ملک دشمن عناصر بلوچستان میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیلا کر کے صوبے کو سیاسی عدم استحکام اور پسماندگی کی جانب دھکیلنے میں مصروف ہیں:جام کمال خان

ملک دشمن عناصر بلوچستان میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیلا کر کے صوبے کو سیاسی ...
ملک دشمن عناصر بلوچستان میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیلا کر کے صوبے کو سیاسی عدم استحکام اور پسماندگی کی جانب دھکیلنے میں مصروف ہیں:جام کمال خان

  

کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن )بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر جام کمال خان اور سیکرٹری جنرل منظور احمد کاکڑ نے کہا ہے کہ ملک دشمن عناصر بلوچستان میں ایک بار پھر خوف و ہراس کی فضاء قائم کر کے صوبے کو سیاسی عدم استحکام اور پسماندگی کی جانب دھکیلنے کی مذموم کوششوں میں مصروف عمل ہیں تاہم صوبے میں قیام امن کے لیے دی جانے والی عظیم قربانیوں کو رائیگاں نہیں ہونے دیں گے ،بلوچستان عوامی پارٹی پر حملہ ایک جماعت پر نہیں بلکہ جمہوری عمل پر حملہ ہے، میر سراج احمد رئیسانی ایک محب وطن سچے پاکستانی تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں اسی وطن عزیز کے لیے اپنے لخت جگر کی قربانی دی اور دشمن سے لڑتے ہوئے بالآخر اپنی جان کا نظرانہ بھی پیش کردیا۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی سیکرٹریٹ میں اظہار یکجہتی کے لیے آنے والے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ

میر سراج احمد رئیسانی ایک شخصیت ہی نہیں بلکہ اب ایک تاریخ ہیں جنہوں نے وطن عزیز پاکستان کی آبیاری اپنے لہو سے کی، بی اے پی اپنے شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس پختہ عزم کا ارادہ کرتی ہے کہ بلوچستان و پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور یکجہتی کے لیے شہداء کے مشن کو جاری و ساری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لازوال قربانیوں کے بعد بلوچستان میں قائم ہونے والے امن کو رائیگاں نہیں ہونے دیا جائے گا اور دہشت گردی کے عفریت کے مکمل خاتمے تک اس جدوجہد کو جاری و ساری رکھیں گے اور ہر طرح کے ذاتی مفادات کو بالا طاق رکھتے ہوئے صرف اور صرف بلوچستان اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی ہمارا مشن رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ مستونگ کے بعد سیاسی فضاء سوگوار ہے، بی اے پی نے تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا ہے ،اس کے بعد انتخابی سرگرمیوں کو نئی حکمت عملی کے تحت باہمی مشاورت سے شروع کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک بار پھر سیاسی سکوت طاری کرنے والوں کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہونگے، بلوچستان کو امن و سکون کا گہوارہ بنائیں گے اور اس طرح کے واقعات سے خوفزدہ ہوئے بغیر اپنے مشن و ویژن کے حصول کیلئے جدوجہد کو جاری و ساری رکھیں گے۔

مزید : قومی