خواجہ آصف کا بیان آئین،اسلامی تعلیمات کے منافی،مولانازبیر صدیقی

    خواجہ آصف کا بیان آئین،اسلامی تعلیمات کے منافی،مولانازبیر صدیقی

  

کبیروالا(تحصیل رپورٹر)وفاق المدارس العربیہ پاکستان جنوبی پنجاب کے مسؤل مولانا محمد زبیر صدیقی نے جامعہ سراج العلوم عیدگاہ کبیروالا میں امتحانی سنٹر کا دورہ کرنے(بقیہ نمبر39صفحہ7پر)

کے موقع پر مہتمم مولانا عمرفاروق اصغر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام اور دیگر مذاہب کی برابری کے حوالے سے مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ محمد آصف کا بیان دوقومی نظرئیے،آئین پاکستان اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے،ان کا بیان مسلم لیگ کی تاسیس،نام اور قائد اعظم محمد علی جناح کے مشن کے برعکس ہے،مسلم لیگ (ن) کو ان کے غیر سنجیدہ اور غیر اسلامی بیان پر نوٹس لینا چاہیے،اس پر خاموشی کا مطلب بین الاقوامی قوتوں کی نوکری پکی کرنے اور اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقی میں ”آیا صوفیہ مسجد“ کی بحالی پاکستانی حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں،اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے ملک میں آئے روز اسلام کش اقدامات اور ایک سیکولر ملک میں اسلام کے موافق اقدامات لمحہ فکریہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں مندر کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل جلد قوم کی رہنمائی کرے اور پنجاب حکومت قربانی کے کھالیں لینے کے سلسلہ دینی مدارس کو اجازت نامے سے مستثنیٰ قرار دے۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے بعد سب سے پہلے وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے امتحانات شروع کرکے سقبت حاصل کی ہے اور امتحانات میں ”احتیاطی تدابیر“ اختیار کرکے ثابت کیا ہے کہ ملکی قوانین اور احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کرنے کے حوالے سے دینی مدارس کے علماء اور طلباء سنجیدہ طبقہ ہیں اور ایس او پیز پر جتنا عملدرآمد دینی مدارس میں نظر آرہا ہے،اتناتو سرکاری اداروں اور حکومتی وزرا ء کے اجلاسوں میں بھی نظر نہیں آتا۔قبل ازیں وفاق المدارس العربیہ پاکستان جنوبی پنجاب کے مسؤل مولانا محمد زبیر صدیقی نے جامعہ سراج العلوم عیدگاہ کبیروالا میں امتحانی سنٹر کا دورہ کرتے ہوئے امتحانی سنٹرز میں نظم وضبط،امتحانی نظامی قوانین اور کورنا وائرس کے حوالے سے عملے سمیت طلباء کی جانب سے پاسداری کا جائزہ لیا اور اس حوالے سے جامعہ سراج العلوم عیدگاہ کبیروالا کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔

مولانا زبیر صدیقی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -