ہیرو یا زیرو

ہیرو یا زیرو

  



عالمی کرکٹ کپ آج اختتام پذیر ہو جائے گا اور دونوں ٹیموں انگلینڈ و نیوزی لینڈ میں سے فاتح ٹیم تاریخ رقم کرے گی۔لیکن یہ ایسا ایونٹ تھا جو لوگوں کو کئی حوالوں سے مدتوں یاد رہے گا۔اس ایونٹ میں جہاں کئی دلچسپ میچز کا انعقاد ممکن ہوا وہیں ایسے میچز کا بھی انعقاد ہوا جن کے میچز سے دوسری ٹیموں کا اگلے مرحلے یعنی سیمی فائنل میں پہنچنے کا دارومدار تھا۔ لیکن خیر ان ٹیموں کو ایسی نوبت تک آنے کی کیا ضرورت پڑی جو ان کا انحصار میچز یا دعاؤں پر ہی منحصر رہا جبکہ ان کا رن ریٹ اس قابل ہی نا تھا کہ وہ پوائنٹ برابر ہونے پر بھی ڈائریکٹ سیمی فائنل کے لیے پرواز کرتیں۔اب جب آج اس بات کا فیصلہ ہو جانا ہے کہ فاتح کون سی ٹیم ہو گی تو اس پر اس ٹیم کو ایڈوانس میں مبارکباد پیش کرنا چاہوں گا جو فائنل ٹرافی اپنے نام کرے گی۔اس ایونٹ نے کئی کھلاڑیوں کو شہرت کی جلاء بخشی تو کئی کھلاڑی پس منظر کی جانب جانے کے لائق ٹھہرے اور کئی کھلاڑیوں نے اپنی شہرت کی اچھی طرح لاج رکھی۔بابر اعظم،محمد عامر ،روہت شرما۔ؤ،ولیمسن،وارنر،بیئر سٹو،بٹلر،مورگن،فنچ،مچل سٹارک یہ وہ کھلاڑی تھے جو اس ایونٹ سے بھی قبل بین الا اقوامی شہرت کے حامل تھے اور اب بھی ان کی شہرت داغدار نا ہو سکی۔جبکہ گرینڈ ہوم،جیمی نیشم،شاہین آفریدی،محمد شامی،آرچر،نے اپنی الگ سناخت بنائی۔فخر زمان،محمد حفیظ،شعیب ملک، مالینگا، میکسویل،سرفراز احمد،شاداب خان اور سیگر ٹیموں کے کھلاڑی اپنی بے پناہ شہرت میں اضافہ نا کر سکے اور ہیرو سے زیرو بننے تک کا سفر انہوں نے بڑی آسانی سے اس ایونٹ میں طے کیا۔

اب بات ہو جائے اصل ہیرو زکی جو ہر سطح پر،ہر محاذ پر،ہر ملک میں،اپنے پاکستان کا نام روشن کرتے آئے ہیں۔ ہمیں بابر اعظم،سرفراز احمد،فخر زمان،محمد عامر کے ساتھ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کے نام بھی یاد ہیں اور ان کے چہرے بھی لیکن ہم شاید ان کھلاڑیوں سے واقف بھی نہیں جو اس وطن کو دیار غیر میں جا کر ہمیشہ سے سرخرو کرتے آئے ہیں۔ہمیں ان کھلاڑیوں کے نام تو کیا چہرے بھی بڑی مشکل سے یاد ہوں گے۔بابر مسیح،اسجد اقبال،محمد بلال،خرم شہزاد یہ وہ نام ہیں جو نہ تو ہمارے ذہنوں میں نقش ہیں نہ ہماری قوم کی اکثریت ان سے واقف ہو گی۔پاکستان کے لیے ورلڈ سنوکر چمپئن شپ اور ایشین سنوکر چیمپئن شپ جیتنے والے یہ کھلاڑی سرخرو ہو کر وطن واپسی پر ایئر پورٹ پر شائقین کے ہجوم میں شائقین ہی لگ رہے تھے۔نہ تو ان کا استقبال کسی فیڈریشن نے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کیا ہو گا اور نہ ہی کوئی انہیں مبارکباد دینے کے لیے ائیر پورٹ پر پہنچا ہو گا۔کیونکہ ہم چڑھتے سورج کے پجاری ہیں اور کرکٹ ہمارے خون میں رچ،بس گئی ہے۔جس کے باعث ایسے سٹار ز کو نظر انداز کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔لیکن کیا یہ کھلاڑی پاکستانی نہیں؟کیا انہوں نے قوم کا سر فخر سے بلند نہیں کیا؟کیا یہ لوگ حکومتی سطح پر انعام کے حقدار نہیں؟ ایوان میں ان کے لیے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں تو وزیر اعظم کیوں انہیں بلا کر ملاقات کریں گے۔ کیوں انہیں بیش بہا انعام سے نوازیں گے۔کیوں یہ لوگ ملک کے لیے تمغے جیت کر اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں؟کیوں ہم جیسے لاکھوں،کروڑوں لوگ انہیں پہچاننے سے عاری ہیں؟کیوں ان کی شنوائی نہیں ہو سکتی؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ملنا ممکن ہی نہیں نا ممکن بھی ہیں۔ہمارے ہیروز کیا اسی داد کے مستحق ہیں؟آخر کیا وجہ ہے کہ ہم لوگ یا ہماری سنوکر فیڈریشن ان کھلاڑیوں کی مالی معاونت کرنے سے عاری ہے۔حالانکہ یہ وہ کھلاڑی ہیں جو اصل میں ہمارے ہیروز ہیں جنہیں اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے کی اتنی خوشی ہوتی ہے کہ یہ لوگ اپنے ساتھ قوم کے سلوک کو بھی بھول جاتے ہیں جو قوم ان کے ساتھ ہر بڑی جیت کے بعد کرتی ہے۔کیا یہ نہیں ہیں ہمارے ہیروز؟

مزید : رائے /کالم