بنیادی آئینی ڈھانچہ صدارتی نظام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے

بنیادی آئینی ڈھانچہ صدارتی نظام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے

  

تجزیہ:سعید چودھری

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سے پارلیمانی نظام کوصدارتی نظام میں تبدیل کرنے کے لئے آوازیں وقتاً فوقتاً اٹھتی رہتی ہیں،کیا موجودہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرکے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنے کا اختیار رکھتی ہے؟اگر موجودہ پارلیمنٹ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے اور اس پر کچھ عدالتی پابندیاں عائد ہیں تو پھر صدارتی نظام کے نفاذ کے لئے کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں؟عدالتی پابندیوں کے باوجود آئین میں ترمیم کرکے صدارتی نظام نافذ کیا جاسکتاہے لیکن کیسے؟پاکستان کے موجودہ آئین کے تحت یہاں پارلیمانی نظام قائم ہے،بظاہر پارلیمنٹ کو آئین میں ہرطرح کی ترمیم کا اختیار حاصل ہے اس کے باجود کچھ امور ایسے ہیں جنہیں سپریم کورٹ بنیادی آئینی ڈھانچے میں شامل کرچکی ہے اور ان کی بابت پارلیمنٹ آئینی ترمیم نہیں کرسکتی،یہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ کیا ہے اوراس کا تصور کہاں سے آیا؟بنیادی آئینی ڈھانچے کااصول 1949ء میں فیڈرل ریپبلک آف جرمنی کی پارلیمنٹری کونسل نے وضع کیا تھا،جرمنی میں دوتہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم ہوسکتی ہے لیکن پارلیمنٹری کونسل نے دستور کے دو آرٹیکلزکو بنیادی آئینی ڈھانچہ قراردیتے ہوئے کہا کہ آئندہ آنے والی کوئی بھی مقننہ اور پارلیمنٹ ان میں ترمیم نہیں کرسکتی،ان میں جرمن آئین کا آرٹیکل 1اورآرٹیکل 20شامل ہیں،آرٹیکل 1انسانی وقار اور شرف آدمیت کو ریاستی تحفظ دینے سے متعلق ہے جبکہ دوسرا آرٹیکل 20 وفاقیت اور جمہوریت کے بارے میں ہے، یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ کوئی بھی مقننہ یا پارلیمنٹ (ماسوائے آئین ساز اسمبلی) آئین کے بنیادی ڈھانچے میں ترمیم نہیں کرسکتی،

پاکستان اور بھارت کے دساتیر میں بڑی حد تک مماثلت موجود ہے،یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عدالتوں میں آئینی معاملات پر بھارتی عدالتوں کے فیصلوں کو نہ صرف عدالتی نظیر کے طورپر پیش کیا جاتا ہے بلکہ پاکستانی عدالتیں کیس کی صورتحال کے پیش نظر انہیں عدالتی نظیر کے طور پر قبول بھی کرلیتی ہیں۔پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے دساتیر میں بنیادی ڈھانچہ کا پارلیمنٹ کی طرف سے تعین نہیں کیا گیاتاہم اعلیٰ عدالتوں نے دونوں ممالک میں اپنے فیصلوں کے ذریعے بعض معاملات کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیتے ہوئے ان کے بارے میں ترامیم کی بابت پارلیمنٹ پر پابند ی عائد کررکھی ہے۔بھارت میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کا سوال پہلی مرتبہ 1964ء میں سپریم کورٹ کے جج جے آر مادھو لکر نے سجن سنگھ بنام سٹیٹ آف راجستھان کیس کے فیصلے میں اپنے اختلافی نوٹ میں اٹھایا تھا۔1967ء میں بھارتی سپریم کورٹ نے گولک ناتھ کیس میں آئین میں بنیادی ڈھانچے کا تصور شامل کیا جوبنیادی آئینی حقوق سے متعلق تھا،بعدازاں 1973ء میں سپریم کور ٹ نے اس بابت کیسا ونندا بھارتی کیس میں لینڈ مارک ججمنٹ کے ذریعے بھارتی آئین کے بنیادی ڈھانچے کا تعین کردیا۔اس کیس میں 23معاملات کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیا جس میں آئین کی بالادستی،قانون کی حکمرانی، سیکولرازم، پارلیمانی طرز حکومت، علیحدگی اختیارات،بعض آئینی حقوق، صاف شفاف الیکشن کااصول،عدلیہ کی آزادی، قومی یکجہتی اور فلاحی ریاست جیسے معاملات شامل تھے۔اس کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ پارلیمنٹ کواس آئینی ڈھانچے سے متصادم دستور ی ترمیم کا اختیار حاصل نہیں ہے۔اندرا گاندھی نے پارلیمنٹ میں کانگرس (آئی)کی بھاری اکثریت کے بل بوتے پر 1975ء میں 39ویں آئینی ترمیم منظور کروالی جس کے تحت جو شخص بھارت کا صدر،نائب صدر،وزیراعظم یا لوک سبھا کا سپیکر رہا ہو،انتخابات کے وقت اس کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال نہیں ہوگی اور وہ الیکشن لڑنے کا اہل ہوگا۔اس ترمیم کے تحت یہ بھی طے کردیا گیا کہ ان عہدوں پر منتخب ہونے والوں کے الیکشن پربھی (کسی عدالت میں)سوال نہیں اٹھایا جاسکے گا۔بھارتی سپریم کورٹ نے اندرا نہرو گاندھی بنام راج نارائن کیس میں اس آئینی ترمیم کو دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دے کر کالعدم کردیاکہ 39ویں آئینی ترمیم کے تحت صدر،نائب صدر،وزیراعظم اور سپیکر کے انتخابات کے عدالتی جائزہ کا اختیار ختم کردیا گیا جو بنیادی آئینی ڈھانچہ کے منافی ہے،علاوہ ازیں اس ترمیم سے صاف شفاف الیکشن سے متعلق بنیادی آئینی ڈھانچہ کی فہرست میں شامل نکتہ نمبر 17بھی غیر موثر بنا دیا گیا ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی جماعت اس 23نکاتی بنیادی آئینی ڈھانچے کے برعکس کوئی ترمیم کرنا چاہتی ہے تو اسے متعلقہ معاملے کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کرنا پڑے گا،اگر انتخابات میں عوام اسے مینڈیٹ دے دیں تو پھر وہ بنیادی آئینی ڈھانچے میں شامل متعلقہ معاملہ پر بھی ترمیم کرسکتی ہے۔

پاکستان میں 1997ء میں پہلی مرتبہ محمود خان اچکزئی کیس میں سپریم کورٹ نے بنیادی آئینی ڈھانچے کے تصور کو قبول کیا،اس کیس میں سپریم کورٹ نے پارلیمانی نظام،وفاقی سسٹم، اسلامی تشخص اور عدلیہ کی آزاد ی کوبنیادی آئینی ڈھانچہ قراردیا،عدالت نے یہ بھی قراردیا کہ جوڈیشل ریویو کا آئینی اختیار ختم نہیں کیا جاسکتا،اس سے قبل بنیادی آئینی ڈھانچے کا پاکستان میں کوئی تصور موجود نہیں تھا،بعد میں لائیرز فورم کیس،وکلاء محاذ کیس اور ظفر علی شاہ کیس کے عدالتی فیصلوں سے بنیادی آئینی ڈھانچے کے تصور کوتقویت ملی، فوجی عدالتوں کے کیس سمیت پاکستانی سپریم کورٹ کے ایسے متعدد فیصلے موجود ہیں جو پارلیمان کو آئین کے بنیادی ڈھانچے میں ترمیم کی اجازت نہیں دیتے،آئین کے آرٹیکل238کے تحت پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرسکتی ہے جبکہ آرٹیکل 239(6)میں اس بات کی وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ آئین میں ترمیم کے حوالے سے پارلیمنٹ کے اختیار پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے،دوسرے لفظوں میں پاکستانی پارلیمنٹ کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کی مجاز ہے اس کے باجود عدالتی فیصلوں کی روشنی میں مقننہ کوئی ایسی آئینی ترمیم نہیں کرسکتی جوبنیادی آئینی ڈھانچے میں تبدیلی کا باعث بنے،1997ء سے قبل پاکستانی عدالتیں آرٹیکل 238اور 239(6)کے تحت پارلیمنٹ کے آئین میں ترمیم کے کلی اختیار کو تسلیم کرتی چلی آرہی تھیں۔5اگست 2015ء کو سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام سمیت 18ویں اور 21ویں آئینی ترامیم کے خلاف درخوستوں پر ایک تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔عدالت عظمیٰ کے17میں سے13ججوں نے اکثریت رائے کے ساتھ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے نظریہ کو قبول کیا جن میں موجودہ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمد اور ان کے بعد ممکنہ چیف جسٹس مسٹر جسٹس عمر عطابندیال بھی شامل ہیں جبکہ اس وقت کے چیف جسٹس ناصر الملک، جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید خان کھوسہ اورجسٹس اقبال حمید الرحمن نے آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے تصور کو قبول نہیں کیا تھااور قراردیا تھا کہ پارلیمنٹ آئین میں جو چاہے ترمیم کرسکتی ہے اور عدالت کسی آئینی ترمیم کا جائزہ لینے کی مجاز نہیں ہے۔فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستیں 17میں سے 11ججوں نے مسترد کی تھیں تاہم مذکورہ 4کے سوا دیگرتمام 13ججوں نے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے تصور کو تسلیم کیا تھا،جس کا مطلب ہے کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم کوئی آئینی ترمیم نہیں کی جاسکتی اور کسی بھی آئینی ترمیم کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔اس کیس میں بنیادی آئینی ڈھانچے کے تصور پرمہرتصدیق ثبت کئے جانے کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید کے تحریر کئے گئے فیصلے سے سپریم کورٹ کے 7دیگر ججوں نے اتفاق کیا،انہوں نے بنیادی آئینی ڈھانچے کو تو مانا تاہم مذکورہ ترامیم کو اس سے متصادم قرار دینے سے انکارکیا۔مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید کے تحریری فیصلے کے اختتامی پیراگراف نمبر180میں پاکستانی آئین کے جو نمایاں خدوخال یا بنیادی ڈھانچہ بیان کیا گیا ہے وہ جمہوریت،پارلیمانی طرز حکومت اور عدلیہ کی آزادی پرمشتمل ہے۔مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید سمیت 8ججوں نے اپنے تحریری فیصلے کے پیراگراف نمبر60میں محمود خان اچکزئی کیس،وکلاء محاذ کیس، ظفر علی شاہ کیس اور پاکستان لائیرز فورم کیس کے حوالے سے قرار دیا ہے کہ ان کیسوں میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق جمہوریت، وفاقی نظام، اسلامی شقوں کے ساتھ پارلیمانی طرز حکومت، عدلیہ کی آزادی،بنیادی حقوق،مساوات،انصاف اور فیئر پلے آئین کے بنیادی خدوخال ہیں۔ان ججوں کے فیصلے کے پیراگراف نمبر65میں قرار داد مقاصد کا بھی ذکر کیا گیاہے جوآرٹیکل 2(اے)کے تحت اب آئین کا حصہ ہے۔اس فیصلے میں مسٹر جسٹس جواد ایس خواجہ،مسٹر جسٹس اعجاز افضل خان،مسٹر جسٹس اعجازاحمد چودھری،مسٹر جسٹس دوست محمد خان اور مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے کے تصور کو قبول کیا۔دوسرے لفظوں میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں آئین کے بنیادی ڈھانچے میں جمہوریت، وفاقی نظام، اسلامی شقوں کے ساتھ پارلیمانی طرز حکومت، عدلیہ کی آزادی،بنیادی حقوق،مساوات،انصاف، فیئر پلے آئین اورقرارد مقاصد شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کی طرف سے دستور کے بنیادی آئینی ڈھانچے کے تعین کے بعد کیا اس میں کبھی ترمیم نہیں ہوسکتی؟اگر ہوسکتی ہے تو کیسے ہوسکتی ہے؟ اس کا ایک طریقہ کارتو یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف یا کوئی بھی دوسری سیاسی جماعت جو صدارتی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے وہ اپنے منشور میں اس چیز کو شامل کرے،اگر وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ عوام نے اسے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلنے کا مینڈیٹ دے دیاہے (جیسا کہ بھارتی سپریم کورٹ قراردے چکی ہے)،اب وہ اپنے منشور کے مطابق آئین میں ترمیم کرنے کی مجاز ہوگی۔دوسرا طریقہ کاریہ ہے کہ اگر صدارتی نظام کے نفاذ کے لئے موجودہ پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم منظور کروانا مقصود ہے تو اس کے لئے ریفرنڈم کا راستہ اختیار کیا جاسکتاہے،آئین کے آرٹیکل 48(6)کے تحت اگر وزیراعظم کسی معاملے پر ریفرنڈم کروانا ضروری خیال کرتے ہوں تو وہ معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجیں گے اور اگرپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس کی منظور ی دے دی جاتی ہے تو پھر متعلقہ معاملے کو ایک سوال کی شکل میں عوامی استصواب رائے کے لئے پیش کیاجائے گااور عوام ہاں یا نہ میں اس کا جواب دیں گے۔آئین کے آرٹیکل48(7) میں کہا گیاہے کہ پارلیمنٹ کے قانون کے ذریعے استصواب رائے منعقد کرنے اور استصواب کے نتیجہ کی تدوین اوراستعمال کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ کواختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے سابقہ فیصلوں کو نظر انداز کردے اور زیرسماعت مقدمے کا حالات وواقعات کی روشنی میں ایسا فیصلہ جاری کردے جو ماضی کے فیصلوں سے مطابقت نہ رکھتا ہو،سپریم کورٹ کی طرف سے آئین کے بنیادی آئینی ڈھانچے کے حق میں دیئے گئے فیصلوں کے بعد بھی حکومت کے پاس یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس معاملہ پر سپریم کورٹ سے مشاورت کے لئے ریفرنس بھجوا سکتی ہے،آئین کے آرٹیکل186کے تحت صدر مملکت کوئی قانونی سوال سپریم کورٹ کے پاس غور کے لئے بھجواسکتے ہیں،سپریم کورٹ ایک مقدمہ کی طرح اس سوال کا جائزہ لے گی،ماضی میں جو بھی ریفرنس بھیجے گئے ان کی سماعت کے لئے فل کورٹ تشکیل دی گئی،عدالتی عظمیٰ سپرد کئے گئے سوال پر اپنے رائے کی رپورٹ صدر مملکت کو بھجواتی ہے،اگر سپریم کورٹ صدر کے سوال کے جواب میں بنیادی آئینی ڈھانچے کو تسلیم نہیں کرتی تو پھر فل کورٹ کی رائے (فیصلے) کو دیگر فیصلوں پرفوقیت حاصل ہوگی اور اس کی روشنی میں آئینی ترمیم ہوسکے گی۔

تجزیہ:سعید چودھری

مزید :

تجزیہ -