بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک اور فیصلہ سنادیا

بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک اور فیصلہ سنادیا
بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک اور فیصلہ سنادیا

  

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)انتہاپسند بھارتی حکومت کے کرفیو اور کورونا جیسی وبا کی وجہ سے لگائے دہرے لاک ڈاون کا شکارمقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت نےایک اورفیصلہ سنادیا ہے۔

بھارت نے آج منگل سے مقبوضہ کشمیر کو سیاحت کے لیے کھولنے کااعلان کیا ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کے مطابق صرف ان سیاحوں کو وادی میں آنے کی اجازت ہوگی جو بذریعہ فضائی سفر یہاں پہنچیں گے۔

اس دوران یہ بھی لازم ہے کہ سیاحوں نے ہوٹل میں بکنگ اور واپسی کے ٹکٹ بھی کرارکھے ہوں۔

بی بی سی کے مطابق بھارتی حکومت مسافروں کی آمد پر ان کے ٹیسٹ کرنے کابھی اعلان کیاہے۔ وائرس کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں سیاحت کی صنعت کو متاثر کیا ہے۔ لیکن مقبوضہ کشمیر میں سیاحت عالمی وباسےقبل بھی متاثر ہو رہی تھی۔

اگست 2019 میں مودی سرکارنے آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وادی بھرمیں کرفیونافذ کردیا تھا۔وہاں لاکھوں فوجیوں کو تعینات کیا گیا اور ذرائع ابلاغ کو معطل کر دیا گیاجبکہ مقامی سیاستدانوں کو نظر بند کیا گیا تھا۔

اگرچہ اب ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروسز کو بحال کر دیا گیا ہے، اس کے باوجود ان سروسز کی دستیابی اور رفتار کچھ خاص بہتر نہیں جو کہ انڈیا میں ایک عام بات بن چکی ہے۔

صورتحال خراب ہونے سے کشمیر میں سیاحت کی صنعت کافی متاثر ہوئی جو یہاں ہزاروں افراد کی آمدن کا ذریعہ ہے۔

سیاحوں کو وادی میں داخلے کی اجازت ہوگی لیکن سری نگر میں کورونا کے متاثرین کے اضافے کے بعد پیر سے دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق وادی میں 10500 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوچکی ہے۔

خیال رہے گزشتہ ایک سال میں سیکڑوں معصوم کشمیریوں کی شہادت کی خبریں بھی موصول ہوتی رہی ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -