ایس بی سی اے کی سرپرستی: فاطمہ ہائیٹس میں غیر قانونی تعمیرات جاری

  ایس بی سی اے کی سرپرستی: فاطمہ ہائیٹس میں غیر قانونی تعمیرات جاری

  

کراچی (رپورٹ /ندیم آرائیں)کراچی کے علاقے سولجربازار میں واقع فاطمہ ہائیٹس نامی عمارت کی چھت پر بلڈر کی جانب سے تعمیر کیے گئے غیر قانونی فلیٹس پر ایس بی سی اے حکام نے ”سب اچھا ہے“ کی رپورٹ دے دی۔ادارے کی انسپکشن ٹیم نے فلیٹس کی تعمیر کو نظرانداز کرتے ہوئے حکام بالا کو چھت پر صرف دو کمرے موجود ہونے اور ان پر کچھ افراد کے رہائش پذیر ہونے کے رپورٹ دے کر فائل بند کردی۔ایس بی سی اے کی مجرمانہ بے حسی پر عمارت کے مکین شدید تشویش کا شکار ہوگئے۔وزیر بلدیات سندھ اور ڈی جی ایس بی سی اے سے فوری طور پرغیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے سولجر بازار میں نشتر پارک کے بالمقابل پلاٹ نمبر JM1-167میں بلڈر کی جانب سے فاطمہ ہائیٹس کے نام سے چار منزلہ عمارت میں فلیٹس تعمیر کیے گئے ہیں،جن کو فروخت کردیا گیا۔ایس بی سی اے کی جانب سے اس پلاٹ پر گرانڈ پلس فور تعمیرات کی اجازت دی گئی تھی تاہم عمارت میں موجود فلیٹس آباد ہونے کے بعد بلڈر نے عمارت کی چھت پر مزید غیر قانونی تعمیراتی کام شروع کرادیااور وہاں چار فلیٹس تعمیر کرانے شروع کردیئے جن کی تکمیل آخری مراحل میں ہے۔ذرائع نے بتایا کہ فلیٹ نمبر 404کے اوپر اسی طرز کا ایک اور فلیٹ تعمیر کردیا گیا ہے،جس میں دو کمرے،ڈرائنگ اور ڈائننگ موجود ہیں۔ایسے ہی 405کی چھت پر دو دکمرے اور باقی سارا صحن بنادیا گیا ہے۔اسی طرح 401پر چار کمرے بناکر چھوڑدیئے گئے ہیں۔جبکہ 404فلیٹ نمبر والوں نے اپنا کچھ سامان اوپر رکھا ہے۔ایس بی سی اے کی انسپکشن ٹیم جب بھی آتی ہے انہیں کہا جاتا ہے کہ یہاں پر لوگ رہائش پذیر ہیں۔بلڈر کے اس عمل کے خلاف فاطمہ ہائیٹس میں رہائش پذیر افراد سخت تشویش کا شکار ہوگئے ہیں اور انہوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ غیرقانونی تعمیرات سے ان کی اور ان کے اہل خانہ کی زندگیاں دا پر لگ گئی ہیں کیونکہ شہر میں تواتر کے ساتھ اس طرح واقعات پیش آرہے ہیں جس میں ایس بی سی اے کی ملی بھگت سے تعمیر کی گئی کثیر المنزلہ عمارتیں ناقص میٹریل کی وجہ سے زمین بوس ہورہی ہیں۔فلیٹ مالکان نے اپنے خدشات سے بلڈر کو آگاہ تو اس نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیں،جس کے بعد عمارت میں رہائش پذیر افراد نے چیف سیکرٹری سندھ اور ڈی جی ایس بی سی اے کے نام درخواستیں ارسال کیں،جس میں اس غیر قانونی عمل کی نشاندہی کی گئی تھی۔روزنامہ پاکستان میں خبر کی اشاعت کے بعد متعلقہ ایس بی سی اے افسر نے ایک انسپکشن ٹیم اس غیر قانونی تعمیرات کا جائزہ لینے کے لیے مذکورہ جگہ پر بھیجی تاہم حیرت انگیز طور پر اس ٹیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ چھت کسی قسم کے کوئی فلیٹس تعمیر نہیں کیے گئے ہیں بلکہ وہاں چند کمرے تعمیر ہیں،جن میں لوگ رہائش پذیر ہیں اس لیے ان کو خالی نہیں کرایا جاسکتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس رپورٹ کے بعد فاطمہ ہائیٹس کے رہائشی سخت تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں اور انہیں اندیشہ ہے کہ یہ غیر قانونی تعمیرات کسی بڑ ے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔عمارت کے مکینوں نے وزیر بلدیات سندھ اور ڈ ی جی ایس بی سی اے سے اپیل کی ہے کہ بلڈر کے غیرقانونی عمل اور ایس بی سی اے کے افسران کی مجرمانہ بے حسی کا نوٹس لیے جائے اور عمارت میں قائم غیرقانونی تعمیرات کو فوری منہدم کیا جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -