میرے صلاح الدین یوسف( ایوبی) رحمہ اللہ،پہلی قسط

میرے صلاح الدین یوسف( ایوبی) رحمہ اللہ،پہلی قسط
میرے صلاح الدین یوسف( ایوبی) رحمہ اللہ،پہلی قسط

  

پہلی ملاقات

اس تصنیف کا نام اب وقت کی گرد نے ذہن سے محو کرد یا۔ لیکن تاثر یہ بنا کہ لکھنے والے حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ یقینامیدان قلم و قرطاس کے صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ ہیں۔ غالبا 2001 کی بات ہے۔مدینہ یونیورسٹی میں میرے دوسرے تعلیمی سال کا آغاز تھا۔ فلائٹ لاہور سے تھی۔ روانگی سے قبل"اپنے ایوبی"سے ملاقات کی ٹھانی۔شاید لینڈ لائن ٹیلیفون پر رابطہ ہوا۔ اس وقت "میرے ایوبی" کی لاہور میں ایک مسجد کے منسلک بالائی منزل پر رہائش تھی۔ ابھی گڑھی شاہو والے مکان میں تشریف نہیں لائے تھے۔میں نماز ظہر کے وقت مسجد پہنچا۔ نماز ادا کی۔ ملاقات ہوئی۔

درمیانہ قد ، گندمی رنگت ، گھنی دھاڑی ، چمک دار آنکھیں ، سادہ لباس ، سر پر ٹوپی اور ناک پر عینک ۔ مجھے رہائش پر لے گئے۔ میں" اپنے ایوبی" کے مورچے میں داخل ہوا۔ فرش پر ایک چوکی نما میز دھری تھی، جسے لکھنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ قلم بھی موجود اور کتب کا ذخیرہ بھی۔ ذہن رسا اور ذوق مطالعہ کا ساتھ تھا۔ "میرے ایوبی" کے مورچے سے ایسے گوہر تخلیق ہوتے کہ اہل باطل کی صفوں میں کھلبلی مچ جاتی۔

عثمان بھائی (عثمان یوسف) بھی تشریف لے آئے۔ تعلیم و تعلم کا پوچھا۔ میٹرک یا ایف اے کا بتایا۔ میں نے فورا مدینہ یونیورسٹی داخلے کی آفر لگائی۔ عثمان بھائی نے شاید چند اسناد و کاغذات دئیے ، بقیہ بعد میں ارسال کر دیئے۔اس ملاقات کی مزید تفصیلات یاد نہیں۔ رخصت چاہی۔ اس پہلی ملاقات "میرے ایوبی" نے نرم گفتاری ، علم اور شفقت کے ایسے حصار میں لیا کہ 19 برس میں وہ حصار مضبوط ہوتا گیا اور میں خود کو اس میں محفوظ تصور کرنے لگا۔ 

داخلہ ، دارالسلام ، خط و کتابت

عثمان بھائی غالبا جامعہ رحمانیہ(جامعہ لاہور اسلامیہ) لاہورمیں طالب علم بھی تھے۔ عثمان بھائی کے کاغذات مکمل وصول ہو گئے، تو میں نے مدینہ یونیورسٹی کے شعبہ داخلہ (عمادۃ القبول) میں جمع کروا دیئے۔ تعارفی ورقے پر میں نے لکھاکہ کنگ فہد کمپلیکس مدینہ سے اردو میں شائع ہونے والی تفسیراس امیدوار کے والد کے قلم سے لکھی گئی۔ عثمان بھائی کے بارے میں لکھا: هذا الشبل من ذاك الأسد۔ داخلہ کے سلسلے میں ممکن کوششیں کیں۔ گاہے گاہے رابطہ رہتا تھا۔ الحمد للہ 2003 میں نے سعودی عرب سے فون پرداخلے اطلاع دی۔ "محترم ایوبی" بھی خوش تھے اورعثمان بھائی بھی۔ عثمان بھائی مدینہ تشریف لے آئے۔میں 2004 میں مدینہ سے لوٹ آیا۔

2 فروری 2001 کو دارالسلام کے لیٹر ہیڈ پر خط میں مجھے لکھتے ہیں: "محترم اعجاز حسن صاحب۔ آپ کا مکتوب گرامی ملا۔ اس میں آپ نے سورہ ہمزہ کی آخری دو آیات کے ترجمے میں تقدیم و تاخیر کی غلطی کی نشان دہی فرمائی ہے۔ جزاک اللہ احسن الجزاء۔ ہم اس توجہ فرمائی پر آپ کے شکر گزار ہیں۔ ان شاءاللہ جب بھی موقع ملا اس کی تصحیح کر دی جائے گی۔ دعائے خیر میں یاد رکھا کریں۔ تمام احباب اور رفقاء کو سلام۔ "محترم ایوبی" اس وقت دارالسلام لاہور کے مدیر شعبہ تحقیق و تصنیف و ترجمہ تھے۔ دارالسلام کی کتب ان کی علمی نگرانی میں شائع ہو رہی تھیں۔

ایک ملاقات 2002 میں بھی ہوئی۔ جولائی 2002 میں سعو دی جا معا ت میں زیرِ تعلیم طلبہ اور مقامی مدارس میں زیرتعلیم طلبہ کی تر بیتی ورکشاپ منعقدہ جامعہ لاہوراسلامیہ میں اظہار خیال کیا۔ حالات زندگی بیان کیے۔ مؤثر تحریر لکھنے کے حوالے سے بھی شاید طلبہ کی رہ نمائی کی۔

زمانہ طالب علمی میں نے ایک مختصر کتاب ترتیب دی۔ "محترم ایوبی" نے اس کی تقریظ میں لکھی۔ اس میں سے چند جملے نقل کرتا ہوں:" زیر نظر کتاب عزیز گرامی اعجاز حسن سلمہ اللہ و بارک فی علمہ و عمرہ ، متعلم جامعہ اسلامیہ (مدینہ یونیورسٹی) مدینہ منورہ کی تالیف ہے۔ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ راقم نے اس پر ایک سرسری نظر ڈالی ہے جس سے عزیز گرامی کی علمی ثقاہت کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور اسلامی جذبات کی فراوانی کا بھی۔ یہ دونوں چیزیں دیکھ کر بڑی مسرت ہوئی۔ آج کل نوجوانوں میں بالعموم ان دونوں چیزوں کا فقدان ہے۔ الا من شاء اللہ" مدیر شعبہ تحقیق و تصنیف و ترجمہ، دارالسلام لاہور (اپریل 2003)۔

جاری ہے ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -