پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز سے متعلق ازخودنوٹس کیس،سپریم کورٹ کا پی ایس او کے آڈٹ،سینئر افسران کی تعیناتیوں کی تحقیقات کا حکم

پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز سے متعلق ازخودنوٹس کیس،سپریم کورٹ کا پی ایس او کے ...
پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز سے متعلق ازخودنوٹس کیس،سپریم کورٹ کا پی ایس او کے آڈٹ،سینئر افسران کی تعیناتیوں کی تحقیقات کا حکم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات پرٹیکسزسے متعلق ازخودنوٹس کیس میں نجی کمپنی کے پی ایم جی کوپی ایس اوکے آڈٹ کا حکم دے دیا اور نیب کو پی ایس اومیں 15لاکھ یازائدتنخواہ لینے والے سینئرافسران کی تعیناتیوں کی تحقیقات کاحکم جاری کر دیا۔عدالت نے کہا ہے کہ نجی کمپنی پی ایس اواورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے کاآڈٹ کرے گی،کے پی ایم جی 5ہفتے میں آڈٹ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرےگی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے پٹرولیم مصنوعات پرٹیکسزسے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے نجی کمپنی کے پی ایم جی کوپی ایس اوکے آڈٹ کا حکم دے دیا،عدالت نے کہا ہے کہ نجی کمپنی پی ایس او اورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے کاآڈٹ کرے گی،کے پی ایم جی 5ہفتے میں آڈٹ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرےگی۔عدالت نے تمام اداروں کونجی کمپنی کے پی ایم جی سے تعاون کاحکم دے دیا،عدالت نے کہا ہے کہ نجی کمپنی کوریکارڈاوردستاویزات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔

عدالت نے نیب کوایم ڈی پی ایس اوکی تقرری کے معاملے کی تحقیقات کاحکم دیتے ہوئے پی ایس اومیں 15لاکھ یازائدتنخواہ لینے والے سینئرافسران کی تعیناتیوں کی تحقیقات کابھی حکم دےدیا، عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تحقیقات کی جائیں تقرریوں میں اقرباپروری،سیاسی اثرورسوخ استعمال تونہیں ہوا، ایم ڈی پی ایس اوکوماہانہ 37لاکھ روپے تنخواہ دی جاتی ہے،عدالت نے نیب پراسیکیوٹرکو 6 ہفتے میں رپورٹ عدالت پیش کرنے کاحکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ نہیں جانتے کہ بھاری تنخواہیں شفاف طریقے سے دی جارہی ہیں،پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد