سینئر بھارتی سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی، جنگ بندی کی خلا ف ورزیوں پر شدید احتجاج

  سینئر بھارتی سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی، جنگ بندی کی خلا ف ورزیوں پر شدید ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان نے بھارتی فو ج کہ جانب سے مسلسل جنگ بندی معاہدوں کی خلاف وزری اور ایل اوسی پر بلا اشتعال فائرنگ پر سینئربھارتی سفارتکار کی دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا اور بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ بے حسی پر مبنی یہ اقدامات 2003 کے جنگ بندی معاہدے، انسانی عظمت ووقار، بین الاقوامی انسانی حقوق و قوانین اور پیشہ وارنہ فوجی طرز عمل کے برعکس اور اس کی صریحا خلاف ورزی ہے،بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں ایل او سی پر کشیدگی بڑھانے کی مسلسل بھارتی کوششوں کا مظہر اور خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر کشیدگی میں اضافہ کے ذریعے بھارت اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔ پاکستان نے بھارت پر زوردیا کہ 2003 کے جنگ بندی سمجھوتے کا احترام کرے، تازہ ترین اور اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کی دانستہ خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائے، ایل اوسی اور ورکنگ باونڈری پر امن قائم کرے،بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تفویض کردہ اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔ پیر کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی سفارتخانے کے سینئر سفارتکار کو پیر کودفتر خارجہ طلب کرکے قابض بھارتی فوج کی جانب سے 12 جولائی 2020 کو لائن آف کنٹرول (ایل۔او۔سی) پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور اس کے نتیجے میں چھ بے گناہ شہریوں کے زخمی ہونے پر شدیداحتجاج کیا گیا۔ قابض بھارتی افواج کی جانب سے بلااشتعال اور بلاامتیاز فائرنگ کے نتیجے میں 12 جولائی 2020 کو ایل۔او۔سی کے رکھ چکری اور کھوئی رٹہ سیکٹرز میں 57 سالہ نسیمہ بی بی زوجہ لعل محمد، 35 سالہ شبنم بی بی زوجہ محمد ظہیر، 11 سالہ ادیبہ دختر محمد ظہیر، 20 سالہ عادل حمید ولد محمد حمید، 32 سالہ پرویز ولد محمد دین اور 35 سالہ جاوید حسین والد محمد حسین شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کا تعلق کرنی، ججوٹ بہادر اور جگل پال دیہات سے ہے۔ ترجمان کے مطابق بھارتی قابض فوج ایل۔او۔سی اور ورکنگ۔باونڈری پر عام شہری آبادی کو آرٹلری اور بھاری وخودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنارہی ہے۔ رواں برس 2020میں بھارت نے 1659 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جس کے نتیجے میں 14 بے گناہ شہری شہید اور 129شدید زخمی ہوئے۔ قابض بھارتی افواج کی جانب سے بے گناہ شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔ بھارت پر زوردیا گیا کہ بے حسی پر مبنی یہ اقدامات 2003 کے جنگ بندی معاہدے، انسانی عظمت ووقار، بین الاقوامی انسانی حقوق و قوانین اور پیشہ وارنہ فوجی طرز عمل کے برعکس اور اس کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں ایل او سی پر کشیدگی بڑھانے کی مسلسل بھارتی کوششوں کا مظہر اور خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر کشیدگی میں اضافہ کے ذریعے بھارت اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارت پر زوردیا کہ 2003 کے جنگ بندی سمجھوتے کا احترام کرے، تازہ ترین اور اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کی دانستہ خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائے، ایل اوسی اور ورکنگ باونڈری پر امن قائم کرے۔ زوردیاگیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تفویض کردہ اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔

دفتر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -