شہباز شریف کے ایف آئی اے پر الزامات، فسانہ یا حقیقت؟

شہباز شریف کے ایف آئی اے پر الزامات، فسانہ یا حقیقت؟
شہباز شریف کے ایف آئی اے پر الزامات، فسانہ یا حقیقت؟

  

شہباز شریف کے الزام سے علم ہوا دُنیا میں کوئی ایسا بھی ہے،جو انہیں ہراساں کر سکتا ہے، انہوں نے عدالت میں یہ انکشاف کیا کہ ایف آئی اے دورانِ تفتیش انہیں ہراساں کرتی ہے۔ افسروں کا رویہ تضحیک آمیز ہوتاہے۔یہ شاید پہلا موقع ہے صرف شہباز شریف ہی نہیں،بلکہ کسی بھی بڑے سیاسی رہنما نے یہ الزام لگایا ہے،وگرنہ آج تک تو یہی سمجھا جاتا رہا ہے، ادارے بڑے لیڈروں کو  بُلا کے مرعوب ہو جاتے ہیں اور تفتیشی افسران سر سر کہتے نہیں تھکتے، میرے لئے تو یہ خبر بڑی حیرانی کی ہے،کیونکہ میرا شہباز شریف کے بارے میں یہ تاثر ہے وہ ایک دبنگ شخصیت کے مالک ہیں،دو بار پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے ہیں، افسروں کو تو چٹکیوں میں فارغ کر دیتے تھے، سرکاری افسران اُن کے سامنے بھیگی بلی بن جاتے تھے اور ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے۔یہ کیسے ہوا کہ شہباز شریف ایف آئی اے والوں سے اتنے مرعوب ہو گئے۔معاملہ اِس حد تک بگڑ گیا کہ انہیں عدالت کو اس بارے میں آگاہ کرنا پڑا۔اب ظاہر ہے یہ کوئی معمولی الزام تو ہے نہیں۔ملک کا اپوزیشن لیڈر اور بڑی سیاسی جماعت کا صدر جب یہ کہے اُسے ایک تفتیشی ایجنسی خوفزدہ اور ہراساں کر رہی ہے  تو ہر طرف کان تو کھڑے ہو جاتے ہیں۔

شہباز شریف کے اس الزام کی وجہ سے ایف آئی اے حکام کو تفتیش تو بھول گئی ہے،وہ وضاحتوں پر اُتر آئے ہیں اسے پنجابی میں کہتے ہیں ”بندے نوں اپنی پا دیو“ شہباز شریف  نے ایف آئی اے کو انہی کی فکر میں مبتلا کر دیا ہے۔اب وہ وضاحت پہ وضاحت دے رہے ہیں۔ہراساں کرنے کے الزام کی نفی کر رہے ہیں،اُلٹا ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کی باتیں کر رہے ہیں اور ثبوت بھی دینے کو تیار ہیں۔اُدھر وزراء نے بھی شہباز شریف کو اس الزام کے بعد نشانے پر لے لیا ہے۔اُن کا کہنا ہے یہ شریف خاندان کی پرانی روایت ہے الزامات کا جواب نہیں دینا،کوئی جوابی الزام لگا کے معاملے کو متنازعہ بنانا ہے۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے تفتیش اور مقدمے کا ٹرائل عوام کے سامنے کرنے کی اجازت مانگی ہے تاکہ سب کچھ وہ خود دیکھ سکیں۔یہ بھی خبریں ہیں  کہ ایف آئی اے نے تفتیش کی وہ ریکارڈنگ بھی سامنے لا سکتی ہے،جو شہباز شریف سے کی گئی اور سوال و جواب کا تمام تر ریکارڈ رکھا گیا۔یاد رہے ایک زمانے میں مریم نواز نے بھی یہ الزام لگایا تھا کہ نیب افسران انہیں ہراساں کرتے ہیں،بلکہ اُس زمانے میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا۔نیب کے مرد افسران ایک عورت سے کیسے تفتیش کر سکتے ہیں وہ بھی ایک اکیلی عورت سے جس کے ساتھ وکیل کو جانے کی بھی اجازت نہ ہو، اور تو اور جن دِنوں نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں تھے اُن کے حوالے سے بھی یہ خبریں سامنے آئی تھیں انہیں سہولتیں نہیں دی جا رہیں اور ٹارچر کیا جا رہا ہے۔

شہباز شریف تو نیب حراست میں بیڈ نہ ملنے کی شکایت اور اپنی کمر میں درد کی تکلیف بڑھانے میں نیب افسروں کے کردار کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ گویا یہ معاملہ،یہ الزام کوئی نئی بات نہیں،مگر اس کے باوجود شہباز شریف کے الزام نے ایک ہلچل مچا دی ہے۔ ایف آئی اے نے کچھ نہیں کیا تو پھر اُس کا رویہ اتنا معذرت خواہانہ کیوں ہے؟ وزراء اس الزام پر اتنے مضطرب کیوں نظر آتے ہیں؟ کیا شہباز شریف کی جادوگری ہے کہ وہ جب چاہتے ہیں ایک چھڑی گھما کے صورتِ حال تبدیل کر دیتے ہیں۔اس صورتِ حال کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے کہ اپوزیشن ہمیشہ یہ الزام لگاتی ہے حکومت سرکاری اداروں کو اُن کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ احتساب کو اپوزیشن سے انتقام لینے کا ایک ذریعہ بنایا گیا ہے۔ نیب اور ایف آئی اے اپوزیشن کے خلاف حکومت کے وہ ذرائع ہیں،جن کا استعمال کر کے وہ اپوزیشن کو دبانا چاہتی ہے۔ایسی باتوں کو تقویت اُس وقت ملتی ہے جب عمران  خان کہتے ہیں مَیں کسی قیمت پر این آر او نہیں دوں گا۔

اگر ادارے آزاد ہیں تو وزیراعظم کیسے این آر او دے سکتے ہیں۔ایسا بیان دے کر وہ اس تاثر کو جنم دیتے ہیں جیسے سب کچھ وزیراعظم کے حکم پر ہو رہا ہے وہ چاہیں تو این آر او لے کر اسے ختم کر سکتے ہیں، حالانکہ زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں، نیب اور ایف آئی اے نے جو مقدمات بنائے ہیں یا انکوائریاں چل رہی ہیں،اُن میں منی لانڈرنگ اور لوٹ مار کے شواہد موجود ہیں، مگر چونکہ ہمارے ہاں سیاست کو ایک بہت بڑی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،اِس لئے جسے پکڑو  وہ سیاسی انتقام کا نعرہ لگا دیتا ہے، ایف آئی اے کے مطابق شہباز شریف نے ایف آئی اے کے کسی  سوال کا جواب نہیں دیا۔وہ ہر سوال پر سیاسی گفتگو کرتے رہے۔انہوں نے ایف آئی اے کے دفتر میں وقت تو گزارا، مگر تفتیش میں مدد نہیں کی اور باہر آ کر ہراساں کرنے کا الزام لگا دیا۔

ایک لمحے کو شہباز شریف کے اس الزام کو مان لیا جائے تو لامحالہ ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے، ایف آئی اے والوں نے کیا کہہ کر شہباز شریف کو ہراساں کیا ہو گا؟انہوں نے سچ نہ بتایا تو ان پر عام ملزموں کی طرح تھرڈ ڈگری کا استعمال کیا جائے گا؟ ان پر مزید جھوٹے کیسز بنا کے انہیں گرفتار کر لیں گے،اُن کے ایسے راز عوام کے سامنے لائیں گے، جو  اُن کی سیاست کو نقصان پہنچائیں گے،آخر شہباز شریف کو کوئی کیسے خوفزدہ اور ہراساں کر سکتا ہے؟ یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ وہ گرفتار نہیں ہیں اور ابھی باہر جا کے میڈیا کو سب کچھ بتا دیں گے، کوئی بھی تفتیشی ایجنسی ملزم کو صرف اُسی صورت میں پریشان کر سکتی ہے،جب اس کے پاس وافر ثبوت موجود ہوں۔ شہباز خاندان کے بارے میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے،وہ اپنے پر لگنے والے الزامات کا جواب نہیں دیتا۔نواز شریف سزا کو پہنچ گئے،مگر انہوں نے اپنی بے گناہی کے دستاویزی ثبوت نہیں دیئے،اب شوگر سکینڈل اور منی لانڈرنگ کے کیس میں شہباز شریف بھی وہی غلطی کر رہے ہیں،وہ سمجھتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کیسز بھی خودبخود لپٹ جائیں گے،انہیں اپنی بے گناہی کے ٹھوس ثبوت دے کر الزامات کو جھوٹا ثابت کرنا چاہئے، وہ یہ راستہ کیوں اختیار نہیں کر رہے۔

مزید :

رائے -کالم -