افغانستان میں بھارتی کردار بے نقاب

افغانستان میں بھارتی کردار بے نقاب
افغانستان میں بھارتی کردار بے نقاب

  

امریکہ نے افغانستان میں 20برس تک جنگ لڑی،اس جنگ کا آغاز 11ستمبر2001ء میں پینٹاگون پر مسافر بردار طیاروں کے حملوں کے ایک ماہ بعد کیا، پینٹاگون پر حملوں کا ذمہ دارالقاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو قرار دیا گیا تھا۔اس وقت افغانستان میں طالبان  کی حکومت تھی اور اسامہ بن لادن افغانستان میں مقیم تھے امریکہ کے مطالبے پر طالبان نے اسے امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکہ نے اکتوبر 2001ء میں افغانستان پر فضائی بمباری کا آغاز کر کے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔افغانستان کئی دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے۔ 2014ء میں جب امریکی فوجی افغانستان میں لامحدود عرصے تک مقیم رہنے کے خیال سے تھک چکے تھے، انہوں نے لڑائی والی کارروائیاں ختم کر دیں اور طالبان سے جنگ کا کام افغان فورسز کے حوالے کر دیا۔ امریکی حکمت عملی سے طالبان نے دوبارہ سر اٹھا لیا اور کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ 

امریکہ کو افغان جنگ میں ایک کھرب ڈالر کا بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ فروری 2020ء میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو کی افواج افغانستان سے اپنی افواج کا انخلا اس شرط پر کریں گے کہ طالبان القاعدہ کو یا کسی بھی دوسرے شدت پسند گروہ کو دوبارہ افغانستان میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں واپس آنے کی اجازت نہیں دے گا۔اس معاہدے کے بعد چند مہینوں کے اندر طالبان کے 5000ارکان کو افغان حکومت نے رہا کیا۔امریکہ نے بھی طالبان پر عائد پابندیوں کو ہٹانے کا وعدہ کیا تھا۔ معاہدے میں طالبان سے براہ راست مذاکرات کیے تھے، جس میں افغان حکومت شامل نہیں تھی۔ اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’اتنا عرصہ گزرنے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو واپس اپنے وطن لائیں‘۔

بگرام کے فوجی اڈے سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا ہو چکا ہے اور اب اس کی حفاظت افغان سیکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے۔تقریباً 650 امریکی فوجی اس انخلا کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہیں گے۔اس کا بنیادی کام سفارتی عملے کی حفاظت کرنا ہو گا،اب طالبان تیزی سے بڑے بڑے علاقوں پر قبضہ کر رہے ہیں،جس سے وہ غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے پس منظر میں کابل  کی موجودہ حکومت کے  لئے خطرہ بن رہے ہیں۔طالبان نے افغانستان کے 85فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ طالبان کے خلاف پراپیگنڈے کے نتیجے میں سرکاری حکام کے ساتھ معاہدہ ختم کردیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقامی افغان حکام کا کہناہے کہ نیٹو فوج کے انخلا کے بعد مضبوط ہونے والے طالبان نے صوبے ہیرات کے اہم ضلعے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ افغان حکام اور طالبان نے ترکمانستان کی سرحد کے ساتھ موجود علاقے ترغنڈی پر بھی قبضے کی تصدیق کی ہے۔اس سلسلے میں افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان کو ان کی نئی پوزیشنوں سے ہٹانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

دوسری جانب بھارت نے افغانستان میں سیکیورٹی کی خراب صورت حال کے پیش نظر اپنی سازشوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔بھارت ایک طرف طالبان سے مذاکرات پر زور دے رہا ہے تو دوسری جانب افغان حکومت کو اسلحہ کی فراہمی سے اس کا دوغلا پن بھی عیاں ہو چکا ہے۔ خصوصی طیاروں سے افغان فوج کے لئے اسلحہ کابل پہنچایا جا رہا ہے۔ بھارت کے سی 130طیارے اپنے سفارت کاروں کے انخلا کے بہانے افغان فوج کے لئے اسلحہ و گولہ بارود لائے ہیں، جس کی تصاویر بھی سامنے آ گئی ہیں۔ بھارت کی جانب سے ایک طرف طالبان سے مذاکرات جبکہ دوسری طرف افغان فوج کو اسلحہ دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی افواج نے جس انداز میں جنگ کا آغاز کیا اور اب جس طرح ختم کرنے جارہاہے، اس کو کئی ممالک نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ چین نے تو واضح طور پر امریکہ کو افغان مسئلے کا مجرم قرار دیا اور کہا ہے کہ اس کی ساری ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ امریکہ نے اپنی تمام تر خرابیوں کی ذمہ داری خطے کے  دیگر ممالک پر ڈال دی، جس کے نتائج خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے افغانستان کی موجودہ صورت حال پر واضح کیا ہے کہ بھارت افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی دیکھ کر جھوٹا پروپیگنڈا کر رہا ہے۔پاکستان افغان امن میں سہولت کار ہے، ضامن نہیں۔یہ بات واضح ہے کہ ”بندوق فیصلہ نہیں کر سکتی 20“ سال میں ایسا نہ ہو سکا تو آئندہ کیسے ہو گا۔ اپنے معاملات کا حل افغانستان کے عوام نے خود کرنا ہے اور اپنی قیادت کا انتخاب بھی خود ہی کرنا ہے۔ افغانوں کے اپنے فیصلہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور افغان عوام کو کوئی تیسرا فریق ڈکٹیٹ نہیں کرسکے گا۔

مزید :

رائے -کالم -