چین امریکہ خوشگوار تعلقات پرامن دنیا کی ضمانت!

چین امریکہ خوشگوار تعلقات پرامن دنیا کی ضمانت!
چین امریکہ خوشگوار تعلقات پرامن دنیا کی ضمانت!

  

سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے گزشتہ چالیس سال میں ، چین اور امریکہ نے اپنی اپنی ترجیحات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مفادات پر مبنی باہمی مربوط کمیونٹی تشکیل دی ہے۔ چین کو امریکہ سمیت تمام ممالک کے ساتھ وسیع تعاون کے باعث کامیابی حاصل ہوئی ہے ، اور چین کی ترقی نے امریکہ کے لیے بھی ترقی کی قوت محرکہ اور مارکیٹ کی بڑی گنجائش فراہم کی ہے۔ چین امریکہ تعاون دونوں فریقوں اور پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔

تاریخ کا جائزہ لیاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 1970 کی دہائی میں ، دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے معاشرتی نظام کا احترام کرنے کی بنیاد پر سفارتی تعلقات قائم کرنے کا درکھولا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور تعاون کئی نسلوں کی سیاسی دانشمندی اور مستقل کوششوں کا نتیجہ اور وقت کے ناگزیر رجحانات کا عکاس ہے۔

تاہم ، پچھلے کچھ سالوں میں ، چین - امریکہ تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ لوگوں کو یہ امکان نظر آنے لگا کہ چین اور امریکہ سرد جنگ کی طرف گامزن ہیں۔ کچھ امریکی سیاست دان بھی چین اور امریکہ تعلقات کی خرابی کے ذمہ دار ہیں ۔ ان کے اپنے اور خاص مفاد پرست گروہ کے سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے یہ لوگ چین اور امریکہ کےتعاون پر مبنی تعلقات کو خراب کر رہے ہیں اور جان بوجھ کر دونوں ممالک کو تنازعات اور تصادم کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ رواں سال کووڈ-۱۹ کی تشویشناک صورتِ حال میں ،باہمی تعاون مضبوط ہونے کی بجائے ، دونوں ممالک کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ سال امریکہ میں انتخابات کا سال ہے۔ اپنے ملک میں وبا کےحوالے سے اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو قربانی کے بکرے کی تلاش ہے ۔ یہ سوچ دونوں ملکوں کے ساتھ ساتھ عالمی امن کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔

حالیہ دنوں چینی  وزیر خارجہ وانگ ای نے چین-امریکہ تھنک ٹینک میڈیا ویڈیو فورم سے خطاب کرتے ہوئے  چین اور امریکہ کے تعلقات کی بحالی سے متعلق تین تجاویز پیش کیں ،جن میں  مذاکرات کے تمام راستوں کو  کھلا اور  متحرک رکھنا ، تعاون ، بات چیت ، اور کنٹرول کی تین فہرستیں مرتب کرنا اور انسداد وبا  کے سلسلے میں  تعاون کرنا شامل ہیں۔

چین اور امریکہ کے تعاون کی فہرست کے بارے میں ، وانگ ای نے کہا کہ  وہ  ضروری منصوبے جن میں چین اور امریکہ تعاون کر سکتے ہیں ان  کو واضح کرنا چاہیے ۔ فہرست جتنی طویل ہو گی  اتنا ہی بہتر ہوگا ۔بات چیت کی فہرست میں ان مسائل کو درج کیا جانا چاہیے جن کے،  اختلافات کے باوجود ، بات چیت کے ذریعے حل ہونے کی توقع  ہے ۔کنٹرول کی فہرست میں دونوں فریقوں کے مابین تنازعات کو کم کرنے کے لیے ان مسائل کو شامل کیا جائے جن کو قلیل عرصے میں حل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

کووڈ-19 کی وبا کے دوران بھی چین امریکہ تعلقات میں واضح دوری دیکھی گئی۔ مریکی   ییل یونیورسٹی کے سینئر محقق اسٹیفن روچ نےاپیل کی کہ چین اور امریکہ کو مل کر وبائی  بحران کے حل کے لیے کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے  وبا کے خلاف چین کے ردِ عمل اور اقدامات  کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ  اگرچہ  امریکہ ان اقدامات کو نہیں اختیار کر سکتا کہ جو اس وبا سے بچاو کے لیے چین نے اختیار کیے تھے لیکن یہ ضرور سیکھ سکتا ہے کہ  اس وبا سے لڑنے کے لیے چین نے  سائنسی طریقوں کا کس طرح سے موثر استعمال کیا ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی ایک  ملک دنیا بھر میں وائرس کے پھیلاؤ کو نہیں روک سکتا ہے۔ وبا ئی  صورتحال کے پیش نظر چین اور امریکہ کو سائنسی تحقیق اور صحتِ عامہ  سمیت دیگر شعبوں میں مل کر کام کرنا چاہیے ۔دونوں ممالک کے سائنسدانوں کو بھی ویکسین کی تحقیق اور اس کی تیاری میں پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

اسٹیفن روچ نے نشاندہی کی کہ کچھ امریکی سیاستدانوں نے  اپنے  سیاسی مفادات   کی خاطر  اس وبا کو  چین کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا۔  امریکہ کو   تعاون سے انکار   کرنے کی  بجائے مشترکہ مفادات کے حصول کو ممکن بنانے کے لیے  چین کے ساتھ   تعاون کرنا چاہیے ۔

دنیا بھر کے ماہرین کا اتفاق ہے کہ امریکی فریق چین کے بارے میں زیادہ معقول اور متحمل سوچ اپنائے گا اور چین کے لیے مزید عملی  اور استدلالی پالیسی تشکیل دے گا۔ یہ نا صرف چین اور امریکہ کے عوام کے بنیادی مفادات میں ہے ، بلکہ دنیا کے تمام ممالک کو چین اور امریکہ سے جو توقعات ہیں ان کے عین مطابق ہے۔

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -