قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان پر ہنگامہ، خواجہ آصف نے وضاحت کردی

قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان پر ہنگامہ، خواجہ آصف نے وضاحت کردی
قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان پر ہنگامہ، خواجہ آصف نے وضاحت کردی

  

 اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف نے کچھ روز قبل قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے حوالے سے دیے گئے اپنے بیان کی وضاحت کردی۔

اپنے وضاحتی بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی تمام تر گفتگو 1973 کے آئینِ پاکستان کے تناظر میں تھی ، جو تمام مذاہب کے ماننے والوں کو بلاتفریق یکساں بنیادی آئینی حقوق دیتا ہے اور یہ میں نے تقریر کے اختتام کے فوراً بعد واضح کردیا تھا۔ ہمارا دین اللہ کا آخری اور مکمل پیغام ہے جو خاتم النبیین سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے بنی نوع انسان پہ نازل کیا گیا اور اس کی فوقیت اور فضیلت ہمارے ایمان کا لازمی جزو ہے، بہت سے حضرات نے غلط فہمی یا سیاسی محرکات کی وجہ سے میری تقریر کے متن کو غلط مطلب پہنائے ہیں جو قطعی طور پر نامناسب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان کی اس موضوع پر تقاریر اور فرمودات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، مسلمان ہندوستان میں مذہبی اقلیت تھے اور خود کو مذہبی اور معاشرتی لحاظ سے غیر محفوظ محسوس کرتے تھے اس احساس نے دو قومی نظریہ کو جنم دیا جو وطن عزیز کی بنیاد ہے ، یہ نظریہ ہم پہ لازم کرتا ہے کہ ہم مذہبی اقلیتوں کا تحفظ کریں۔

خواجہ آصف نے کہا " میں آئین میں درج شہریوں کے بنیادی حقوق کی حمایت کرتا ہوں، مخلوط انتخابات میں اقلیتیں بھی ہمارے ووٹر ہیں اور میرا بحیثیت منتخب نمائندہ فرض ہے کہ ووٹرز کی نمائندگی کروں۔ میرا دین مجھے یہ حکم دیتا ہے کہ میں بلا تفریق تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناؤں اور بے انصافی کے خلاف آواز بلند کروں، اعلیٰ ترین اور مکمل ضابطہ حیات پہ ایمان ہم پر یہ لازم کردیتا ہے کہ ہم حق اور انصاف کی بات بلا خوف و خطر کریں۔"

لیگی رہنما کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ میں اپنے تمام دوستوں اور ساتھیوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر میرے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور میرے نقطہ نظر کو سیاق و سباق کے ساتھ سمجھا اور حمایت کی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -