وفاقی حکومت کا پاک چین بزنس کونسل اور سی پیک اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ

وفاقی حکومت کا پاک چین بزنس کونسل اور سی پیک اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان اور چینی حکومتوں نے دونوں ممالک کے صنعتکاروں کے درمیان ہم آہنگی کے فروخت کے لیے پاک چین بزنس کونسل کے قیام کا فیصلہ کرلیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے بتایا کہ دونوں ممالک کی جانب سے سی پیک اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کا مظہر ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جارہا ہے جبکہ جلد گو ادر ماسٹر پلان مکمل کرلیا جائے گا۔خسرو بختیار نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے پاکستان نے ملک کے بڑے صنعتکاروں کے نام کونسل میں شامل کرنے کے لیے چین کو بھجوادیے ہیں جبکہ ان کی جانب سے بھی نام جلد موصول ہوجائیں گے۔گوادر بندرگاہ اور شہر کی ترقی سے متعلق بات کرتے ہوئے خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ گواردر کا ماسٹر پلان اپنے تکمیل کے مراحل میں ہے جسے جلد عوام کے سامنے لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ یہ شہر دنیا کے بہترین اسمارٹ پورٹ سٹی میں سے ایک بن کر ابھرے گا جبکہ یہ بندرگاہ خطے کی دیگر بندگاہوں سے بہتر ہوگی۔خسرو بتایا کہ سی پیک اتھارٹی کے قیام پر مشاورت کافی عرصے سے چل رہی تھی، تاہم اس کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس کا مقصد سی پیک کے معاملات کو مزید تیز کرنا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ حکومت پاکستان ریلوے کے نظام کی بہتری کے لیے ایم ایل ون کو اپ گریڈ کرنے کی خواہشمند ہے جس کی وجہ سے ملک میں مال بردار ٹرینوں اور مسافر ٹرینوں کی مسافت کا وقت مزید کم ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ میرے چینی ہم منصب اکتوبر میں پاکستان میں آرہے ہیں جہاں تمام امور پر ان سے بات چیت ہوگی۔

خسرو بختیار

مزید : صفحہ اول