تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے ماسک پہننے سے انکار کرنے والوں کے دماغوں کے بارے میں پریشان کن انکشاف کردیا

تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے ماسک پہننے سے انکار کرنے والوں کے دماغوں کے ...
تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے ماسک پہننے سے انکار کرنے والوں کے دماغوں کے بارے میں پریشان کن انکشاف کردیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی پھیلا رکھی ہے۔ اس کے باوجود کچھ ایسے لوگ ہیں جو اب بھی اس موذی وباءکو محض افواہ قرار دیتے ہیں اور فیس ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کی پابندی پر عمل سے انکار کرتے ہیں۔ اب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں ایسے لوگوں کے متعلق پریشان کن انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے امریکہ میں ہزاروں لوگوں پر مشتمل اس تحقیقاتی سروے کے نتائج میں بتایا ہے کہ جو لوگ فیس ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کی پابندی پر عمل کرنے سے انکار کرتے ہیں، ان میں حساسیت اور دوسروں کا احساس کرنے کی صلاحیت بہت کم ہوتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں میں قابل عمل یادداشت کا فقدان ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان میں مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ یہ قابل عمل یادداشت ہی ہوتی ہے جس پر انسان کی ذہانت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت پر انحصار ہوتا ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اسسٹنٹ پروفیسر آف سائیکالوجی وی وی ژینگ کا کہنا تھا کہ ”ہماری تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ جس شخص میں جتنی زیادہ ’ورکنگ میموری‘ کی صلاحیت ہو گی وہ اتنا ہی فیس ماسک اور سماجی میل جول میں احتیاط کی پابندی کرے گا۔ ایسا شخص اتنا ہی زیادہ ذہین بھی ہو گا کیونکہ ورکنگ میموری پر ہی ذہانت کا انحصار ہوتا ہے۔“ سائنسدانوں نے اس تحقیق کے نتائج میں حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے لوگوں کی ذہنی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی آگہی کے لیے کام کریں تاکہ انہیں فیس ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کی پابندی پر عمل کرنے پر رضامند کیا جا سکے۔

مزید :

تعلیم و صحت -