کیا شہبازشریف کا خاندان برطانوی امداد کا پیسہ ہڑپ کر گیا؟ برطانوی اخبار کی خبر نے نیا ہنگامہ پربا کر دیا

کیا شہبازشریف کا خاندان برطانوی امداد کا پیسہ ہڑپ کر گیا؟ برطانوی اخبار کی ...
کیا شہبازشریف کا خاندان برطانوی امداد کا پیسہ ہڑپ کر گیا؟ برطانوی اخبار کی خبر نے نیا ہنگامہ پربا کر دیا

  


لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن )برطانیہ کی معروف ویب سائٹ ’’ ڈیلی میل ‘‘ کے صحافی ’’ ڈیوڈ روز‘‘ نے ایک آرٹیکل شائع کیا ہے جس میں شہبازشریف پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے  برطانیہ کی جانب سے صوبہ پنجاب کو زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئے دی گئی 500 ملین پاﺅنڈ کی رقم میں مبینہ خرد بر د کی  اور منی لانڈرنگ کے ذریعے  لاکھوں پاونڈز برطانیہ بھجوائے گئے ۔برطانوی حکام نے شہبازشریف کے دورحکومت میں دی جانے والی کروڑوں پاﺅنڈز کی امداد کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جو کہ غربت کے خاتمے کیلئے دی گئی تھی ۔آرٹیکل کے مطابق شہبازشریف کیلئے لاکھوں پاونڈ کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف آفتاب محمود نے کیاہے ۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک جانب عالمی ترقیاتی منصوبوں کے لیے امداد دینے والا برطانوی محکمہ DFID سابق وزیراعلیٰ پنجاب پر امدادی رقم کی بارش کرتا رہا تو دوسری جانب ان کا خاندان عوامی فنڈ کے ملین پاونڈز منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کرتے رہے۔تحقیقات کاروں کا دعویٰ ہے کہ کچھ رقم مبینہ طور پر ڈی ایف آئی ڈی کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد میں سے چرائی گئی ، امداد سے چوری کیے گئے لاکھوں پاﺅنڈ برمنگھم منتقل کیے گئے ۔گزشتہ شب شہبازشریف کے بیٹے سلیمان شہباز نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سیاسی انتقامی کارروائی ہے ، ابھی تک کوئی الزام بھی ثابت نہیں ہواہے ، کرپشن کا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے ۔2014 سے اب تک ڈی ایف ڈی آئی کی جانب سے پاکستان کو کسی بھی ملک سے زیادہ اب تک 463 ملین پاونڈ کی شرح سے سالانہ امداد دی گئی ہے ۔

برطانوی شہری آفتاب محمود نے ڈیلی میل کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے شہبازشریف کے خاندان کیلئے برمنگھم کے دفتر سے لاکھوں پاﺅنڈ کی منی لانڈرنگ کی اور یہ کا م اتنی باریک بینی سے کیا گیا کہ برطانوی حکام کی جانب سے بک کا جائزہ لینے والوں کو بھی اس کی بھنک نہیں لگ سکی ۔ڈیلی میل کا کہناتھاکہ گزشتہ سال شہبازشریف کے بھائی اور سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف برطانیہ میں 32 ملین پاﺅنڈ مالیت کے ایون فیلڈ فلیٹس کی خریداری پر مقدمہ چلایا گیا جس میں وہ مجرم ٹھہرے تاہم اس وقت وہ جیل میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔

ڈیلی میل کی جانب سے لکھے گئے آرٹیکل میں کہا گیاہے کہ قانونی دستاویزات مبینہ طور پر یہ کہتے ہیں شہبازشریف کے داماد کو زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئے 10 لاکھ پاﺅنڈ دیئے گئے ۔برطانوی حکام نے شہبازشریف کے دورحکومت میں دی جانے والی کروڑوں پاﺅنڈ کی امداد کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جو کہ غربت کے خاتمے کیلئے دی گئی تھی ۔چرائی گئی رقم سب سے پہلے برمنگھم بھیجی گئی جہاں سے مبینہ طور پر انہیں شہبازشریف کی فیملی کے بینک اکاﺅنٹس میں جمع کروایا گیا جن میں بارکلے اور ایس ایس بی سی کے بینک اکاﺅنٹس شامل ہیں ۔

ڈیلی میل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں منی لانڈرنگ کو روکنے کیلئے کارروائی کا آغاز کر دیاہے اور اس سے نمٹنے کیلئے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دیدی ہے ، جس کی سربراہی برطانیہ سے تعلیم یافتہ بیرسٹر کر رہے ہیں ، انہوں نے یہ مشاہدہ کیاہے کہ شہبازشریف کے خاندان کے اثاثوں میں دورا قتدار میں ہوشربا اضافہ ہوا اور کچھ مشکوک ٹرانزیکشنز بھی ہوئیں ۔شہبازشریف کے 2003 میں برطانیہ میں اثاثے ڈیڑھ لاکھ پاﺅنڈ تھے جو کہ بڑھ کر 20 کروڑ پاﺅنڈ تک جا پہنچے ہیں ، دیگر جائیدادوں کے ہمراہ شہبازشریف لاہور میں 53 ہزار سکویئر فٹ کا محل بھی رکھتے ہیں جہاں ان کی اپنی سیکیورٹی تعینات ہے ۔رپورٹ کے مطابق منی لانڈرنگ کی گئی رقم شہبازشریف کے بچوں ، بیوی اور داماد عمران علی کو دی گئی جبکہ شہبازشریف اس پیسے کے بینفشری تھے ۔

تحقیقات کاروں کا کہناہے کہ ہمارے سامنے یہ بات آئی کہ منظور احمد نامی شخص نے شہبازشریف کی بیوی نصرت ، بیٹے حمزہ اور سلیمان کو 13 پیمنٹس برمنگھم سے بھجوائیں جس کی مالیت 1.2 ملین پاﺅنڈ تھی ۔اس شخص کا پتا اس کے شناختی کارڈ سے لگایا گیا جس کا نمبر فارمز پر موجود تھا ، جو کہ ایک دیہی علاقے میں پاپڑ کی دکان چلاتاہے جس کے پاس کبھی بھی 1.2 ملین پاﺅنڈ نہیں تھے اور نہ ہی وہ کبھی انگلینڈ آیا ۔تحقیقات کاروں کے مطابق ایک اور شخص جس کی شناخت محبوب علی کے نام سے ہوئی ہے اس نے شہبازشریف کے خاندان کو برمنگھم سے 8 لاکھ 50 ہزار پاﺅنڈ ایچ ایس بی سی بینک کے ذریعے بھجوائے جو کہ لاہور کی گلیوں میں اشیاءفروخت کرکے اپنا گزر بسر کرتا ہے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں