چینی جاسوس لڑکیاں کس طرح سیاستدانوں اور کاروباری لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتی ہیں؟ پہلی مرتبہ کتاب میں تہلکہ خیز انکشافات منظر عام پر

چینی جاسوس لڑکیاں کس طرح سیاستدانوں اور کاروباری لوگوں کو اپنے جال میں ...
چینی جاسوس لڑکیاں کس طرح سیاستدانوں اور کاروباری لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتی ہیں؟ پہلی مرتبہ کتاب میں تہلکہ خیز انکشافات منظر عام پر

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) خفیہ ایجنسیاں جاسوسی کے لیے کیا کچھ ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں؟ اس حوالے سے لندن کے سابق ڈپٹی میئر آئیان کلیمنٹ نے چشم کشا انکشاف کر دیا ہے جو خود بھی چینی خفیہ ایجنسی کے ایک ایسے ہی ہتھکنڈے کا شکار ہو چکے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق آئیان کلیمنٹ نے بتایا ہے کہ 2008ءکے اولمپکس مقابلوں کے سلسلے میں وہ بیجنگ گئے ہوئے تھے جہاں ان کی ملاقات ایک انتہائی خوبصورت لڑکی سے ہوئی۔ کچھ دیر لڑکی کے ساتھ شراب پینے کے بعد آئیان کلیمنٹ نے اسے اپنے ساتھ اپنے کمرے میں آنے کی دعوت دی اور وہ ان کے ساتھ چل دی۔

آئیان کلیمنٹ بتاتے ہیں کہ ”اس کے بعد مجھے کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہوا۔ میں نیند سے بیدار ہوا تولڑکی کمرے میں موجود نہیں تھی۔ یہ نیند ایسی تھی جیسے مجھے کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو۔جب میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ میرے کمرے کی تلاشی لی جا چکی تھی۔ میرا پرس کھلا تھا اور میرے بلیک بیری سے بھی ڈیٹا ڈاﺅن لوڈ کیا جا چکا تھا۔ کمرے سے کوئی بھی چیز چوری نہیں ہوئی تھی، جس پر مجھے یقین ہو گیا کہ یہ کوئی عام چور لڑکی نہیں تھی بلکہ اس کا تعلق چینی خفیہ ایجنسی سے تھا اور وہ میری معلومات حاصل کرنے آئی تھی۔ شاید اسے اس مشن پر بھیجا گیا تھا کہ وہ چین میں میری ملاقاتوں کی تفصیلات نکال کر لائے، جو وہ لے گئی۔“واضح رہے کہ 1990ءکی دہائی سے برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو نے ملک کے سیاستدانوں اور کاروباری لوگوں کے لیے ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ وہ بیرون ممالک، بالخصوص چین جائیں تو وہاں خوبصورت لڑکیوں سے محتاط رہیں کیونکہ چینی خفیہ ایجنسی نے ہزاروں کی تعداد میں ایسی لڑکیاں ہائر کی ہوئی ہیں جو دوسرے مماک کی اعلیٰ شخصیات سے دوستی کے بہانے اہم راز اگلواتی ہیں۔

مزید :

برطانیہ -