عدم برداشت 

عدم برداشت 
عدم برداشت 

  

پاکستان میں بدقسمتی سے عدم برداشت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،فرقہ واریت بھی وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ابھی چند دن قبل ایک شخص نے حضرت امام موسیٰ کاظم کی شان اقدس میں گستاخی کی۔اس شخص کے نام کے آخر میں کیوں کہ الٰہی آتا تھا تو مخالفین نے بلا سوچے سمجھے اسے علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کا بھانجا بنا ڈالا اور اس کا گناہ ان کے سر تھوپنے کی سازش شروع کر دی اور سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا کر دیا، جس میں علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کو قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ علامہ ابتسام الٰہی کو بے بنیاد پروپیگنڈہ اور مخالفین کے شر کو کم کرنے کے لئے ویڈیو بیان بھی جاری کرنا پڑا، جس میں انہوں نے صریحاً کہا کہ ان کا اس گستاخ سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہے اور وہ حضرت امام موسیٰ کاظم سمیت تمام اماموں اور اہل ِ بیت کو اپنی جان سے مقدم سمجھتے ہیں۔

اس ویڈیو کے بعد اگرچہ ان کے خلاف بے بنیاد مہم کو بند کر دینا چاہئے تھا، لیکن اُلٹا انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دی جانے لگی ہیں،بنیادی طور پر ہمارے ملک میں قانون نہ ہونے کی وجہ سے ہی فرقہ واریت پھیل رہی ہے اور لوگ دلائل کی بجائے اب تشدد کا راستہ اپناتے ہیں۔ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر،علامہ احسان الٰہی ظہیر کے فرزند ہیں، جنہوں نے جام شہادت نوش کیا تھا اور ابتسام الٰہی ظہیر اگرچہ ان گیدڑ بھبکیوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں، لیکن یہاں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قتل کی دھمکیاں دینے والے شرپسند عناصر کو لگام ڈالے،دھمکیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی پاکستانی معاشرے میں سرایت کر گئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ ریاست کی انتہا پسندوں سے مصالحت پسندانہ پالیسی ہے۔مذہبی و سیاسی عدم برداشت معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، جس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -