نوازشریف اور مریم کےدفاع کیلئے تمام ذرائع استعمال کریں گے ،میڈیا نے ریلی کومکمل بلیک آوٹ کیا ، کارکنوں پر تشدد کرنے والے ایک دن قانون کے کٹہرے میں ہونگے: شہبازشریف

نوازشریف اور مریم کےدفاع کیلئے تمام ذرائع استعمال کریں گے ،میڈیا نے ریلی ...
نوازشریف اور مریم کےدفاع کیلئے تمام ذرائع استعمال کریں گے ،میڈیا نے ریلی کومکمل بلیک آوٹ کیا ، کارکنوں پر تشدد کرنے والے ایک دن قانون کے کٹہرے میں ہونگے: شہبازشریف

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے مستونگ واقعہ کی مذمت اور اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے بھارت کی تاریخ رہی ہے کہ وہ پاکستان میں امن و امان خراب کرنے میں ملوث رہاہے ، دعا گو ہوں کہ ایسا واقع دوبارہ نہ ہو۔نوازشریف اور ان کی صاحبزاد ی کا ٹرائل جیل میں کرنے کا فیصلہ انصاف کی دھجیاں اڑانے کے متراد ف ہے ، کیونکہ جیل میں ٹرائل دہشتگردوں کا ہوتاہے، یہ قانون و آئین کے متصادم ہے اور یہ غلط فیصلہ ہے ، 1999 میں طیارہ ہائی جیکنگ کے نام نہاد کیس میں بھی ٹرائل بھی عدالت میں ہوا تھا ۔

گزشتہ روز کی ریلی انتہائی پر امن اور منظم تھی ،ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹا ، جنہوں نے کارکنوں پر تشدد اور زیادتی کی ہے وہ ایک دن قانون کے کٹہرے میں ہونگے ،سینئر قیادت کے خلاف دہشتگردی کی دفعات لگاتے ہوئے مقدمے بنائے گئے ، اس طرح کا منظم مارچ کسی نے کم ہی دیکھا ہوگا ، خراش تک نہیں آئی ، میڈیا نے مکمل طور پر بلیک آوٹ کیا، اپنے قائد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کے دفاع کیلئے اپنے تما م تر ذرائع استعمال کریں گے ، انصاف کا دروازہ کھٹکٹائیں گے ، یہ کوئی ہم پر احسان نہیں ہے ، یہ حق ہمیں آئین نے دیاہے ۔ن لیگ والوں کی گرفتاری پر آواز اٹھانے کیلئے بلاول کا شکریہ ادا کرتاہوں ۔الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو انتخابی نتائج کو نہیں مانیں گے،شفاف الیکشن نہ ہوئے تو سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کریں گے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہناتھا کہ کل میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی لند ن سے واپس آئے اور ان کو لاہور ایئر پورٹ پر گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا اور ساتھ یہ بھی خبرآئی کہ ان کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہو گا یہ یقینا انصاف کی دھجیاں اڑانے کے متراد ف ہے کیونکہ جیل میں ٹرائل دہشتگردوں کا ہوتاہے اور 1999 کا نام نہاد جہاز کو ہائی جیک کرنے کا کیس تھا اس کابھی اوپن ٹرائل ہوا تھا ،لانڈھی جیل سے ہمیں ہر روز جب بھی تاریخ ہوتی تھی عدالت لایا جاتا تھا ،یہاں پر جیل میں ٹرائل کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے یہ قانون و آئین کے متصادم ہے اور یہ غلط فیصلہ ہے ، اس پر انتظامیہ اور حکومت کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے ، اس طرح کا فیصلہ یہ قوم کو کیا بتا رہے ہیں ۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب کا کہناتھاکہ کل جب میاں صاحب آئے اور اس وقت پورا لاہور سڑکوں پر تھا اور پورا پاکستان دیکھ رہا تھا کہ کس طرح لاکھوں لوگ سڑکوں پر لاہور ایئر پورٹ جانے کیلئے تڑپ رہے تھے ، ریلی میں تمام شعبوں کے لوگ شامل تھے ، اس میں لوگ اپنے بچوں کو لے کر آئے تھے ،ایک سمندر تھا عوام کا ، اگر میں یہ کہوں کہ میں اپنے سیاسی کریئر میں اتنی جوشیلی ریلی نہیں دیکھی تو یہ درست ہو گا ۔ ہمارے سینکڑوں ورکروں کو گرفتار کیا گیا ، راولپنڈی سے آنے والے کارواں کو روکا گیا ، امیر مقام پشاور سے بہت بڑا قافلہ لے کر آئے انہیں بھی روکا گیا ، میں نے اپیل کی تھی کہ یہ ریلی پرامن اور منظم ہو گی اور اللہ کے کرم ہے اور میں نوازشریف کے متوالوں کا شکریہ نہیں ادا کر سکتا کہ اتنا منظم جلوس شائد آپ نے بھی کم ہی دیکھا ہو گا ،ایک گملہ تک نہیں ٹوٹا ہو گا ،ہم نے اپنے وعدے کو پورا کیا ،لاکھوں لوگوں نے میری اپیل پر اس وعدے کو پورا کیا اور ایک خراش تک نہیں آنے دی ۔

شہبازشریف کا کہناتھا کہ جتنے بھی ریلی شرکاءتھے انہوں نے دیکھاکہ ایک شخص کا سر پھٹا تھا اور ایک داڑھی والے شخص کی قمیض خون سے بھری پڑی تھی ، جنہوں نے یہ زیادتی کی ہے وہ قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی ، جوڑے پل اور بھٹہ چوک میں ہزار وں کارکن نوازشریف کے استقبال کیلئے کھڑے تھے پولیس نے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ڈنڈے برسائے ،الٹا ایف آئی آر ان کے خلاف کاٹی گئی ، یہاں تک کہ ہماری تمام سینئر لیڈر شپ کے خلاف دہشتگردی کی دفعہ لگا کر مقدمہ درج کیا گیا ،جن میں مشاہد حسین بھی شامل ہیں جو بیچارے کسی کو ایک دھکا بھی نہیں مار سکتے ، سپیکر صاحب اور مریم اورنگریب شامل ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ یہ بڑا خطرناک آدمی ہے ، عمران خان کی بد قسمتی ہے کہ ان کو ہر بات دس سال بات پتا چلتی ہے ،بہت دیر ہو گئی مہرباں آتے آتے ۔ دوسری طرف پاکستان جو معمار ہیں جنہوں نے یہ عظیم الشان ریلی نکالی جس میں پاکستان کا ہر طبقہ شامل تھا ، میڈیا نے مکمل طور پر بلیک آوٹ کیا ، جنہوں نے اگست 2014 میں پاکستان کی معیشت کا دھڑن تختہ کر دیا انہیں میڈیا دن رات دکھاتا رہا ،اس دوران گالیاں دیں گئی ، جس طرح کی گفتگو و ہ سب دکھایا جاتا رہا۔ یہ کس طرح کا نظام ہے کس طرح کا پاکستان ہم چاہتے ہیں ، اور جب وہاں پر آگ لگائی گئیں اور پارلیمنٹ پر دھاوا بولا گیا اور عمران خان نے کہا چلو آگے بڑھو ، پی ٹی وی میں جس طرح توڑ پھوڑ کی گئی اسے میڈیا نے چوبیس گھنٹے دکھایا ۔

شہبازشریف کا کہناتھا کہ نوازشریف کے خلاف جو فیصلہ آیاہے ، وہ کہتاہے کہ نوازشریف کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکاہے ،اصل میں جو جھوٹے خان اور بہتان خان اور جس کی پارٹی کے اندر بدترین کرپٹ اور خائن لوگ بیٹھے ہیں ، میں ہوائی بات نہیں کرتا ٹھوس بات کرتاہوں ، جن کے خلاف نیب نہیں نیب کورٹس میں مقدمہ چل رہاہے اور جن کے خلاف سپریم کورٹ کے کمیشن کے فیصلے روز روشن کی طرح عیاں ہیں ،جنہوں نے اربوں کھربوں کی کرپشن کی ہے، جن کے جہازوں پر عمران خان سفرکرتے ہیں ۔ نیب نے خود کہا کہ نوازشریف کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت مہیا نہیں کیا گیا ،ان کے بارے میں کہا گیا کہ اب ان کا ٹرائل جیل میں ہوگا ، یہ بہت بڑا تضاد ہے ، کل پاکستان کے معماروں نے جلوس نکالا اور تمام چینلز نے اسے بائیکاٹ کیا ،میں اس کا کیا مطلب نکالوں؟

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو کہاں لے گئے ہیں، دن رات دہشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں ، الیکشن سرپر ہیں قیمتیں جانیں چلی گئیں ، لوگ اللہ کو پیارے ہو گئے ، پاکستان کے معماروں کی ریلی کو بلیک آوٹ کیا گیا۔ہم نے کل جو ریلی نکالی ہے وہ عظیم الشان ریلی تھی ، میں بار بار کہہ رہا تھا کہ شکریہ لوگو آپ نے میری اپیل کو سمجھا اور عمل کرتے ہوئے نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ۔الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو انتخابی نتائج کو نہیں مانیں گے،شفاف الیکشن نہ ہوئے تو سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کریں گے،الیکشن کمیشن نگراں حکومت،نیب کے حالیہ دنوں کے اقدامات کانوٹس لے،الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کیلیے تمام اقدامات اٹھائے، نگراں حکومت،نیب نے ناروا سلوک ،من مانیاں جاری رکھیں تو لڑینگے۔

شہباز شریف کا کہناتھا کہ میں عرض کرنا چاہتاہوں اب ہماری پارٹی تمام جو قانونی اور سیاسی حقوقوں کو استعمال کریں گے اور اپنے قائد اور ان کی صاحبزادی کے دفاع کیلئے اپنے تمام ذرائع کو استعمال کریں گے ،انصاف کے دروازے بار بار کھٹکٹائیں گے ، یہ ہم پر احسان نہیں ، آئین ہمیں اس کی اجازت دیتاہے ،پور ے ملک میں جہاں جہاں جلسے ہوں گے وہاں لوگ کالے بینڈ پہن کر پر امن احتجاج کریں گے کیونکہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔

مزید : اہم خبریں /قومی