یمنی شہری کو سعودی خاتون کی تصویر لینا اور سنیپ چیٹ پر رابطہ مہنگا پڑگیا

یمنی شہری کو سعودی خاتون کی تصویر لینا اور سنیپ چیٹ پر رابطہ مہنگا پڑگیا
یمنی شہری کو سعودی خاتون کی تصویر لینا اور سنیپ چیٹ پر رابطہ مہنگا پڑگیا

  


جدہ (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے شہر جدہ میں یمنی باشندے کو مارکیٹ میں سعودی خاتون کی تصویر لینا اور اس سے راہ و رسم بڑھانا مہنگا پڑگیا۔ایک مقامی عدالت میں جرم ثابت ہونے پر دس دن قید کی سزا کا حکم سنایا گیا ہے۔جدہ کی فوجداری عدالت میں ابتدائی سماعت کے بعد جرم ثابت ہونے پر یمنی کا سابقہ ریکارڈ دیکھتے ہوئے اسے محض دس دن کی قید کی سزاسنائی۔ ملزم کو ابتدائی سماعت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق بھی دیا۔سعودی عربی روزنامے عکاظ کی رپورٹ کے مطابق جدہ کی ایک مارکیٹ میں یمنی باشندے نے سعودی خاتون کی تصویر بنائی اور اس سے راہ رورسم بڑھانے کی غرض سے سنیپ چیٹ کے ذریعے اس سے رابطہ کیا۔ سعودی خاتون کے بھائی کو اس حرکت کا علم ہوا تو اس نے فوری طور پر پولیس کو طلب کر لیا جس نے یمنی کو حراست میں لے کر اس کے موبائل سیٹ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یمنی نے پولیس تحقیقات کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے خاتون کی تصویر اتاری اور اس سے رابطے کی کوشش کی بعدازاں عدالت میں وہ اپنے بیان سے مکر گیا۔ عکاظ اخبار کے مطابق پراسیکیوشن نے عدالت میں ملزم کا موبائل فون بھی پیش کیا گیا جس میں اس نے خاتون کی تصویر بنائی تھی جبکہ اس کا سنیپ چیٹ اکاﺅنٹ بھی پیش کیا گیا۔ قاضی نے سنیپ چیٹ پر کیے جانے والے رابطے کی تفصیلات دیکھتے ہوئے اس کے انکار کو تسلیم نہیں کیا۔عدالت نے پراسیکیوش سے ملزم کا سابقہ ریکارڈ طلب کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ملزم کے خلاف ماضی میں بھی کوئی غیر اخلاقی یا دیگر جرائم کے حوالے سے کوئی مقدمہ درج ہوا یا نہیں۔ملزم کا سابقہ ریکارڈ بے داغ تھا جس پر عدالت نے ملزم کو دس دن قید اور آئندہ اس قسم کی حرکت نہ کرنے کا تحریری حلف نامہ داخل کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ابتدائی سماعت کے فیصلے کے خلاف ملزم کو قانون کے مطابق 30 دن کے اندر اپیل دائر کر نے کا حق دیا جاتا ہے مگر ملزم نے اس حق کو استعمال نہیں کیا۔ عدالت نے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ ادارے کو ملزم کی گرفتاری کا حکم صادر کر دیا تاکہ ملزم کو گرفتار کر کے سزا پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔

مزید : عرب دنیا