کشمیری ماؤں کی استقامت

کشمیری ماؤں کی استقامت

  

ایک صحابی جن کے پاس کپڑے میں ایک پرندے کے بچے تھے، رسول اللہؐ کے پاس آئے اور بولے کہ ان کی ماں تمام راستہ ان کے سر پر منڈلاتی رہی ہے اور ابھی تک موجود ہے۔ آپؐ نے صحابی سے فرمایا کہ وہ بچوں کو اسی جھاڑی میں چھوڑ کر ائیں جہاں سے انہیں پکڑا ہے۔ (مشکوٰۃ /ابوداؤد)

ایک سفر کے دوران کسی شخص نے پرندے کے گھونسلے سے اس کے انڈے اٹھا لئے۔ پرندے کی درد بھری آوازیں اور مسلسل پھڑپھڑاہٹ نے رسول اللہؐ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ آپؐ نے اس شخص سے فرمایاکہ پرندے کے انڈے واپس ان کی جگہ پر رکھ کر آئے۔(صحیح بخاری)

ماں

ماں ورگا گھن چھانواں بوٹا

مینوں نظر نہ آئے

لے کے جس توں چھان اُدھاری

رب نے سورگ بنائے

باقی کُل دنیا دے بُوٹے

جڑ سُکیاں مُرجھاندے

ایپر پُھلّاں دے مُرجھایاں

ایہہ بُوٹا سُک جائے

ان کشمیری ماؤں کا دُکھ، بچوں سے جدا کئے گئے پرندوں کی بے چینی سے کہیں زیادہ ہے کہ جن کے جوان بیٹے مقبوضہ وادی میں غاصب بھارتی فوج کے ہاتھوں نہ صرف شہید کئے جا رہے ہیں بلکہ انہیں بے نام قبروں کی نذر کیا جا رہا ہے۔ کیا کیفیت ہو گی، ان کشمیری عورتوں کی کہ جو اپنے بیٹوں، بھائیوں اور خاوندوں سے جدا کرکے مسلسل کرب کی بھٹی میں ڈال دی گئی ہیں۔

پروفیسر موہن سنگھ دیوانہ نے اپنی پنجابی شاعری کی کتاب ساڈے پُتر میں ممتا کا ایک رخ دکھایا ہے۔ یہ ایسا پودا ہے کہ جو اپنے پھولوں کے مرجھانے سے سوکھ جاتا ہے۔ اس مختصر سی نظم کے تناظرمیں کشمیری خواتین کی ممتا پر غور کیا جائے تو دلوں میں کتنے ہی زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔ برہان وانی اور اس جیسے کتنے ہی نوجوانوں کی شہادت کا صدمہ کشمیری مائیں کس طرح اپنے قلوب پر سہتی ہیں، صرف وہی بتا سکتی ہیں۔ برہان وانی شہید کی والدہ میمونہ مظفر اپنے بیٹے کو یاد کرتی رہتی ہیں۔ دیکھو تو بھارتی غاصبوں نے ان گنت پھول مَسل دیئے ہیں کہ جن کی خوشبو نے وادی کی فضا کو معطر کرنا تھا اور جس کی ہواؤں میں اب صرف لہو کی بُو پھیلی ہوئی ہے۔

مقبوضہ وادی کشمیر میں جبری لاک ڈاؤن اور قتل و غارت کا سلسلہ صرف 5اگست 2019ء ہی سے جاری نہیں ہے بلکہ جنت نظیر وادی کے لوگ عرصہ 70برس سے ظلم کے جہنم میں سُلگ رہے ہیں۔

دیکھا جائے تو تقسیم برصغیر کے وقت نوزائیدہ مملکت پاکستان کے عین قلب میں برطانوی استعمار نے ہندو سازشی ذہن کے ساتھ مل کر ایسا خنجر پیوست کر دیا تھا کہ جس کے لہو کے چھینٹے ہمارے چہرے کو آج بھی گہرے سرخ رنگ سے رنگ رہے ہیں۔ بھارت کشمیر پر غاصبانہ قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ہندو فسطائی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادیں اور لائن آف کنٹرول پر تعینات مبصروں کی رپورٹیں جوتی کی نوک پر رکھتی ہے۔ مقبوضہ وادی کشمیر میں آٹھ لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے۔ بھانت بھانت کی بولیوں والے جانور نما فوجی وادی میں دندناتے پھرتے ہیں۔ اذیت رسانی، قتل و غارت گری اور آبرو ریزی ان فوجیوں کا مشعلہ ہے۔ ان فوجیوں کے لئے جوان لڑکیوں، خواتین اور بوڑھی عورتوں میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔ انسانی شکل میں ان حیوانوں کی کرتوتوں سے ساری دنیا آگاہ ہے لیکن عالمی ضمیر ہے کہ ہنوز سویا پڑا ہے۔ اکا دکا احتجاجی صدا بلند ہوتی اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔

میں بات کر رہی تھی ان ماؤں، بیٹیوں، بہنوں اور سہاگنوں کی کہ جن کے گھر کے افراد نام نہاد تلاشی کے دوران اٹھائے گئے اور جو لوٹ کر نہ آئے۔ کس قدر صبر اور حوصلہ ہے ان خواتین کا اور کس درجہ امید وہ لئے ہوئے ہیں کہ ان کے چہیتے کبھی نہ کبھی واپس آئیں گے۔ اس حقیقت سے آگاہی کے باوجود کہ جانے والوں کی معطر نعشیں وادی کے نامعلوم مقامات پر رزقِ خاک ہو چکی ہیں۔

مقبوضہ وادیء کشمیر کی عورتیں خاموش طبع، محنتی اور گھریلو امور میں الجھی رہنے والی ہیں۔ تاہم آزادی کے شور و غل نے ان کے دلوں میں ایسا ارتعاش پیدا کر دیا ہے کہ وہ خاموشی اور طابع فرمائی کے حصار سے نکل کر بپھری ہوئی شیرنیاں بن چکی ہیں، سینہ کوبی کے بجائے انہوں نے ہاتھوں میں پتھر تھام لئے ہیں اور جان و مال اور عزت و آبرو کے نقصان کو آسمانی آزمائش کے طور پر لے لیا ہے۔ میں حیران ہوتی ہوں کشمیری عورتوں کی جرأت و استقامت پر۔ اپنے پیاروں کی میتوں پر گو وہ خون کے آنسو روتی ہیں لیکن ان کی استقامت میں ضعف پیدا نہیں ہوا۔ اپنے مردوں کے ماتھے چوم کر وہ انہیں مقتل کو بھیجتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ ان کا واسطہ کم ظرف،بزدل، اذیت رساں اور جانور نما دشمن سے ہے لیکن مجبور ہیں کہ ان کی فطرت شیر صفت ہے اور شیر گھات لگا کر نہیں کھلے میں مقابلہ کرتا ہے۔

میں وادی کے حریت پسندوں کے لئے دعاگو ہوں، بالخصوص وادی کی خواتین کے لئے جو ایک طویل عرصہ سے ظلم و جبر کا سامنا کررہی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ ایک نہ ایک دن وادی کے آسمان پر آزادی کا سورج طلوع ہو گا اور اس کی روشن و منور کرنیں ان شہداء کو سلام پیش کریں گی جو بے نام قبروں میں مدفون ہیں۔

مقبوضہ وادیء کشمیر میں آزادی کی جدوجہد میں اب تیزی ہی تیزی ہے۔ وادی کے رہنے والے موت سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ آزادی ان ہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو موت کے خوف سے بے نیاز ہوں۔ مقبوضہ وادی کے مرد و زن اور بچوں کے نعروں میں وہ گونج پیدا ہو چکی ہے جو راہ کی چٹانوں کو بکھیرتی اور غلامی کی زنجیروں کو توڑتی ہے۔

حکومت پاکستان عالمی ضمیر کو مسلسل جھنجھوڑتی اور شیطان ہمسایہ ملک کے فسطائی ارادوں اور ہتھکنڈوں سے دنیا کو آگاہ کرتی رہی ہے۔ مجھے امید ہے کہ دنیا ایک دن ہماری صدائے بلند پر کان دھرے گی اور ان کشمیری ماؤں کے بے آواز احتجاج کا عملی نوٹس لے گی جو وادی کے تاریک ماحول میں اپنے لہو سے مشعلیں روشن کئے ہوئے ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -