کراچی والے بجلی کے بعد کیبل اور انٹرنیٹ سے بھی محروم

کراچی والے بجلی کے بعد کیبل اور انٹرنیٹ سے بھی محروم
کراچی والے بجلی کے بعد کیبل اور انٹرنیٹ سے بھی محروم

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) شہر قائد کے باسی جو پہلے ہی بجلی و پانی کی عدم دستیابی سے پریشان تھے، اب مقامی کیبل آپریٹرز اور انٹرنیٹ سروسز مہیا کرنے والوں کی جانب سے کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کے چکر میں کیبل اور انٹرنیٹ کی سہولت سے بھی محروم ہو  گئے ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن ایکسیس پرووائڈر ایسوسی ایشن (پی ٹی اے پی اے) کے عہدیدار خالد آرائیں نے نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے کیبل اور انٹرنیٹ کی تاروں کو کاٹا جا رہا ہے جس کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں سوموار کی شام کو شہر بھر میں دو گھنٹے کیلئے انٹرنیٹ اور کیبل سروس معطل کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ مقامی کیبل آپریٹرز کا مسئلہ کے الیکٹرک سے ہے، جو مبینہ طور پہ بجلی کے کھمبوں پہ لگی کیبل اور انٹرنیٹ کی تاریں کاٹ رہی ہے، لیکن مقامی کیبل آپریٹرز نے کے الیکٹرک کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے بجائے الٹا صارفین کو ہی پریشان کرنے شروع کردیا ہے۔ جب خالد آرائیں سے اس بابت استفسار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ’اگر کے الیکٹرک ساری تاریں کاٹ دیتی ہے تو سروس تو ویسے بھی معطل ہو جائے گی، کیونکہ ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں۔‘

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کے کیبل آپریٹرز کو شہری انتظامیہ کی جانب سے تمام تاریں زیر زمین کرنے کا کہا جا چکا ہے، مگر خالد آرائیں کا کہنا ہے کہ یہ ایک طویل عمل ہے اور اسے مکمل کرنے میں 4 سال کا عرصہ تک لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پہلے مرحلے میں ڈٰیفنس کے علاقوں میں 25 سے 30 کلومیٹر تاروں کو انڈر گراؤنڈ کردیا گیا ہے مگر پورے شہر میں تاروں کی لمبائی 1200 کلومیٹر بنتی ہے جسے اتنی جلدی مکمل نہیں کیا جا سکتا۔‘

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کیبل آپریٹرز نے شہری حکام اور کمشنر کراچی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ کے الیکٹرک کے پولز سے ٹی وی کیبل کی تاروں کو ہٹانا شروع کردیں گے، اور15جولائی تک انہیں زیر زمین منتقل کردیں گے۔ کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق کیبل آپریٹرز کھمبوں سے تاروں کو ختم کرنے کے معاہدے کی پاسداری کریں، تاہم ایسا لگتا ہے کہ کیبل آپریٹرز نے اپنے وعدوں پر عملدرآمد کرنے کے بجائے کراچی کے عوام کو ہڑتال کی صورت میں تکلیف پہنچانے کو ترجیح دینا بہتر سمجھا ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک ترجمان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کیبل آپریٹرز، کمشنر کراچی اور مقامی حکام سے بجلی کے انفراسٹرکچر پر موجود غیر محفوظ ٹی وی اور انٹرنیٹ کی تاروں کو ختم کرنے کیلئے کئے گئے معاہدے کی پاسداری کریں، کے الیکٹرک اس کام کے دوران انہیں ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کو تیار ہے۔

خالد آرائیں نے بتایا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری سے پہلے ان کا کمپنی سے معاہدہ تھا جس کے تحت وہ بجلی کے کھمبوں کو کیبل اور انٹرنیٹ کی ترسیل کیلئے استعمال کرتے تھے اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن ایکسیس پرووائڈر ایسوسی ایشن دوبارہ ایسا معاہدہ کرنے کیلئے رضامند ہے، البتہ کے الیکٹرک چاہتی ہے کہ بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے ہونے والی تمام تر ہلاکتوں کی ذمہ داری پی ٹی اے پی اے قبول کر لے، جس صورت میں کے الیکٹرک معاہدہ کرنے کو تیار ہے۔

کیبل آپریٹرز نے کمشنر کراچی سمیت دیگر حکام سے متعدد ملاقاتوں اوربات چیت کے دوران تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ان غیر محفوظ اور غیر قانونی تاروں کو محفوظ انڈرگراؤنڈنگ سسٹم میں منتقل کریں گے۔ تاریں زیر زمین منتقل کرنے کے پہلے مرحلے میں 50مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی جسے 20 جولائی تک مکمل ہونا تھالیکن کے الیکٹرک کی جانب سے متعدد بار اپیل کے باوجود اس کام کو ٹھیک طرح سے انجام نہیں دیا گیا۔

دوسری جانب جب پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا کہ کیا کوئی انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر ایسے انٹرنیٹ کی فراہمی معطل کر سکتا ہے، تو پی ٹی اے ترجمان خرم مہران نے بتایا کہ قانونی طور پہ کوئی بھی انٹرنیٹ کمپنی اپنی سروس ایسے معطل نہیں کرسکتی تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے لا علم ہیں کہ کراچی میں سروس معطل کی گئی۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -