ہمارے سیاست دان……!

ہمارے سیاست دان……!

  

ہم کس قدر بے حس ہو چکے ہیں اس کا اندازہ ہمیں خود بھی نہیں ہوتا اور حا لت بے حسی میں اپنے زوال کے قریب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ زیادہ دور سے نہیں تو صرف 1988ء سے اب تک اپنی اسی بے حسی کو دیکھ لیں کبھی ہم کسی کے زندہ باد کے نعرے اور پھر کسی کے مردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ یہ بے حسی کی بدترین مثال نہیں تو کیا ہے،جو لوگ اس ملک اور اس کے عوام کے نام پر شعبدہ بازی کرتے ہیں وہ اس وطن عزیز میں اپنا علاج تک کروانا گوارہ نہیں سمجھتے، علاج تو درکنار اپنے بچوں کو پڑھانا یا کاروبار کرنا گوارہ نہیں کرتے۔ پاکستان کا پانی تک پینا گوارہ نہیں کرتے اور جیوے جیوے اور آوے ہی آوے!!…… کب تک ہم ان سیاسی اداکاروں کے لئے نعرے لگاتے رہیں گے۔ آخر کب تک؟……

حکمرانوں کی ایک پوری بالغ کھیپ ہمیں رسوا کرنے کے لئے بالکل تیار ہے، جس کا جب دل چاہے گا پٹرول مہنگا کر دے گا، کیونکہ ان کو پٹرول خریدنا نہیں پڑتا۔ جب چاہا بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ شروع کر دی، کیونکہ یہ اعلیٰ طبقہ تو کسی بھی حالت میں لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہے۔ خدا کے لئے اب ان لوگوں سے جان چھڑائیں، جن کی وجہ سے ہم سب کو ذہنی کوفت اور مہنگائی بموں کا سامنا ہے۔ جب ان ظالموں کا دل چاہتا ہے ہمیں حقیر و کم تر سمجھ کر سکیورٹی کے نام پر شدید سردی یاگرمی کے دنوں میں ٹریفک جام میں کھڑا کر کے ہمارا تمسخر اڑاتے ہیں۔ جب دل چاہتا ہے مہنگائی کر کے غریبوں کا جینا محال کر دیتے ہیں۔ آنے سے پہلے بڑے بڑے وعدے اور دعوے کئے جاتے ہیں، لیکن ان کو پورا نہیں کیا جاتا۔ یہی و جہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جرائم اور بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں عقل سلیم عطا کرے اور ہمارا حامی وناصر ہو۔ آمین

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -