جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس واپس لینے میں ہی حکومت کی بہتری ہے،صدر سپریم کورٹ بار

  جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس واپس لینے میں ہی حکومت کی بہتری ہے،صدر ...

کوئٹہ (این این آئی)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کی تیسری سماعت کے موقع پر وکلاء کی جانب سے یکجہتی اور احتجاج سمیت یوم سیاہ اور پشاور میں وکلاء نمائندہ کنونشن کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کی نمائندہ بار ایسوسی ایشن اور کونسلز ان کے ساتھ یکجہتی میں آج سینہ تان کر کھڑے ہیں اور حکومت کی بدنیتی پر مبنی ریفرنس کو مسترد کرکے احتجاج کرکے اس کے واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہیں دوسری طرف جانب حکومتی نظام کے اندر جج کے نام پر ایسے گھناؤنے چہرے بھی بے نقاب ہوکر انجام کو پہنچ رہے ہیں ان کے حق میں پورے ملک سے ایک آواز بھی نہیں آئی یہی فرق ہے حق و سچ کے درمیان یعنی آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو گویا ہم کسی جج کے خلاف کسی کاروائی کے مخالف نہیں بلکہ ہم  جج کو اس کے فیصلوں کے تناظر میں پرکھ کر فیصلہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے ہم عدلیہ کی آزادی کے لئے کمر بستہ ہیں عدلیہ کی آزادی ہی بائیس کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہے اس لئے ہم فرد واحد کی بجائے عدلیہ کے ادارے کی آزادی کی آواز اٹھارہے ہیں جس میں ملک کے ہر طبقہ فکر کو اس سوچ کو پروان چڑھانا ھوگا اسی وجہ سے ہمارا مطالبہ ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کو واپس لیا جائے جس میں حکومت کی اپنی بہتری ہے جتنا اس میں تاخیر ہوگی حکومت کی وکٹیں گرتی جائیں گی اور آخر میں رسوائی اس کا مقدر ہوگی مگر اس سے انصاف کے حصول عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی سمیت قانون کی حکمرانی کی راہ میں رکاوٹیں ان کے گلے کا طوق بنیں گی اور آج کے حکمرانوں کو جنرل پرویز مشرف کی کیفیت اور انجام سے سبق سیکھنا چاہیے۔

صدر سپریم کور ٹ بار

مزید : صفحہ آخر