ذرا سی بے ایمانی کی اجازت دیجئے

ذرا سی بے ایمانی کی اجازت دیجئے
 ذرا سی بے ایمانی کی اجازت دیجئے

  


بات اتنی سی تھی کہ پچھلے بیس سال کے برعکس ہمارا نواحی ڈاک خانہ ابکے کار ٹوکن وصول کرنے سے انکاری ہو گیا ہے۔ جمعہ کو نہا دھو کر شادمان مارکیٹ پہنچے تو پوسٹ ماسٹر نے مسکرا کر خیر مقدم تو کیا۔ ہاں، میرے ہاتھ میں رجسٹریشن کی کتاب دیکھ کر کہنے لگے کہ رواں سال سے اِس کام کے لئے آپ کو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفتر جانا پڑے گا۔

پوچھا ”کیا آپ این او سی یا کوئی ایسی دستاویز دیں گے جو موٹر وہیکل ٹیکس کی مد میں میری اب تک ادائیگیوں کی شہادت ہو؟“ فرمایا کہ آپ کی بُک کے آخر میں 30جون کو ختم ہونے والے مالی سال کی رسید لگی ہوئی ہے،جس کے ہوتے ہوئے کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔جمعہ کا وقت قریب تھا، اِس لئے اپنے شریف النفس بہنوئی کی طرح،جو ریٹائرڈ کرنل ہیں، یہ سوچتا ہوا گھر آ گیا کہ پوسٹ ماسٹر صاحب سے میٹنگ اچھی رہی۔

چلیں مَیں کرنل نہ سہی،لیکن ذمہ دار شہری کے طور پہ مجھے بھی ایک لمحے کو یہ خیال آیا کہ حکومت کو کار ٹوکن کی ادائیگی کا نظام بدل دینے کی ضرورت آخر کیوں پیش آئی۔پاکستان پوسٹ شاید وطن ِ عزیز کا واحد محکمہ ہے، جس سے عام لوگوں کو عام طور پہ کوئی شکایت نہیں ہوتی۔ کم از کم میرا تجربہ یہی ہے۔

گزشتہ مارچ میں بیٹی کی شادی پہ سو سے زیادہ دعوتی کارڈ دوستوں اور رشتہ داروں کو معمول کی ڈاک سے روانہ کئے تھے،جو ڈی ایچ اے لاہور کو چھوڑ کر سب کے سب منزلِ مقصود پہ پہنچ گئے۔ یوں جن عزیز و اقارب کے ساتھ تعلقات میں بال آ گیا اُن میں بیٹی کی ہم جماعت سہیلیاں ہی نہیں، بیگم صاحبہ کی سگی پھوپھی بھی شامل تھیں۔تحقیق اِس لئے نہ کی کہ کیا پتا یہ امتیازی پالیسی اُن دفاعی ترجیحات کا حصہ ہو جن سے قومی سلامتی کے پیش ِ نظر ہر کسی کو آگاہ نہیں کیا جا سکتا۔

آپ کو میری یہ دلیل کمزور، غیر منطقی اور بعید از قیاس لگی ہو گی جیسا کہ آج کل اونچی آواز میں دئے گئے اکثر دلائل کے ساتھ ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کار ٹوکن ڈاک خانہ کی بجائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس میں جمع کرانے کے تازہ حکم کے متعلق کچھ بھی کہتے ہوئے ایک خوف سا محسوس ہو رہا ہے۔

خاص کر یہ سوال کہ یار شاہد ملک، ٹوکن فیس کے طریق ِ کار میں تبدیلی سے اگر ٹیکسوں کے مجموعی اہداف پورے ہونے لگیں تو تمہیں، سابق گورنر سندھ عشرت العباد یا ممکنہ چیئرمین سینیٹ حاصل بزنجو کو اِس پہ کیا اعتراض ہے۔ جواب میں جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ مجھے ڈاک خانہ کی جگہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس جاتے ہوئے زیاد ہ ڈر لگتا ہے کہ وہاں یا تو اپنی جان پہچان کا آدمی تلاش کرنا پڑے گا یا وہ فالتو ادائیگی، جس کے لئے دفتری اہلکار خرچہ پانی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

آپ پوچھیں گے کہ ڈر کیسا۔ کیا کبھی کام نکلوانے کی خاطر تم نے کسی کو خرچہ پانی ادا نہیں کیا؟ خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہوں گا کہ خاص اِس نام سے کسی کو ادائیگی تو بس ایک ہی بار بی بی سی کے دفتر میں سٹوڈیو کوالٹی کی آواز یقینی بنانے والی آئی ایس ڈی این لائن لگوانے کے لئے کی تھی۔ آسانی یہ رہی کہ اِس حرکت کی ترغیب خود وصول کنندہ نے دی، جو لاہور کے ایک معروف ایکسچینج کے سپروائزر تھے۔

اب اگر آپ صدقہء جاریہ کے تصور سے آگاہ ہیں تو دفتر میں خصوصی فون لائن کی تنصیب کے بعد اگلے مرحلے میں میری مشکل کو سمجھنے کے لئے صدقہ ئ جاریہ کے اُلٹ کیفیت کو اپنے ذہن میں اتارنے کی کوشش کیجئے۔مراد ہے لائن کو چالو رکھنے کی خاطر وہ ماہوار ادائیگی جسے اخراجات کے رجسٹر میں ظاہر کرنے کے لئے آپ کے بھائی نے سروس چارجز (غیر رسمی) کی اصطلاح رائج کی۔

نئے پاکستان کا خواب شرمندہئ تعبیر کرنے کے لئے ہم جن اجزا کو یکجا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اُن کی افادیت سے انکار ا ممکن نہیں۔ لوگ نیک نیتی سے واجب الادا ٹیکس ادا کرنا شروع کر دیں تو سرکار کا خالی خزانہ وسائل سے مالا مال ہو سکتا ہے۔

پھر یہی وسائل تعلیم، صحت اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری پہ خرچ ہونے لگیں گے اور ہماری اجتماعی ترجیحات درست ہو جائیں گی۔ اِن میں خارجہ پالیسی کی ترجیحات بھی شامل ہیں، کیونکہ کوئی مانے یا نہ مانے، بیرونی دُنیا میں انہی لوگوں کی عزت ہوتی ہے جو اپنے گھر کے اندر رہتے ہوئے داخلی طور پہ مضبوط اور مستحکم ہوں۔ ’جہدی کوٹھی دانے، اوہدے کملے وی سیانے‘۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جسے افراد کے درمیان آپ گلی محلے کی زندگی میں بھی کارفرما دیکھتے ہیں اور اقوامِ عالم کے باہمی تعلقات میں بھی۔ تو پھر مسئلہ ہے کیا؟

مسئلہ یہ ہے کہ انسان کے ورلڈ ویو کا تعین محض اُن اجزا سے نہیں ہوتا جو اُسے پیدائشی طور پہ عطا ہوئے۔ آپ نے ایک گھر میں آنکھ کھولی، کسی نے آپ کو پالا پوسا، کوئی تعلیم و تربیت کی، پھر یہ بھی کہ آپ کے کنبے کو کس وسیلے سے رزق ملتا رہا۔ یہ عوامل شخصیت کی تعمیر پہ گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ قدروں کا نظام یہی کچھ ہے اور اِسی سے گرد و پیش کی سچائیاں الگ الگ زاویوں سے سمجھ میں آنے لگتی ہیں۔ آگے چل کر یہ بھی ہوتا ہے کہ وسائل کی نوعیت بدل گئی اور افرادِ خانہ کا نظامِ اقدار اوپر نیچے ہونے لگا۔

عام لوگوں کی بات کریں تو دیہات سے قصباتی معاشرے کی طرف حرکت، کاشتکارانہ معیشت سے شہری متوسط طبقے کی جانب رجوع، افسرانہ رہن سہن اور اُس سے جڑی ہوئی نظر نہ آنے والی سہولتیں۔ یہ سب آپ کے ورلڈ ویو کو بدل کرکے رکھ دیتی ہیں۔ میرے ساتھ تو یہی ہوا۔

شعور کی عمر کو پہنچے تو عبوری دارالحکومت راولپنڈی کی ایک نواحی کنٹونمنٹ میں صاف ستھرا سرکاری گھر موجود تھا جو چند سال میں چھوٹے بنگلے اور پھر بڑے بنگلے میں تبدیل ہو گیا۔ ہماری چھاؤنی کا علاقہ جو پہلے ضلع اٹک میں تھا دارالحکومت کے مضافات میں شامل کر دیا گیا کہ تنخواہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ سرکاری الاوئنس بھی مل سکیں۔ پھر صحت، تعلیم اور رہائش کا ایسا انتظام کہ کھڑکی کا شیشہ ٹوٹے یا دیوار میں کیل ٹھوکنا ہو تو بلڈنگ یارڈ کے فورمین سید گُل حیدر شاہ بس ایک فون کال کی دوری پہ ہوتے۔

اتنا سکون، اتنا تحفظ اور ایسا وقار کہ ایمانداری کی ایکٹنگ کبھی کسی افسر کے لئے مشکل کا باعث نہ بنی۔ اسی لئے تو ابا جان سرکاری کھاتے میں گھر پہ ملنے والے اخبارات کی ردی کی رقم باقاعدہ محکمانہ ویلفیئر فنڈ میں جمع کروا کر ماہانہ رسید حاصل کرتے اور اپنی مثالی راست بازی پہ خوش ہوتے۔

اِس نئی صورت حال میں کس کو یاد رہا کہ ہمارے چار جماعتیں پڑھے ہوئے دادا، جنہوں نے باپ کے انتقال پر دیہاڑی دار محنت کش کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا، میری نوجوانی تک اپنا رزق کس وسیلے سے حاصل کرتے رہے۔ کبھی سیالکوٹ کے چوک بیری والا میں دھات کا چھوٹا سا کارخانہ جہاں دیگچے اور کڑاہیاں بنتیں، کبھی محلہ اسلام پورہ میں فرنیچر کا کام جس کی سپلائی سرکاری دفتروں کو بھی جاتی، پھر قریبی دوست چچا اقبال کی شراکت میں ریلوے کے تعمیراتی ٹھیکے جن کی تکمیل پر سُننے میں آیا کہ اباجی کو گھاٹا پڑ گیا ہے۔ گھاٹا پڑنا کہتے کسے ہیں؟ کوئی ہم سے پوچھے۔ ابتدائی بچپن کی نیم بے ہوشی میں اپنی دادی اور ماں کے اُن زیورات کی جھلک یاد ہے جو گروی رکھے گئے اور تانبے کے وہ ظروف بھی جن میں سے ایک بہت بڑا برتن آج سے ساٹھ سال پہلے آٹھ سو روپے میں بکا تھا۔

آخری دنوں میں دادا کا کاروبار سیالکوٹ میونسپل کارپوریشن کی حدود میں سمٹ کر رہ گیا تھا، جس سے گھر چلتا رہا۔ مگر مجال ہے جو اُن کی رونقی طبیعت میں ظاہری طور پہ کوئی فرق آیا ہو۔بہت چھوٹے چھوٹے کام نکلتے، جیسے اسکولوں کے کلاس روم، کسی ڈسپنسری کی تعمیر، گلیاں پکی کرنے کے ٹھیکے۔بی اے کے طالب علم کے طور پر مَیں انہی کے پاس رہتا تھا، اِس لئے ٹنڈروں میں ہیرا پھیری دیکھنے کا موقع خوب ملا۔

یہ ہیرا پھیری پرسیجرل نوعیت کی تھی۔سارے کنٹریکٹر مہینے میں ایک مرتبہ باری باری کسی ایک کے ہاں میٹنگ کرتے، چائے پانی کا دور چلتا۔ ساتھ ہی بڑے آرام سے طے کر لیا جاتا کہ کون سا کام ٹھیکیدار احمد دین، بابا نواب دین، حاجی نعمت اللہ یا چچا محمد علی کو ملے گا اور کون کون سے دو احباب اِس کارِ خیر میں متعلقہ شخصیت کی امداد کے لئے زیادہ ریٹ کے ٹنڈر ڈالیں گے۔

یوں سمجھیں کہ محفوظ و مامون زندگی گزارنے والے میرے والد کی سوچ اُن ماڈرن رہنماؤں سے بہت ملتی جلتی تھی جو آج نیا پاکستان بنانے کی عظیم الشان تحریک چلا رہے ہیں۔ دادا کا ٹوٹا پھوٹا ورلڈ ویو اُن زمینی حقائق سے پھوٹا جن سے اپنی بقا کی جنگ میں وہ قدم قدم پہ دوچار ہوئے۔ اسی لئے تو جب مَیں نے ایک دفعہ کہا کہ اباجی آپ تو رشوتین دیتے ہیں تو انہوں نے کہا: ”بیٹا، انگریز کے وقت سے انجینئر کا تین پرسینٹ، اوور سیئر کے لئے ڈیڑھ پرسینٹ اور بِل کلرک کو آٹھ آنے سینکڑہ، یہ کمیشن تو سمجھو کہ کسی کی تنخواہ دینی ہے،جو آئس کریمیں اور کیک پیسٹریاں کھِلاتا ہوں، تو اس وجہ سے یہ میرے کام دوڑ دوڑ کر کرتے ہیں“۔ کار ٹوکن کی ڈاک خانے کی بجائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس میں ادائیگی شائد ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کی کوشش ہے، مگر اُسی طرح جیسے دادا مرحوم پر جو معمولی کاروباری آدمی تھے، میرے افسر ٹائپ ابا کا کلچر مسلط کیا جا رہا ہو۔

مزید : رائے /کالم