شوگر کمیشن نے شفاف رپورٹ پیش کی، حکومت کو کارروائی کی آزادی دینے کی ضرورت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

  شوگر کمیشن نے شفاف رپورٹ پیش کی، حکومت کو کارروائی کی آزادی دینے کی ضرورت ...

  

اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کیخلاف شوگر ملز کی درخواست مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے 35 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شوگر انکوائری کمیشن نے جرات کیساتھ ایک شفاف رپورٹ پیش کی،شوگر انکوائری کے معاملے پر حکومت کو کارروائی کی آزادی دینے کی ضرورت ہے۔ہم بطور جج بنیادی ضروریات فراہم نہ ہونے پر عوام کو جوابدہ نہیں۔حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہیں، انہیں ذمہ داروں کا تعین کرنے کی آزادی ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے چینی بحران ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔شوگر ملز کا بنیادی نقطہ شہرت کو نقصان پہنچائے جانے کا ہے۔انکوائری کمیشن نے ایک صوبے کے موجود چیف ایگزیکٹو سے متعلق بھی بات کی۔حکومتی شخصیات کا نام کمیشن رپورٹ میں موجود ہے، شہرت کی فکر حکومت کو ہونی چائیے۔ شوگر ملز کے وکلا ء نے بھارتی اور کینیڈا کی عدالتوں کے فیصلے حوالے کے طور پر پیش کئے۔بھارتی عدالتوں کے فیصلے انکوائری ایکٹ 1952 سے متعلق تھے۔پاکستان میں انکوائری کمیشن ایکٹ 2017 آنے کی بعد بھارتی عدلیہ کے فیصلے غیر متعلقہ ہیں۔ عدالت نے کہا ہے کہ چینی ایک بنیادی ضرورت کی چیز ہے جس کا تعلق براہ راست عوام کے ساتھ ہے۔عدالتی مداخلت سے عوام کی مشکلات دور کرنے میں تاخیر ہو گی ۔

تفصیلی فیصلہ

مزید :

صفحہ اول -