بڑھتی آبادی، وسائل پر مزید دباؤ!

بڑھتی آبادی، وسائل پر مزید دباؤ!

  

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق آبادی کے لحاظ سے پاکستان اب دنیا کا پانچواں ملک بن گیا ہے۔ چین، بھارت، امریکہ اور انڈونیشیا کے بعد اب پاکستان کا نمبر ہے۔ پہلے یہ چھٹا نمبر تھا، لیکن آبادی کے پھیلاؤ کے باعث مزید اوپر آ گیا کہ یہاں روزانہ ساڑھے سولہ ہزار بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ یہ رپورٹ عالمی یوم آبادی کے موقع پر جاری کی گئی۔ اس کے مطابق اس وقت آبادی 22کروڑ 10لاکھ ہو چکی اور یوں ہمارے ملک نے برازیل کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔جولائی 1950ء سے جولائی 2020ء تک آبادی میں چھ گنا اضافہ ہوا اور شرح افزائش 2.8فیصد ہے، اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ چونکا دینے والی ہے اور اگر اسی رفتار سے یہ سلسلہ جاری رہا تو یقینا وسائل پر بوجھ اور پڑے گا اور غربت بھی بڑھے گی، صدرمملکت عارف علوی نے اسے آبادی بم قرار دے کر کنٹرول کرنے کی ہدائت اور اپیل کی ہے،قیام پاکستان کے بعد تین سال تک آبادی میں اضافے کے باوجود یہاں قریباً پونے چار کروڑ افراد تھے، جو اب 22کروڑ سے زیادہ ہیں، اس عرصہ میں پاکستان میں بہبود آبادی پروگرام کے تحت اس بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہوئی لیکن اس میں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی۔ پاکستان کے وسائل بڑھتی ہ وئی آبادی کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہیں۔ اگر اس اضافے کو روکنے کے لئے موثر اور تیز تر اقدامات نہ کئے گئے تو ہماری مشکلات میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ بنگلہ دیش جب مشرقی پاکستان تھا تو اس کی آبادی مغربی پاکستان سے زائد تھی لیکن آج آبادی کے لحاظ سے پاکستان اس سے کہیں آگے بڑھ گیا ہے۔ بنگلہ دیش میں علمائے کرام کے تعاون سے موثر حکمت عملی تیار کرکے کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ پاکستان میں ارباب اقتدار بے حس اور بے نیاز دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں خواب غفلت سے بیدار ہو کر ”آبادی بم“کو ڈیفیوز کرنے کے لئے فی الفور کمرہمت باندھنا ہوگی کہ مستقبل کی بہتر صورت گری کے لئے یہ ناگزیر ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -