عزیر بلوچ جے آئی ٹی معاملہ، قومی اسمبلی میں پھر ہنگامہ آرائی

عزیر بلوچ جے آئی ٹی معاملہ، قومی اسمبلی میں پھر ہنگامہ آرائی

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں)قومی اسمبلی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے ظلم وستم کیخلاف مذمتی اور وفاق کے زیر انتظام سرکاری جامعات میں قرآن پاک تر جمہ کیساتھ پڑھانیکی قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کر لیں۔قرار دادوں کے متن میں کہا گیا یہ ایوان یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر کشمیریوں میں بھارتی حکومت کے ظلم وستم کی بھرپور مذمت،پاکستان کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی کی بھرپور سفارتی و سیاسی مدد کا اظہار،اقوام متحدہ اور اقوام عالم سے کشمیر میں جاری بھارتی قتل وغارت وظلم کو رکوانے کا مطالبہ کرتا ہے، وفاق کے زیر انتظام تمام جامعات میں قرآن پاک ترجمہ کیساتھ پڑھانے کا لازمی اہتمام کیا جائے تا کہ قرآنی تعلیمات سے بہتر انداز میں استفادہ کیا جاسکے۔پیرکو قومی اسمبلی اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا۔اجلاس کے دوران یوم شہدائے کشمیر اورسرکاری درسگاہوں، ملک کی جامعات میں قرآن پاک ترجمہ کیساتھ پڑھانے کی الگ الگ قراردادیں وزیر پارلیمانی امور علمی محمد جان نے پیش کی جسے پورے ایوان نے متفقہ طورپر منظور کر لیا۔دریں اثنا قومی اسمبلی میں عزیر بلوچ سے متعلق جے آئی ٹی پر ایک بار پھر ہنگامہ آرائی ہوئی،پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل کو بولنے کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور قادر، قادر کے نعرے لگائے تو دوسری جانب حکومتی ارکان نے جوا ب میں قاتل، قاتل کے نعرے لگا دئیے۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ایوان میں میری غیر موجودگی میں غیر مصدقہ،غیر تصدیق شدہ الزامات پر مبنی پلندے پڑھے گئے،بار بار مجھ پر سنگین الزامات لگائے گئے، ایسا معاملہ جو عدالت میں زیر سماعت ہے یہاں لایا گیا، اس حکومت کی نااہلی اور نالائقی پر بات کل بھی کرتا تھا اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا،20 سے زائد وزرراء اعظم آئے، سب سے زیادہ اپنی بات سے مکر جانیوالے اور یو ٹرن لینے والا وزیر اعظم کون سا ہے۔وہ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر علی زیدی کی جانب سے جے آئی ٹی رپو رٹ پڑھنے کے معاملہ پر وضاحت دیتے رہے تھے۔انکا کہنا تھا ایسا معاملہ جو عدالت میں زیر سماعت ہے یہاں لایا گیا، آپ ہمارے بھی کسٹوڈین ہیں، اگر آپ غیر جانبدار سپیکر ہیں تو مجھے جواب کیلئے 5 منٹ دیں۔اپنی صفائی پیش کرنا میرا بھی حق ہے۔سپیکر اسد قیصر نے عبدالقادر پٹیل کو وزیر اعظم سے متعلق بات کرنے سے ٹوکتے رہے اور کہا صرف ذاتی وضاحت کریں، سپیکر نے قادر پٹیل کا مائیک بند کر وا دیا اور عبدالقادر پٹیل کا رویہ اخلاقیات کے منافی قرار دیا، سپیکر نے کہاکہ کیا آپ اپنی ذاتی وضاحت دے رہے ہیں۔ یہ توآپ سیاسی تقریر کر رہے ہیں۔ اس دوران سپیکر نے عبدالقادر پٹیل کا مائیک بند کرکے فلورسید فخر امام کو دیدیا،تو عبدالقادر پٹیل کو روکنے پر اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا،بعدازاں قو می اسمبلی میں زراعت پر بحث کے دوران پی ٹی آئی ارکان اپنی ہی حکومت پر برس پڑے جبکہ وفاقی وزیر قومی تحفظ خوراک سید فخر امام نے14 اگست کو کسان پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا 14اگست کو مرکز اور صوبے مشترکہ پالیسی سے کسان پیکیج کا اعلان کریں گے،ہمیں ملک کو زراعت کی طرف لیکر جانا ہے،زراعت کی ترقی کیلئے زیادہ پیسے کی ضرورت نہیں،ہمیں جعلی کی بجائے حقیقی کام کرنا ہوں گے، کسانوں کیلئے30 ارب روپے کا پیکیج منظور کرایا اب کسان پیکیج دوبارہ ای سی سی سے منظور کرانے جارہے ہیں۔حکومتی و اپوز یشن ارکان کا کہنا تھا کسانوں کا دم بھرنے کا دعو ی کرنیوالی حکومت کسانوں کو نچوڑ رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں زراعت پر بحث میں حصہ لینے والوں میں حکومتی اپوزیشن ارکان میں نواب شیر،راجہ ریاض،غوث بخش مہر،اپوزیشن ارکان علی گوہر،راؤ اجمل و دیگر شامل تھے۔ بعدازاں پینل آف چیئر مین امجد خان نیازی نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کوآج منگل کو سپیکر چیمبر میں طلب کر تے ہوئے رولنگ دی کہ آج تمام متعلقہ سیکرٹریز کو قومی اسمبلی اجلاس میں ہونا چاہیے۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -