سیراج رئیسانی کی دھماکے میں شہادت سے قبل جلسے میں کیا منظر تھا اور کونسے نعرے لگا ئے جارہے تھے ؟ خودکش حملے کی ویڈیو سامنے آ گئی

سیراج رئیسانی کی دھماکے میں شہادت سے قبل جلسے میں کیا منظر تھا اور کونسے نعرے ...
سیراج رئیسانی کی دھماکے میں شہادت سے قبل جلسے میں کیا منظر تھا اور کونسے نعرے لگا ئے جارہے تھے ؟ خودکش حملے کی ویڈیو سامنے آ گئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان کی شان اور محب وطن پاکستانی سراج رئیسانی گزشتہ روز دہشتگرد حملے میں شہید ہو گئے ہیں جبکہ اس دھماکے میں جلسے میں موجود 197 افراد بھی شہید ہو ئے اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوئے ،تاہم اب دھماکے کی ویڈیو سامنے آ گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہور رہی ہے جس کے آخر میں ایک دم دھماکہ ہوتاہے اور کمیرے میں روشنی سی آتی ہے پھر موبائل فون نیچے گر جاتاہے ۔

ویڈیو دیکھیں:

اوپر دی گئی ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں محب وطن پاکستانی سیراج رئیسانی جیسے ہی جلسے میں شرکت کیلئے آتے ہیں اور عوام سے خطاب کیلئے کھڑتے ہوتے ہیں تو سامنے بیٹھا لوگوں کو ہجوم ان کے احترام میں اپنی نشستوں سے کھڑا ہوجاتاہے اور نعرہ لگایا جاتاہے کہ ” نوابزدہ سیراج رئیسانی قدم بڑھاﺅ “ ، نعروں کے تھمنے کے بعد جیسے ہی سیراج رئیسانی اپنے خطاب کا آغاز بلوچستان کا نام لے کر کرتے ہیں تو عین اسی وقت زور دار دھماکہ ہوتاہے ۔

سراج خان رئیسانی شہید نے ہر موقع پر پاکستان کے ساتھ اپنی محبت کا کھل کر اظہار کیا اور ملک دشمن قوتوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے 14 اگست 2017 کے موقع پر کئی میٹر لمبا سبز ہلالی پرچم بھی تیار کرایا اور اسے لے کر مستونگ سے کوئٹہ گئے تاکہ ورلڈ ریکارڈ قائم کیا جاسکے۔

خیال رہے کہ سراج رئیسانی بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 35 سے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار تھے۔ جمعہ کے روز وہ مستونگ کے نواحی علاقے میں ایک انتخابی جلسے میں شریک تھے کہ اسی دوران خود کش حملہ ہوا جس میں ان سمیت 197 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔

مزید : قومی