چیف جسٹس کا سابق وزیر تیل و گیس شاہد خاقان کیخلاف انکوائری کرانے کا عندیہ

  

اسلا م آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر لئے گئے ازخود نوٹس کیس میں سابق وزیر تیل و گیس شاہد خاقان کےخلاف انکوائری کرانے کا عندیہ دیا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں سب پتہ ہے، شاہد خاقان کا بھی سب پتہ ہے۔

پٹرولیم مصنوعات پرٹیکسزسے متعلق ازخودنوٹس کیس کے دوران چیف جسٹس نے ایم ڈی پی ایس او سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کووفاقی حکومت بھی بجٹ دیتی ہے۔اس پرایم ڈی عمران الحق نے بتایا کہ پی ایس او کو کوئی بجٹ نہیں ملتا، سالانہ انتظامی اخراجات 10 سے 12 ارب روپے ہے،ایک سال میں کل منافع 18 ارب روپے سے زیادہ ہے، پی ایس او کا کل ریونیو ایک اعشاریہ دو ٹریلین ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کا تقرر کس نے کیا،ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ میری تقرری کی منظوری وزیر اعظم نے دی ،چیف جسٹس نے شاہد خاقان عباسی کا نام لئے بغیر استفسار کیا کہ آپ کی تقرری عباسی نے کی،ایم ڈی نے کہا کہ میرا تقرر سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس وقت وزیر پیٹرولیم کون تھا،ایم ڈی عمران الحق نے کہا کہ اس وقت وزیر پیٹرولیم شاھد خاقان عباسی تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ میں یہی آپ کو دوستی سمجھا رہا تھا،خاموش رہیں،بہترین ایجنسی سے تفتیش کرا لیں گے،آپ کو دیکھ کر اوپر پرابلم شروع ہو جاتی ہے۔

ایم ڈی پی ایس او نے کہاکہ یہ آسامی اشتہار کے ذریعے آئی تھی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چھ افراد شارٹ لسٹ ہوئے اور سمری تیار ہوئی،ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ انٹرویو اور اہلیت جانچنے کےلئے نجی کمپنی کے سروسز حاصل کی گئیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عجیب دھندہ بنایا ہے کہ نجی کمپنیوں کو کہتے ہیں ہمارے لئے افسر تلاش کریں،گریڈ 20 کا افسر 2 لاکھ تنخواہ لیتا ہے،ایم ڈی نے کہا کہ میرے عہدے کی مدت تین سال ہے،تین سال سے کارکردگی بونس نہیں لیا۔اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کونسا احسان کیا ہے،کیوں نہ آپ کو عہدے سے معطل کر دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں اس طرح کی چیزیں قابل قبول نہیں،آدھے گھنٹے میں نیب اور ایف آئی اے کو بلالیں ، کچھ نہیں کررہے ان سے تفتیش کرائینگے ۔

ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ او جی ڈی سی کے سربراہ کی تنخواہ 44 لاکھ ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ یعنی سب میں لوٹ سیل لگی ہے،لیتے جاﺅ اس ملک کے ٹیکس پیئرز کی کمائی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کا تقررکب ہوا،اس پر ایم ڈی نے کہا کہ میرا تقرر ستمبر 2015 میں ہو،چیف جسٹس نے کہا کہ مطلب آپ کے دو تین ماہ باقی ہیں ،اکرام صاحب آپ سے زیادتی نہیں کررہے ہیں،یہ ملک کا ایک بڑا سکینڈل ہے کہ نجی کمپنیاں بنا کر اپنوں کو نواز جاتا ہے،آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کہ دوستیاں سامنے نہیں آئینگی،ہمارے پاس ایسے ریکارڈ ہیں کہ سب سامنے آجائے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ شاہد خاقان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا،کیا آپ شاہد خاقان کو نہیں جانتے تھے،وزیر بننے سے پہلے کبھی شاہد خاقان سے نہیں ملا،چیف جسٹس نے کہاکہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا جب تک آڈٹ نہیں ہوتا،ڈیڑھ بجے تک تفتیشی اداروں کو بلا لیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد