سعودی شہزادہ ولید بن طلال کو ولی عہد محمد بن سلمان نے قید کر کے رکھا لیکن اب دونوں اکٹھے کیا کر رہے ہیں ؟ تازہ تصویر دیکھ کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

سعودی شہزادہ ولید بن طلال کو ولی عہد محمد بن سلمان نے قید کر کے رکھا لیکن اب ...
سعودی شہزادہ ولید بن طلال کو ولی عہد محمد بن سلمان نے قید کر کے رکھا لیکن اب دونوں اکٹھے کیا کر رہے ہیں ؟ تازہ تصویر دیکھ کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ سال نومبر میں سعودی حکومت نے درجنوں شہزادوں، وزراء اور مالدار کاروباری شخصیات کو گرفتار کر لیا تھا۔ تین ماہ سے زائد عرصے تک یہ افراد قید میں رہے اور مبینہ طور پر ان میں سے بعض کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ بالآخر اربوں ڈالر دے کر ان میں سے بیش تر رہا ہو گئے۔ مہینوں قید رہنے اور پھر اربوں ڈالر دے کر رہائی پانے والوں میں مشہور ترین سعودی بزنس میں ولید بن طلال کا نام بھی شامل تھا۔ جب ہر کوئی توقع کر رہا تھا کہ وہ سعودی حکمرانوں سے بے حد ناراض ہوں گے تو ایسے موقع پر انہوں نے ایک ایسا بیان جاری کر دیا ہے کہ جسے سننے والے دانتوں میں انگلیاں دبا کر رہ گئے ہیں۔

میل آن لائن کے مطابق پرنس ولید بن طلال نے اپنی قید اور اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ بد سلوکی پر غم و غصے کا اظہار کرنے کی بجائے سوشل میڈیا پر ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بغلگیر ہو کر مسکراتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بہت زور دار انداز میں یہ اعلان کیا ہے وہ سعودی ولی عہد کی جانب سے مملکت میں کی جانے والی اصلاحات کے سب سے بڑے حامی ہیں۔

قید سے رہائی کے بعد پرنس ولید بن طلال پہلی بار کھل کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’’اپنے بھائی عالی جاہ ولی عہد کے ساتھ ملاقات میرے لیے باعث عزت ہے، جس میں اقتصادی معاملات اور پرائیویٹ سیکٹر شعبے کے کردار اور مستقبل پر بات کی گئی۔کنگڈم کے ایچ سی اور اس کے متعلقہ اداروں کے ذریعے میں وژن 2030کا سب سے بڑا حامی ہوں۔ ‘‘

یاد رہے کہ وژن 2030ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا انتہائی اہم قرار دیا جانے والا اقتصادی و سماجی پراجیکٹ ہے جس کامقصد ایک جانب سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے آزاد کرنا اور دوسری جانب سعودی معاشرے کو قدامت پسندی سے نکال کر نئے دورے میں داخل کرنا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس