ہارون بلور ، نوابزادہ سراج رئیسانی ،شہدائے جمہوریت کو سلام

ہارون بلور ، نوابزادہ سراج رئیسانی ،شہدائے جمہوریت کو سلام
ہارون بلور ، نوابزادہ سراج رئیسانی ،شہدائے جمہوریت کو سلام

  

وطن عزیز میں یوں تو دہشتگردی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے دوسروں کی مسلط کی گئی جنگ میں پاکستانیوں نے جو قربانیاں دی ہیں موجودہ تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی۔جہاں ایک طرف مذہب کی خود ساختہ تشہیر کے نام پر۔ طالبان۔ القاعدہ۔ اور داعش جیسی تنظیموں کے دہشتگرد مسلط کئے گئے وہیں امریکہ۔ اسرائیل اور بھارت کے گٹھ جوڑ سے کلبھوش یادیو جیسے نیٹ ورک معصوم لوگوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے ہیں۔یہی قوتیں اب الیکشن سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔کلبھوشن کو گرفتار ہوئے ایک عرصہ گزر گیا مگر ہمارے ادارے ابھی تک عدالت عدالت کھیل رہے ہیں اور آٹھ مہینے کے بعد سترہ جولائی کو پاکستان جواب داخل کرائے گا۔

ابھی سانحہ پشاور میں ہارون بلور کی شہادت کا سوگ ختم نہ ہوا تھا۔بنوں میں اکرم درانی کے قافلے پر حملہ کر کے چار افراد شہید کر دیئے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔مگر مستونگ میں سراج رئیسانی کی کارنر میٹنگ پر جو حملہ ہو وہ انتہائی المناک تھا ۔ ڈیڑھ سو افراد خالق حقیقی سے جا ملے ہیں سینکڑوں زخمی ہے۔

ہم نے اپنے آپ کو مذہب اور سیکولر کے خانوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔دشمن کے نزدیک سب برابر ہے ۔وہ حملہ کرتے وقت آپکی مذہب یا لسانی شناخت دیکھنے کا قائل نہیں ہے۔ ہارون بلور شہید کے والد بشیر احمد بلور بھی دسمبر 2012 میں خود کش حملہ میں شہادت پا چکے ہیں۔ جبکہ سراج رئیسانی کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں وہ ارض پاک سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔پہلے بھی وہ ملک کے دشمن کو للکارنے پر اپنے بیٹے کی قربانی دے چکے ہیں۔نا مساعد حالات کے باوجود انتخابات میں حصہ لینا اور پاکستان کا پرچم بلند رکھنا سراج رئیسانی جیسے بہادر کا ہی طرہ امتیاز ہو سکتا ہے۔

المیہ یہ رہا کہ میڈیا کی پوری توجہ میاں نواز شریف اور انکی صاحبزادی مریم نواز جو کہ سند یافتہ مجرم قرار دئیے جا چکے ہیں انکے استقبال کی کوریج کرنے پر مرکوز رہی جسکی وجہ سے سانحہ مستونگ میں ہونے والے بڑے جانی نقصانات کا حقیقی معنوں میں بر وقت علم ہی نہیں ہو سکا۔اس سے بحثیت قوم ہماری بے حسی اور ترجیحات کا علم ہوتا ہے۔

نگران حکومت عام انتخابات میں سیکورٹی کے مسائل کو لے کر انتظامی طور پر بہت کمزور نظر آرہی ہے ۔وزیراعظم ناصر الملک بھی اس حوالے سے سست نظر آرہے ہیں۔جب عوام کی جان و مال کو تحفظ نہیں ملے گا تو بر وقت اور شفاف انتخابات کیونکر ممکن ہو سکیں گے۔

دہشتگردی مذہب کے نام پر ہو یا زبان کے نام پر کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

وقتاً فوقتاً میڈیا کے ذریعے پتہ چلتا رہتا ہے کہ اتنے دہشتگردوں کو پھانسی دے دی گئی جو کہ یقیناً قابلِ تعریف عمل ہے مگر اب وقت آگیا ہے کہ ان دہشتگردوں کے مقامی سہولت کاروں یر کاری ضرب لگائی جائے۔ سہولت کاری کے بغیر کوئی بھی دہشتگردی کا حملہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔

کراچی اس بلوچستان میں کلبھوشن یادیو کا جو نیٹ ورک پکڑا گیا تھا اسکے بعد وقتی طور پر دہشتگردی میں کمی آئی تھی مگر اب یوں لگتا ہے کہ ملک دشمن قوتوں نے مزید کلبھوشن پاکستان میں دہشتگردی کرنے کے لیئے لانچ کر دئیے ہیں اور اس موقع پر دہشتگردی کے پے درپے واقعات سے لگتا ہے کہ جمہوریت پر کاری ضرب لگانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ کسی بھی طرح عام انتخابات کا التوا کر کے پاکستان کو عالمی دنیا میں مزید کمزور کیا جائے اور پابندیوں کا شکار بنایا جائے۔

ہندوستان کی ملکی امن میں مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔عالمی فورمز پر ہندوستان کا دو ٹوک جواب دیا جائے اور جلد از جلد کلبھوشن یادیو کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔انتخابات بھی ہونے چاہیں ڈیم بھی بننے چاہییں مگر انسانی جان کی حرمت سب سے پہلے ہے ۔سلام ہے ان ماوں پر جنہوں نے ہارون بلور اور سراج رئیسانی جیسے جوانوں کو جنم دیا ۔ جنہوں نے وطن کی مٹی کی محبت میں وہ قرض بھی اتار دئیے جو واجب ہی نہ تھے۔اندرونی و سیاسی اختلافات کچھ بھی ہوں ،دشمن کو پیغام دینا چاہیے کے اسکی بزدلانہ کارروائی ہمارے عزم کی سیسہ پلائی دیوار میں کوئی دراڑ نہیں ڈال سکتی۔ہمارے جوانوں کے سر کٹ سکتے ہیں جھک نہیں سکتے۔ آزمائش شرط ہے۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ