عورت کے لئے پابندیاں کیوں؟

عورت کے لئے پابندیاں کیوں؟

  

عورت کو صنف نازک کہا جاتا ہے اور کیوں نہ کہا جائے، اس کو اللہ تعالیٰ نے نزاکت، حسن اور دلفریب اداؤں سے بخشا ہے، عورت کسی سے کم نہیں یہی وجہ ہے کہ دُنیا بھر میں زندگی کے ہر اہم شعبوں میں وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہے، عورت کے مختلف روپ ہیں وہ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی بن کر معاشرے کی ذمہ داریاں اُٹھاتی ہے، کیونکہ جب ایک عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو مختلف لوگ اس کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔

آج کل کے اس دور میں جہاں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں اور اپنی ذمہ دار داری کو زیادہ بہتر انداز سے نبھاتی ہیں جیسے کہ ارفع کریم(مرحومہ) اور ملالہ یوسف زئی جیسی لڑکیاں، ہمارے لئے قابل رشک ہے، لیکن اس کے باوجود بھی کچھ گھرانے ایسے ہیں جہاں پر عورتوں کا بنیادی حق یعنی حصولِ تعلیم کے دروازے ان پر بند کر دیئے جاتے ہیں، کیونکہ اسے مردوں کے معاشرے میں نکل کر اُن کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگر خوش قسمتی سے وہ اپنی تعلیم مکمل کریں تو پھر گھر کے بڑے اور والدین اس کے مستقبل میں رکاوٹ بن جاتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک عورت عزت کی علامت ہوتی ہے اور اگر وہ گھر سے باہر نکل کر کام کرنا چاہے گی تو اس سے اُن کی عزت پر حرف آئے گا اور لوگ طرح طرح کی باتیں کریں گے۔

ہمارے معاشرے کو ان فرسودہ سوچوں نے جکڑا ہوا ہے اور معاشرے میں عورت کو محدود کر دیا ہے۔ عورت کو چار دیواری میں ہی محفوظ سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عورت کو بھی معاشرے میں وہی مقام حاصل ہے جو مرد کو ہے۔ اگر پہلے دور میں عورت کو کام کرنے کی اجازت تھی تو پھر اب معاشرے میں عورت پر پابندی کیوں؟

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -