"جسٹس فائز عیسیٰ کو مثالی جرمانے کیساتھ برطرف کیا جائے" وزارت چھوڑ کر کیس لڑنے والے فروغ نسیم نے تحریری دلائل عدالت میں جمع کرادیئے

"جسٹس فائز عیسیٰ کو مثالی جرمانے کیساتھ برطرف کیا جائے" وزارت چھوڑ کر کیس ...

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف دائر کئے گئے صدارتی ریفرنس کیخلاف سپریم کورٹ میں دائر مقدمہ میں وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے وفاق اور ایسٹس ریکوری یونٹ کے چیئرمین ، شہزاد اکبر مرزاکی جانب سے تحریری دلائل کا دوسرا خلاصہ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرا دیاہے ، تحریری دلائل 108 صفحات پر مشتمل ہیں۔

یاد رہے کہ عدالت نے کیس کا مختصر فیصلہ جاری کرتے وقت فروغ نسیم کو دو چار روز میں اپنے دلائل تحریری شکل میں عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی تھی ،جس پر انہوں نے چند روز قبل دلائل کا پہلا خلاصہ پیش کردیا تھا۔روزنامہ جنگ کے مطابق سوموار کے روز جمع کروائے گئے باقی ماندہ تحریری دلائل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کے خلاف ریفرنس کی بنیاد انکی اہلیہ اور بچوں کی برطانیہ کی تین جائیدادوں کو انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 116 کے تحت ظاہر نہ کرنا ہے،درخواست گزار کا موقف کہ انکی اہلیہ اور بچے خود کفیل ہیں اس لیے وہ انکے جوابدہ نہیں ہیں، بالکل درست نہیں ہے ،درخواست گزار کے بچوں کے نام جائیدادیں انکے یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے فوری بعد خریدی گئی تھیں،آج تک درخواست گزار کوئی شواہد نہیں دے سکے کہ بچوں کے پاس اپنے ذرائع آمدن تھے،یہی بات صدر مملکت کی جانب سے ریفرنس بھیجنے اور سپریم جوڈیشل کونسل کا شوکاز نوٹس جاری کرنے کی وجہ بنی ہے ،جبکہ آج تک درخواست گزار کا یہی جواب ملا ہے کہ انکی اہلیہ کا تعلق ایک امیر گھرانے سے ہے اور انکے پاس بہت سی زرعی زمین ہے۔

درخواست گزار کا یہ موقف کہ انہوں نے جج بننے سے قبل بہت ٹیکس ادا کیا ہے اس لیے متعلقہ نہیں کیونکہ اس آمدن کو وہ پہلے ہی اپنے گوشواروں میں ظاہر کر چکے ہیں، تحریری دلائل کے مطابق درخواست گزار کی اہلیہ کی جانب سے زرعی اِنکم پر ٹیکس، صوبائی زرعی ٹیکس اور زرعی اخراجات سے متعلق کچھ بھی پیش نہیں کیا گیا ہے ، درخواست گزار کو بطور اعلی عدلیہ کے جج کے سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے شوکاز جاری کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ صدارتی ریفرنس دائر کرنے کا عمل بادی النظر میں درست تھا، صدارتی ریفرنس دائر کرنا اور سپریم جوڈیشل کونسل کا شوکاز نوٹس جاری کرنا صرف ٹیکس قوانین کا معاملہ نہیں ہے ۔

اخبار نے تحریری دلائل کے حوالے سے بتایا کہ  صدارتی ریفرنس دائر ہونے اور سپریم جوڈیشل کونسل کے شوکا ز نوٹس کا اجراءنہ تو سول کورٹ اور نہ ہی اینٹی کرپشن کی کارروائی ہے،جبکہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ضابطہ اخلاق کی کاروائی ہے، صدر مملکت کی جانب صرف معلومات سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی گئی ہیں جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے ضابطہ اخلاق کی کارروائی کا آغاز کیا ہے ، تحریری دلائل کے مطابق صدر مملکت نے ریفرنس آئین کے آرٹیکل 209کی شک (5) کو رولز آف بزنس کے تحت دائر کیا ہے ،اورصدر مملکت ریفرنس دائر کرنے کی معلومات کسی بھی ذریعے سے حاصل کر سکتے ہیں،آئین پاکستان میں جہاں لکھا ہو کہ صدر مملکت کو اپنا اختیار استعمال کریں، وہاں صدر کو وزیراعظم اور کابینہ کی رائے درکار نہیں ہوتی ہے ، تحریری دلائل کے مطابق جہاں آئین پاکستان خاموش ہو وہاں صدر کو کابینہ اور وزیراعظم کی رائے درکار ہوتی ہے۔

تحریری دلائل کے مطابق اثاثہ جات ریکوری یونٹ اور لا ءڈویژن نے مکمل قانون اور رولز کے تحت کام کیا ہے ،جب صدر مملکت نے ریفرنس دائر کردیا تو یہ ماتحت فنگشریز کے تمام عملوں کی توثیق ہے جو ریفرنس دائر کرنے کا ذریعہ بنے ہیں ، تحریری دلائل کے مطابق صدر مملکت کے ریفرنس دائر کرنے میں کوئی قانونی یا حقائق کی بدنیتی نہیں ہے،صدر مملکت کے سامنے آنے والے مواد کے بعدوہ اس نتیجے پر پہنچے کہ درخواست گزار مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں، تحریری دلائل کے مطابق صدر مملکت نے قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے بھرپور آزاد ذہن کا استعمال بھی کیا ہے، تحریری دلائل میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مثالی جرمانے کے ساتھ برطرف کیا جائے، معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل آنے سے قبل اور سپریم جوڈیشل کونسل میں آنے کے بعد ان دونوں کو الگ الگ دیکھنا ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئین کے ارٹیکل209 (5) کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل تین طریقوں سے آگے بڑھتی ہے، صدارتی ریفرنس، کسی بھی ذریعے سے حاصل انفارمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل کا اپنا ازخود نوٹس کے اختیار کا استعمال ہے، تحریری دلائل کے مطابق تینوں طریقوں میں اگر ایک مرتبہ سپریم جوڈیشل کونسل حاصل کردہ معلومات پر شوکاز نوٹس جاری کردے تو سپریم جوڈیشل کونسل کے دائر اختیار پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا ہے ،سپریم جوڈیشل کونسل کا آئینی اختیار ویسا ہی ہے جیسا سپریم کورٹ آف پاکستان کو حاصل ہے،آج کے دن تک نہ تو سپریم کورٹ اور نہ ہی سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے درخواست گزار نے کبھی برطانیہ کی ان جائیدادوں کی خریداری کے ذرائع آمدن نہیں بتائے ہیں،اپنے تحریری دلائل میں وفاق پاکستان کے وکیل نے اسلامی روایات اور احادیث کو بھی دلائل کا حصہ بنایا ہے ۔

تحریری جواب کے مطابق پاکستانیوں کے غیر ملکی بنک اکاﺅنٹس اور جائیدادوں کے معاملہ پر ازخودنوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جبکہ موجودہ حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں ایک خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کا وعدہ کیا تھا،تحریری دلائل کے مطابق 20اگست 2018 کو ملک کی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لئے شہزاد اکبر کو وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے احتساب مقرر کیا گیا تھا،20 اگست 2018 کی وفاقی کابینہ نے ملک کی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی،اس ٹاسک فورس نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی تشکیل کی سفارش کی، جسے 5 ستمبر کو وفاقی کابینہ نے منظور کیا اور اے آر یو کا قیام عمل میں آگیا، تحریری دلائل کے مطابق وفاقی حکومت اس سے قبل ماضی میں اس سے مماثلت رکھنے والا ادارہ قائم کر چکی ہے، اے آر یو ایک رابطہ کار ادارہ ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو احتساب اور دیگر قومی اداروں سے منسلک کرتا ہے تاکہ کوٹی ہوئی دولت کی واپسی یقینی بنائی جا سکے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -