سابق آئی جی پولیس ذوالفقار احمد چیمہ کی انگریزی زبان میں ’’ Straight Talk‘‘ کے نام سے نئی کتاب چھپ گئی

سابق آئی جی پولیس ذوالفقار احمد چیمہ کی انگریزی زبان میں ’’ Straight Talk‘‘ کے ...
سابق آئی جی پولیس ذوالفقار احمد چیمہ کی انگریزی زبان میں ’’ Straight Talk‘‘ کے نام سے نئی کتاب چھپ گئی

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف کالم نگار ، دانشور اور سابق آئی جی پولیس ذوالفقار احمد چیمہ کی انگریزی زبان میں Straight Talk" "کے نام سے نئی کتاب چھپ گئی ہے۔ ا س سے پہلے ان کی اردو میں دو کتابیں چھپ چکی ہیں جنہیں سول سرونٹس کے علاوہ عوامی اور ادبی حلقوں میں بھی بڑی پذیرائی ملی۔

سٹریٹ ٹاک میں ذوالفقار چیمہ نے لکھا ہے کہ  سول انتظامیہ کی حکومتی مداخلت سے آزادی اور گڈگورننس کے نام سے بڑا اہم مضمون شامل کیاگیاہے۔جس میں لکھا گیاہے کہ اس سلسلے میں عمران خا ن سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں مگراِس وقت پنجاب میں بیوروکریسی کو بدترین سیاسی مداخلت کا سامنا ہے۔ پہلی بار کسی نیک نام اور باضمیر سول سرونٹ نے سول انتظامیہ کو حکومتی مداخلت سے آزاد کرنے کی بات کی ہے انہوں نے واضح طورپر لکھاہے کہ سول سرونٹس کی تعنا تیوں اور تبدیلوں میں سول یا عسکر ی حکمرانوں کی مداخلت بانیء پاکستان کے واضح احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

مصنّف کا کہنا ہے کہ وکلاء تحریک کے نتیجے میں افتخار چوہدری تو بحال ہوگئے مگر ضلعی عدلیہ اپنی آزادی سے محروم ہوگئی وکلاء نے اسے مکمل طور پر یرغمال بنا لیا ہے۔ اس کی آزادی کیلئے ایک اور (وکلاء کی نہیں عوام کی) تحریک چلائی جانی چائیے۔

کتاب میں ایک اہم مضمون Rule of Law پر ہے اس میں تاریخی تناطر میں بتایا گیا ہے کہ آج تک ملک کا سپریم لاء توڑنے پر کسی کو سزا نہیں ملی اس لئے قانون توڑنے کا کلچر پروان چڑھا ہے۔ اس میں ہر شعبہء زندگی کے کردار کا تجزیہ کیاگیاہے۔

"Country Is Above Institutions"میں مصنّف کاکہنا ہے کہ سب سے زیادہ تقّدس اور اہمیّت اداروں کی نہیں ملک کی ہے۔ کتاب میں پاکستان کے بارے میں " انڈین سوچ "کے بارے میں بھی ایک معلومات افزا آرٹیکل شامل ہے۔ مصنّف نے کاروبارِ مملکت درست طریقے سے چلانے کیلئے ایک نئے عمرانی معاہدے کی اہمیّت پر زور دیا ہے۔اس میں مقفنہ، عدلیہ اور انتظامیہ میں اصلاح کیلئے قابلِ عمل تجاویز دی گئی ہیں۔

"New Charter of Pakistan" کے نا م سے لکھے گئے مضمون میں پارلیمانی جمہوریّت کی حمایت کی گئی ہے مگر موجودہ شکل والی جمہوریت کی نہیں اس میں موجودہ نظام کی اصلاح بلکہ Purification پر زور دیا گیاہے۔ اس آرٹیکل میں اعلیٰ عدلیہ میں جج صاحبان کی تعیناتی کے بارے میں بھی تجاویز دی گئی ہیں۔ مصنّف کا کہنا ہے کہ اس وقت اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کی تعیناتی صرف ایک شخص یعنی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ہاتھ میں ہے۔

کتاب میں تجویز کیا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کیلئے جوڈیشل سروس آف پاکستان کا اجراء کیاجائے۔جب تک یہ نہیں ہوتااسوقت تک جج صاحبان کا انتخاب ایک شخص کی بجائے سرچ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ ایک آئینی عدالت کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان پرریٹائرمنٹ کے بعد کسی قسم کا کوئی عدالتی یا انتظامی عہدہ لینے پر پابندی ہو۔

"Where to Shift America or Canada" اور"Response from Pakistani Diaspora" ملک کی محبّت میں گُند ھی ہوئی تحریریں ہیں اپنی والدہ مرحومہ اور جواں سال بھانجے اسامہ شہید کی جدائی پر مصنّف کے خونِ جگر سے لکھی ہوئی تحریر یں بھی کتاب کا حصّہ ہیں۔ "Is God a Peer" اور”قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر“ بھی دلچسپ اور مفید آرٹیکل ہیں، ایک آرٹیکل میں کرپشن کے کینسر کا علاج بھی بتایا گیا ہے۔ مصنّف نے اپنے عظیم اُستاد شیخ امتیاز علی کوLiving Lengend قرار دیکر ان پر ایک خوبصورت آرٹیکل لکھاہے۔ سفر نامے اورشگفتہ اورمزاحیہ تحریریں بھی کتاب میں شامل ہیں۔ ”احمد فراز اپنے شہر میں“ کے علاوہ کیڈٹ کا لج حسن ابدال اور’قلعہء شبقدر کی یادیں‘ بہت دلچسپ مضامین ہیں۔

ایک آرٹیکل میں وزیراعظم عمران خان سے سب سے پہلی اور حالیہ ملاقات کے بارے میں دلچسپ تفصیلات دی گئی ہیں۔ کتاب میں تھانہ کلچر کی تبدیلی اور پولیس کے جدید اور موثّر نظام کے بارے میں بھی مفید مضامین شامل ہیں۔اور پولیسنگ میں عوامی شراکت کے بہترین نمونے کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ نوجوان سول سرونٹس،ٹیچر، سیاسی ورکرز،پولیس افسران،وکلاء اور طلباو طالبات کیلئے اس کتاب میں بڑا مفید اور دلچسپ مواد ہے۔

مزید : ادب وثقافت