شہداء کشمیر اور اقوام متحدہ کی رپورٹ

شہداء کشمیر اور اقوام متحدہ کی رپورٹ
شہداء کشمیر اور اقوام متحدہ کی رپورٹ

  

13جولائی کشمیر کی تحریکِ آزادی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔یہی وہ دن ہے جو ملتِ کشمیر کو ایک ولولہ تازہ دے کربا طل کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہو ئی دیوار بنا تاہے ۔یہی وہ دن ہے جو مجاہد اور ملا کی اذان میں فرق سمجھاتا اور شاہین کی پروازکو کرگس کی پرواز سے ممیز کرتا ہے ۔

13جولائی 1931ء کو چشمِ فلک نے وہ نظارہ دیکھا جس نے تاریخ کے ہر انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔ جموں و کشمیر میں ابھرنے والی اولین تحریکِ آزادی کے قائد عبدالقدیر کوگرفتار کر لیا گیا اور ریاست کے کا لے قوانین کو بروئے کار لا تےہو ئے ان کی پھا نسی کا حکم نا مہ صادر ہو گیا جس پر احتجاج کرنے کے لیے آزادی کے پروانے جموں جیل کے سامنے اکٹھے ہو گئے اور اس ظالما نہ اقدام پر شدید احتجا ج کیا ۔یہ احتجا ج اتنا شدید تھا کہ ڈوگرہ انتظا میہ بے بس ہو نے لگی ۔اس بے بسی کے عالم میں انہوں نے دہلی میں بیٹھے ہو ئے انگریز سامراج سے فوجی مدد طلب کی جس کے نتیجے میں ایک طرف تو ڈوگرہ ریاست کی مسلح پولیس اہلکار اور انگریز سامراج کے ظالم سپا ہی تھے تو دوسری طرف ایمان اور یقین سے سرشار نہتے کشمیری ۔وہ احتجاج جو دن چڑھے شروع ہوا تھا اس میں لوگوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی گئی یہاں تک کہ نما زِ ظہر کا وقت ہو گیا ۔ظالم انتظامیہ اپنی ایڑی چوڑی کا زور لگا رہی تھی کہ اس احتجاج کو جلد از جلد ختم کر دیا جا ئے لیکن لوگوں کی تعدادمیں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے جذبات میں بھی شدت آتی جا رہی تھی ۔

پھر کیا تھا وہ افراد جنہوں نے ڈوگرہ راج اور انگریز سامراج کےسامنے جھکنے سے انکار کیا تھا اپنے خالق و ما لک کے سامنے سجدہ ریز ہو نے کے لیے تیار کھڑے تھے ۔مجمعے کے ایک طرف سے اللہ اکبر کی آواز بلند ہو ئی تو یوں محسوس ہوا جیسے اللہ کی کبریا ئی کا نعرہ مستانہ فضا میں بلند ہو گیا ہے ۔سامراج کے ایجنٹوں کو مجمع اپنے قابو سے با ہر ہوتا ہوا دکھا ئی دیا تو انہوں نے نہتے مؤذن پر گولی چلا دی ۔ان کا خیال تھا کہ ایک فرد کے گرنے سے اذان کا سلسلہ رک جا ئے گا لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا

سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے را ئی

بیگا نہ کرتی ہے دونوں جہاں سے

عجب چیز ہے لذتِ آشنا ئی

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

پھر صورتِ حال یہ تھی کہ ایک کے بعد دوسرا جا نبا ز مؤذن آگے بڑھتا اور پہلے شہید نے جہاں سے اذان کا سلسلہ منقطع کیا تھا وہیں سے شروع کر دیتا ۔سینے پر گو لی کھاتا ، شہادت کا بلند رتبہ پاتا اور جنت کی ابدی وادیوں میں پہنچ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ۔اس طرح اذان کے آخری جملے کے ادا ہو نے تک 22افراد جامِ شہا دت نوش کر چکے تھے ۔اس واقعے نے مقبوضہ کشمیر کے طول و عرض میں تحریکِ آزادی کو ایک نئی زندگی بخش دی اور یہ دن کشمیر کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا ہوا موجود ہے ۔

یہی دن ہے جس نے کشمیر کی پوری ملت کو بھارت کے ظلم و جبر کے مقابلے میں ایک چٹان کی طرح کھڑا کر دیا اس دن سے لے کر آج تک شہیدوں کے قافلے اپنی منزل کی طرف رواں ہیں پھر وہ مرحلہ بھی آتا ہے جب ٹھیک جولائی ہی کے مہینے میں برہان وانی کی شکل میں ایک اور جانبا ز اپنی جوانی تحریکِ آزادی کو پیش کرتا ہے تو کشمیر کے طول و عرض میں ایک نیا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے ۔بھارت اپنے اوچھے ہتھکنڈے استعما ل کرتا ہے اور ظلم جبر کے ہر سلسلے کو آزما تا ہے ۔نہتے عوام پر پیلٹ گنز کا استعما ل بے دردی کے ساتھ کرتا ہے ۔ان کی بصارت کو تو چھین لیا جا تا ہے لیکن ان کی بصیرت پہلے سے بھی زیا دہ تیز ہو جا تی ہے ۔وہ عوام کو جس قدر دبانے کی کوشش کرتا ہے اس سے کہیں زیا دہ بڑھ کر ان کے جذبا ت میں شدت آ جا تی ہے ۔

یہ ان کی قربانیوں کا صدقہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کا ادارہ بھی چیخ چیخ کر دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں ہو نے والی پامالیوں کے با رے میں آگا ہ کر رہا ہے۔ 1981ء سے اب تک چار لا کھ سے زیا دہ افراد انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کیے جا چکے ہیں جب کہ ستر ہزار کشمیری لا پتہ ہیں۔ دو لاکھ افراد کو انتہا ئی بے دردی کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنا یا گیا جس کے نتیجے میں ان کی اکثریت زندگی بھر کی معذوری کا شکا ر ہو چکی ہے ۔پندرہ ہزار بے نام قبروں کا انکشاف اس قدر اندوہنا ک ہے کہ معلوم ہی نہیں کہ ان قبروں میں کو ن دفن ہے۔ اس صورتِ حال کا سب سے زیا دہ خوفناک پہلو سات ہزار سےزیا دہ نیم بیوائیں ہیں جن کے شوہر لمبے عرصے سے غائب کر دیے گئے ہیں جن کے با رے میں کچھ معلو م نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا شہید کر دیے گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطا بق وادی کی دس لاکھ کنا ل اراضی پر بھا رتی فوج نا جا ئز طور پر قابض ہے۔

اس ساری صورتِ حال میں ہماری ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیا دہ بڑھ جا تی ہیں ۔سب سے پہلے حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان حقائق کی روشنی میں حقوقِ انسانی کی ان شدید پامالیوں کو عالمی سطح پر اٹھائے ۔اس لیے کہ بھارت کے مظالم کی یہ داستانیں حقوقِ انسانی کی سب سے مستند عالمی شہرت یافتہ تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل بارہا پیش کر چکی ہے جن کے مطا بق بھارت نے خود انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو با رہا عا لمی فورمز پر تسلیم کیا ہے ۔یہی وہ موقع ہے جسے استعما ل کرتے ہو ئے پاکستان بھارت کا اصل چہرہ اقوامِ عالم کے سامنے لا سکتا ہے اور ثابت کر سکتا ہے کہ بھا رت اس صدی کا سب سے بڑا جارح ہے جس کے ہاتھ لا کھوں بے گنا ہ افراد کے خون سے رنگے ہو ئے ہیں ،جس نے اپنے درندہ صفت فوجیوں کو قتلِ عام کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جو خواتین کی اجتما عی آ بروریزی اور معصوم بچوں کے قتلِ عام جسے گھنا ؤنے جرائم میں ملوث ہے ۔

کمشنر براۓ انسانی حقوق اقوام متحدہ کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں بھی بھارت کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم کو بے نقاب کرتے ہوۓبھارتی جمہوریت کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے ۔کشمیری گزشتہ72 برسوں میں اپنے حق خود رادیت کے حصول کیلے بھارتی مظالم کے سامنے سینہ سپر ہیں۔اقوام متحدہ ان کے حق کو تسلیم کر چکا ہے۔

حالیہ جاری کردہ رپورٹ میں بھی اس بات کا کھل کر اظہار کرتے ہوۓ بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس تسلیم شدہ حق کا احترام کرئے لیکن کیا کریں خطے کے امن کو داؤ پر لگانے والی بھارتی سرکار نے کبھی بھی اسی قرار داروں کی پرواہ نہیں کی اور کالے قوانین کے ذریعےکشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی پرامن جدوجہد کرنے والوں کی عددی اکثریت کو بھی بھارت اقلیت میں بدل رہا ہے اور ممنوعہ کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کر چکا ہے۔

کسی بھی بچے،بوڑھے ،جوان ،مرد اور عورت کی جان کا کوئی تحفظ نہیں حتی کہ کمسن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے روح فرسا واقعات بھی پیش آچُکے ہیں ۔انسانیت سے عاری جنونی ہندوؤں کی طرف سے نہ صرف یہ کہ مقبوضہ کشمیر بلکہ سارے بھارت میں مسلمانوں کی بالخصوص اور دیگر اقلیتوں کی بالعموم جان ومال اور عزت و آبرو کی پامالی ایک عام سی بات ہے۔دنیا کو اس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

مزید :

بلاگ -