ملک بھرمیں شٹر ڈاؤن ہڑتال،مطالبات نہ مانے گئے تو اسلام آباد کی طرف مارچ ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کے سامنے دھرنا،غیر معینہ مدت کیلئے تالہ بندی کی کال دیں گے،تاجر تنظیموں کا اعلان

ملک بھرمیں شٹر ڈاؤن ہڑتال،مطالبات نہ مانے گئے تو اسلام آباد کی طرف مارچ ایف ...

لاہور،اسلام آباد،کراچی،پشاور،ملتان،فیصل آباد،ساہیوال، اوکاڑہ، سیالکوٹ،گجرات،گوجرانوالہ،قصور،شیخوپورہ،چونیاں،ہارون آباد،بہاولنگر،نارووال،رائیونڈ(نمائندگان، مانیٹرنگ ڈیسک)اضافی ٹیکس اور اس حوالے سے حکومتی پالیسی کیخلاف انجمن تاجران پاکستان کی کال پر ملک بھر کے تاجر وں کی جانب سے ہڑتال کی گئی جس کے باعث کراچی، لاہور اور پشاور اور کوئٹہ،اسلام آباد سمیت ملک بھر میں کاروباری مراکز اور مارکٹیں بند رہیں، تاجروں کی جانب سے مختلف مقامات پر احتجاجی کیمپ لگا کر مطالبات کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے، شٹر ڈاؤن ہڑتال کے باعث روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور مایوس ہو کر گھروں کو واپس لوٹ گئے،تاجر تنظیموں کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ مذاکرات کرے اگر ہمارے مطالبات جائز نہ ہوں تو انہیں رد کر دیا جائے اور اگر جائز ہوں تو انہیں مان لیں،سال 2019ء کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائیں گے،ہمارے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اسلام آباد کی طرف تاجر مارچ، ایف بی آر کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے دھرنا اور غیر معینہ مدت کیلئے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال بھی دے سکتے ہیں،جبکہ حکومت نے ہڑتال کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاجروں نے سیاسی جماعتوں کے چند آلہ کاروں کی ہڑتال کی کال کو یکسر مسترد کردیا،ملک مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے احتجاج اورہڑتالوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔تفصیلات کے مطابق آل پاکستان انجمن تاجران (نعیم میر گروپ)، آل پاکستان انجمن تاجران (اشرف بھٹی گروپ) سمیت دیگر تاجر تنظیموں کی جانب سے وفاقی بجٹ میں ٹیکسز کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال پر لاہور میں انار کلی، شاہ عالم، اعظم کلاتھ مارکیٹ،برانڈرتھ روڈ، رحمان گلیاں، لنڈا بازار، ہال روڈ، لوہامارکیٹ، مصری شاہ، بادامی باغ، بیڈن روڈ،موچی گیٹ، مصری شاہ لوہامارکیٹ،پیپر مارکیٹ گنپت روڈ،بال بیئرنگ مارکیٹ، پلاسٹک دانہ مارکیٹ، ہجویری مارکیٹ،کیمیکل مارکیٹ،نولکھا ٹائر مارکیٹ،سوہا بازار، اکبر ی منڈی،دل محمد روڈ، میکلوڈروڈ، منٹگمری روڈ، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، شاہدرہ، باٹا پور، جلو کی مارکیٹوں میں مکمل ہڑتال کی گئی جس کی وجہ سے کسی بھی طرح کی کاروباری سرگرمیاں نہ ہو سکیں۔ جبکہ الیکٹرونکس اشیاء کی عابد مارکیٹ، اچھرہ بازار، اندرون شہر بازار،مدینہ بازار ٹاؤن شپ، غازی روڈ، ماڈل ٹاؤن لنک روڈ، جوہرٹاؤن جی ون مارکیٹ، واپڈا ٹان مارکیٹ سمیت کئی چھوٹی مارکیٹیں اور بازار کھلے رہے۔شٹر ڈاؤن ہڑتال کی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور مایوسی کے عالم میں گھروں کو واپس لوٹ گئے۔منی مزدا ایسوسی ایشن کی جانب سے تاجروں کی کال پر ٹرانسپورٹ بند رکھی گئی۔تاجروں کی جانب سے مختلف مقامات پر احتجاجی کیمپ لگائے گئے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے جاتے رہے۔ پولیس کی جانب سے شر پسند عناصر سے نمٹنے کے لئے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے اور خصوصی طو رپر کھلے ہوئے کاروبار ی مراکز کے اطراف میں پیٹرولنگ کی جاتی رہی۔ نعیم میر نے دیگر تاجر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں،وزیراعظم ہماری بات سنیں،مطالبات جائز ہوں تو مانیں ورنہ رد کردیں۔ انہوں نے کہا کہ شٹر ڈاؤن ہڑتال حکومت کے ٹیکسوں کے خلاف تاجروں کا ریفرنڈم ہے، حکمرانوں کی تاجروں کو تقسیم کرنے کی کوشش ناکام ہو چکی ہے، حکومت نے ہڑتال کے نتیجے میں ہوش کے ناخن نہ لئے تو پھر آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے بڑی ہڑتال نہیں ہو سکی۔ آج کراچی سے خیبر تک کاروبار بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر سال 2019ء کے ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرائیں گے۔ ہم تین رکنی حکمت عملی پر بھی سوچ بچا رکر رہے ہیں۔ اگر ہمارے جائز مطالبات نہ مانے گئے تو اسلام آباد کی طرف تاجر مارچ، ایف بی آر کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے غیر معینہ مدت تک دھرنا اور غیر معینہ تک شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال بھی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جو دوست واپس آ گئے ہیں ہم انہیں برا نہیں کہتے، ان سے غلطی ہوئی ہے تو انہیں معاف کرتے ہیں۔ آل پاکستان انجمن تاجران (اشرف بھٹی گروپ) کے صدر اشرف بھٹی نے کہا کہ آج کی کامیاب ہڑتال سے ثابت ہو گیا ہے کہ تاجر متحد ہیں، تاجروں نے ٹیکس دینے سے کبھی بھی انکار نہیں کیا لیکن حالیہ بجٹ میں جس طرح کے ظالمانہ ٹیکسز کا نفاذ کیا گیا ہے اس سے تاجر وں کی کمر توڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔حکومت ہوش کے ناخن لے، ہڑتال سے اربوں کا نہیں کھربوں کا نقصان ہوتا ہے۔لبرٹی میں اشرف بھٹی گروپ کے تاجر رہنماؤں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے کمر توڑدی، وزیراعظم اپنی معاشی ٹیم تبدیل کریں، کامیاب ہڑتال پرتاجرتنظیموں کے شکرگزار ہیں۔ رائے ونڈ مین بازار اور ملحقہ مارکیٹوں میں علی الصبح جزوی ہڑتال کے بعد مارکیٹیں کھل گئیں،مرکزی انجمن تاجران کے صدر اور سابق لیگی چیئرمین میاں مبشر مونگا دکانیں بند کرانے کی جستجو میں لگے رہے،تحریک انصاف کا تاجر ونگ چوہدری جاوید مسعود کی قیادت میں متحرک رہا،دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی بھی دیکھنے میں آئی تاہم کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔پنجاب بھر کی طرح نارووال میں بھی تاجر برادری نے حکومت کی جانب سے عائد ٹیکسوں کے خلاف جزوی ہڑتال کی۔احتجاجی تاجروں کا کہنا تھا  کہ حکومت عائد کیے گئے ٹیکسوں کے فیصلوں پر نظر ثانی کرے انہیں واپس لے۔ان ٹیکسوں کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آئے گا  جس سے تاجروں سمیت عام آدمی بھی پس کر رہ جائے گا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب کے مختلف اضلاع، سندھ، خیبرپختونخوا ہ اور بلوچستان کے تمام بڑے شہروں میں تاجر برادری کی جانب سے ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف ہڑتال کی گئی اور احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق  کوئٹہ، نواب شاہ، بنوں، جھنگ، کراچی، پشاور، فیصل آباد، ملتان اور اسلام آباد سمیت تمام بڑے شہروں میں بازار مکمل بند اور دکانوں پر شٹر ڈان ہڑتال کے پوسٹر آویزاں رہے۔ملک کے کچھ حصوں میں نماز ظہر کے بعد چھوٹے بازار کھل گئے ہیں لیکن خریدار نہ ہونے کے برابر ہے۔کراچی میں انجمن تاجران، تاجر ایکشن کمیٹی اور صدر طارق روڈ الائنس کی کال پر مارکیٹیں اور چوٹی بڑی دکانیں بند رہیں۔سندھ میں ٹھٹھہ، نوابشاہ، حیدرآباد، گھارو، دھابے جی، گجو، مکلی اور میرپور ساکری میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی،ہڑتال کے باعث کراچی، حیدرآباد اور سکھر جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند رہی۔گوجرانوالہ، ساہیوال، ہڑپہ، چیچہ، وطنی، نوشہرو فیروز، وہاڑی، میاں چنوں راولپنڈی، خانیوال، غلہ منڈی اور  سبزی منڈی میں بھی بازار مکمل طور پر بند رہے،قصور، راجن پور اور شورکٹ میں بھی انجمن تاجران کی جانب سے ٹیکسز کیخلاف مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ملتان میں آل پاکستان انجمن تاجران، ٹریڈرزالائنس، چیمبر آف اسمال ٹریڈرز کی جانب سے ہڑتال کی کال پر کاروبار بند رہے۔ملتان کے علاقے گھنٹہ گھر،حسین آگاہی،گلگشت، ممتازآباد، گلشن مارکیٹ میں تمام دکانوں پر تالے لگے دکھائی دیئے،ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی تاجر برادری کی جانب سے ٹیکسزمیں اضافے کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی،نوشہرہ، چارسدہ، مہمند، سوات، ایبٹ آباد، ہری پور، ٹانک اور حویلیاں میں بھی پاکستان انجمن تاجران کی کال پر مارکیٹیں اور چھوٹی بڑے کاروباری مراکز بند رہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ٹیکسز کے خلاف تاجروں کی مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جس کے باعث آبپارہ، سپر، جناح سپر،م یلوڈی، کراچی کمپنی، جی ٹین اور جی الیون سمیت تمام کاروباری مراکز بند رہے۔ساہیوال میں آل پاکستان انجمن تاجران کی اپیل پر مکمل شٹر ڈاؤن چند دوکانوں کے سوا تمام کاروبار ٹھپ۔سبزی منڈیوں اورفروٹ منڈیوں کی بندش ہے سے عوام پریشان۔زرعی ادویات کے ڈیلرز کی دو کانیں کھلی رہیں۔مرکزیِ انجمن تاجران اوکاڑہ کی کال پرٹیکسز کے خلاف مکمل اوکاڑہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، جنرل سیکرٹری شیخ ریاض انورنے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ٹیکسوں کی تلوار سے تاجروں کا معاشی قتل کرنا شروع کر دیا ہے،ٹیکسوں کی بھر مار کے خلاف مرکزی انجمن تاجران کی جانب سے ہارون آباد میں بھر پور مکمل اور مثالی ہڑتال کی گئی غلہ منڈی،سبزی منڈی،مین بازار سمیت شہر بھر کے کاروباری مراکز مارکیٹیں و بازار بند رہے متعدد جگہ پر گلی محلہ میں قائم چھوٹی چھوٹی دوکانیں بھی شٹر ڈاون ہڑتال کا حصہ رہیں اور چائے کے کھوکھے تک بھی ہڑتال میں شامل ہوئے۔پنجاب بھر کی طرح حکومت کے ظالمانہ ٹیکس کے خلاف بہاولنگر میں بھی شٹر ڈاؤن جزوی ہڑتال رہی غلہ منڈی سمیت تمام چھوٹے بڑے  تجارتی مراکز بند رہے۔مین ڈھاباں بازار، انارکلی بازار، کالج روڈ،  موبائل مارکیٹ، اْردو بازار، تحصیل بازار سمیت مکمل شٹر ڈاون رہا حکومت کے ظالمانہ ٹیکس کے خلاف  شہر بھر میں تاجروں نے ہرتال کو کامیاب بنایا۔مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے سرپرست اعلیٰ الحاج شاہد رزاق سکا نے کہا ہے کہ ملک بھر میں تاریخی شٹرڈاؤن نے آئی ایم ایف کے بجٹ کو مسترد کردیا ہے۔ظالمانہ ٹیکسوں کے خاتمے تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ تاجروں کے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 12لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس چھوٹ بحال کی جائے اور سیلز انوائس پر شناختی کارڈز کا نمبردرج کرنے کی شرط ختم کی جائے۔1.5 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی بجائے

مزید : صفحہ اول