اخلاقی اقدار کے فروغ کیلئے جوائنٹ فورم تشکیل دینا ضروری:مفتی منیب الرحمٰن

اخلاقی اقدار کے فروغ کیلئے جوائنٹ فورم تشکیل دینا ضروری:مفتی منیب الرحمٰن

لاہور (جاویداقبال) رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اخلاقیات کے درس کو عام کیا جائے برداشت اخلاقیات اور اقدار ہمارا عظیم سرمایہ تھا وہ ہم سے چھینا جا رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو یہ قصہ پارینہ ہو جائے ہمیں چاہیے اعلی اخلاقی اقدار پر زور دیں اور ایک دوسرے کو اسکی تبلیغ کریں اور اس مقصد کیلئے ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جہاں مخلص دیانتدار اور اعلیٰ اقدار کے حامل افراد سر جوڑ کر بیٹھیں اس پلیٹ فارم میں سماجی،اقتصادی،معاشرتی،مذہبی،صحافتی وسیاسی افراد کو شامل کرنا چاہیے اس کیلئے روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی موزوں ترین شخصیت ہیں،پیپلزپارٹی سے قمر زمان کائرہ مولانا ضیاء الحق نقشبندی،اے این پی سے میاں افتخار حسین، پی ٹی آئی اور (ن) لیگ میں بھی اچھے لوگ موجود ہیں انکی خدمات بھی لی جاسکتی ہیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ پاکستان کی ایک خصوصی نشست میں کیا۔اس موقع پر روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی،ایڈیٹر عثمان مجیب شامی، معروف دانشور عطا ء الحق قاسمی،گروپ ایڈیٹر کوآرڈی نیشن ایثار رانا، جوائنٹ ایڈیٹر نعیم مصطفی،کالم نگار افضال ریان،رؤف طاہر،سید تاثیر مصطفی،معروف عالم دین ضیا ء الحق نقشبندی،عزیز احمد،مفتی محمد عبد اللطیف چشتی،علامہ عبدالحمید چشتی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں مفتی منیب الرحمن نے کہا سوشل میڈیا کا حالیہ کردار تباہ کن اس کی تو بات ہی نہ کریں۔یہ سچائی،اخلاقیات، شرافت کو تار تار کر رہا ہے اس میں بھی دہرا معیار ہے سوشل میڈیا بااختیار لوگوں کے بارے میں کوئی خبر بریک کرے یا کوئی پوسٹ یا ویڈیو شیئر کریں تو اسے بلاک کر دیا جاتا ہے اس کے برعکس مذہبی عقائد یا مقامات مقدسہ کے بارے میں اگر کوئی مواد شیئر کیا جاتا ہے تو اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور ایسا کرنیوالوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں وزیراعظم عمران خان کے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے بارے میں جب سوال کیا گیا تو اس کے جواب میں مفتی منیب الرحمن نے کہا عمران خان کا ریاست مدینہ سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں،خدا کرے کہ وہ جو کہہ رہے ہیں کرپائیں لیکن ابھی تک کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔میرا وزیراعظم کو مشورہ ہے وہ پاکستان کو ریاست مدینہ سے منسوب کرنے کے بجا ئے یہ کہیں کہ ہم پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے آگے ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ میں اچھے اخلاقیات اور اقدار جو ہماری روایات کاحصہ تھیں 

مزید : صفحہ اول