کشمیریوں کو آزادی کب ملے گی؟

کشمیریوں کو آزادی کب ملے گی؟
کشمیریوں کو آزادی کب ملے گی؟

  

پاکستان،بھارت کے سنگم پر پاکستان کے شمال مشرق میں واقع جنت نظیر خطہ کو وادیئ کو کشمیر کہا جاتا ہے۔ یہ مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل علاقہ تھا،لیکن اب ہندوستان طاقت کے ذریعے تقریباً ایک سال سے مقبوضہ کشمیر میں لاقانونیت غیر قانونی طریقوں سے یہاں ہندوؤں کو آباد کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر سے مسلمانوں کی اکثریت کو کم کیا جا سکے۔وادیئ کشمیر کے دیدہ زیب حُسن،قدرتی مناظر بکھیرنے والے سرسبز و شاداب پہاڑوں والے علاقے کو عالمی شہرت حاصل ہے۔ہندوستان نے بدمعاشی کرتے ہوئے طاقت کے زور پر1947ء میں زبردستی کشمیر پر قبضہ کر لیا تھا۔ آج تقریباً 72 سال گزرنے کے بعد بھی کشمیری مسلمان اپنے حق ِ خود ارادیت کے لئے خون کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ہندوستانی ظلم و ستم کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر جیل نما علاقہ بن گیا ہے، کشمیری سرحدیں پاکستان اور چین سے ملتی ہیں۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔مسئلہ کشمیر تقسیم ہندوستان سے چلا آر ہا ہے، کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تین خطرناک جنگیں ہو چکی ہیں اس کے علاوہ آئے دن مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کی سرحد پر جس کو لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے گولہ باری کا تبادلہ جاری رہتا ہے۔ہندوستان کی طرف سے تقریباً روز پاکستان کے سرحدی دیہاتی علاقوں پر گولہ باری ہوتی ہے،جس کا پاکستان کو جواب دینا پڑتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کو کے عوام ریاست جموں کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں،جبکہ ہندوستان بندوقوں کے زور پر مقبوضہ کشمیر کے علاقے کو اپنے قبضے میں رکھنا چاہتاہے، حق ِ خود ارادیت کے لئے کشمیری مسلمان نسل در نسل 72سال سے ظلم برداشت کر رہے ہیں۔تقسیم ہند کے دوران جموں وکشمیر برطانوی راج کے زیر تسلط ایک ریاست ہوتا تھا، جس کی آبادی95فیصد مسلمان تھی،جب ہندوستان کو تقسیم کیا جا رہا تھا تو جن علاقوں میں مسلمان اکثریت تھی وہ علاقے مسلمانوں کو دے دیئے جائیں اور جس جگہ علاقے میں ہندوؤں کی اکثریت ہے وہ علاقہ ہندوؤں کو دے دیں۔ کشمیر میں اکثریت آبادی تو مسلمانوں کی تھی،لیکن یہاں کا حکمران ایک سکھ تھا اور سکھ حکمران کی ذاتی خواہش تھی کہ کشمیر بھارت کے ساتھ جائے، لیکن تحریک پاکستان کے رہنماؤں نے اس بات کو مسترد کر دیا، آج بھی پاکستان کا ماننا ہے کہ کشمیر میں مسلمان زیادہ ہیں اِس لئے یہ پاکستان کا حصہ ہے،لیکن بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے کہ نہیں، سکھ حکمران بھارت کے ساتھ الحاق چاہتا تھا اِس لئے یہ بھارت کا حصہ ہے۔ مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں افراد زخمی جن میں بچے عورتیں بزرگ شامل ہیں اور ہزاروں افراد حراستی مراکز میں کئی سال سے داد رسی کے منتظر ہیں۔

گزشتہ عرصے میں ہزاروں لاپتہ افراد اور شہدا کی قبروں، انسانی حقوق کی تنظیموں کی نشاندہی کے باوجود ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی، بلکہ مسلمانوں کو شہید کرنے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔حریت کانفرنس کے لیڈروں کی مسلسل نظر بندیاں، اور بھارت انسانی حقوق پامال کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو بیرون ملک خصوصاً پاکستان میں اپنے عزیزوں رشتہ داروں کو ٹیلیفون کرنے کی سہولت سے محروم رکھا جا رہا ہے، نام نہاد دُنیا کی بڑی جمہوریت کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ایک کروڑ سے زائد کشمیری عوام کو بندوق کی نوک پر غلام بنا کر رکھا گیا ہے۔بھارت نے کشمیری مسلمانوں کے حقوق سلب کررکھے ہیں،امریکہ اگر واقعی اس خطے میں امن کا خواہش مند ہے دُنیا میں جمہوریت کی حمایت کرتا ہے تو اسے بھارت کو کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کے مجبور کرنا ہو گا تاکہ مظلوم کشمیریوں کو حق ِ خود ارادیت حاصل ہو، جب تک ہندوستان کشمیریوں کو ان کی خواہش کے مطابق حق ِ خود ارادیت کا حق نہیں دے گا اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ بھارت کا وزیراعظم مودی صوبہ گجرات سے مسلمانوں کو شہید کرتا ہوا اب کشمیر کے مظلوم کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔

پاکستان ہر حال میں اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، مذہبی اور جو ممکن مدد کر سکتا ہے وہ کرتارہے گا۔ پاکستان ہر حال میں اپنے مسلمان کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے، چاہے جس قدر بھی قربانیاں دینی پڑیں دیں گے اور اپنے بھائیوں کی مدد کرتے رہیں گے۔ پاکستان کی قومی پالیسی میں کشمیر صفحہ اول پر ہے ملک کی سلامتی اور بقاء کشمیر کی آزادی کے ساتھ وابستہ ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت خصوصاً وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ساری دُنیا کی حکومتوں کے ساتھ رابطے قائم کر رکھے ہیں تاکہ ہندوستان کشمیر کے ایشو کو دبانے کے لئے پاکستان پر جارحیت کی جرأت نہ کرے۔ بہرحال عالمی طاقتوں کو بھارت کو مجبور کرنا پڑے گا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم و ستم بند کرے اور مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی آباد کاری کو روکے،بھارت کے وزیراعظم مودی مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کے لئے بھارت سے ہندوؤں کو آباد کرنے کے لئے ان کو رہائشی کاغذات دے رہا ہے جو کہ امن کے لئے خطرناک منصوبہ ہے۔

بھارت جس طرح مرضی بڑے سے بڑے ظلم و ستم کر لے، لیکن جب تک کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بنے گا اس خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی مقبوضہ جموں وکشمیر میں ممکن ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوم نے بے شمار قربانیاں دینے اور اپنے بچوں اور عورتوں پر ظلم و ستم سہتے ہوئے بھارت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے، بلکہ روز بروز مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے جذبہ حریت میں اضافہ ہو رہا ہے اور کشمیری مسلمانوں میں حوصلہ پیدا ہو رہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت دُنیا کے ہر فورم پر اور دُنیا کے انصاف پسند ممالک کے سامنے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ لڑ رہی ہے اور کشمیری مسلمانوں کو اس سے حوصلہ ملاہے اور اِن شاء اللہ بہت جلدی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے حق ِ خود ارادیت حاصل ہونے والا ہے اور بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -