واردات کی رات مقتولہ کاپارٹی میں دوستوں سے جھگڑا ہوا تھا، پولیس 

واردات کی رات مقتولہ کاپارٹی میں دوستوں سے جھگڑا ہوا تھا، پولیس 

  

لاہور(کرائم رپورٹر) رات گئے لاہور پولیس نے ڈیفنس میں قتل ہونیوالی ماڈل نایاب کے قتل کے الزام میں 4افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی، پولیس کے مطابق مقتولہ واردات کی رات دوستوں کی پارٹی سے جھگڑا کر واپس آئی تھی، پولیس نے رابطے میں رہنے والے 2 دوستوں سمیت 4افراد کو تفتیش کیلئے حراست میں لے لیا۔قتل کی رات نایاب کہاں گئی؟ کس سے ملی؟،پولیس نے چھان بین شروع کر دی۔ پولیس کے مطابق ڈیفنس بی میں قتل ہونیوالی ماڈل نایاب وقوعہ سے پہلے دوستوں کیساتھ فارم ہاؤس میں ایک پارٹی میں گئی، جہاں کسی بات پر مقتولہ اور اس کے دوستوں میں جھگڑا ہوا اورتکرار کے بعد نایاب پارٹی چھوڑ کر واپس آئی اور سوتیلے بھائی کو فون کیا۔مقتولہ کا بھائی اس سے ملنے آیا اور کچھ وقت ساتھ گزارکر نایاب کو گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ سی آئی اے لاہور پولیس نے مقتولہ کے دوستوں کو شامل تفتیش کرکے پوچھ گچھ شروع کردی۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ نایاب کے قتل میں کوئی قریبی عزیز ملوث ہوسکتا ہے۔واضح رہے تین روز قبل ایچ اے فیز 5 کے علاقہ میں ماڈل کی گھر سے تشدد زدہ  برہنہ لاش برآمد ہوئی تھی، نایاب نامی ماڈل کو ممکنہ طور پر گلہ دبا کر قتل کیا گیا۔ پولیس نے زیادتی، ڈکیتی سمیت مختلف پہلوؤں پرتفتیش شروع کر دی تھی جبکہ آئی جی پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپوٹ طلب کر لی تھی۔ 29 سالہ ماڈل نایا ب ڈی ایچ اے فیز فائیو کے ایک گھر میں اکیلے رہائش پذیر تھی، نایاب دو بھائیوں کی سوتیلی بہن تھی جسے نامعلوم افراد نے گھر میں گھس تشدد کا نشانہ بنایا اور گلہ دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔قتل کرنے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔پولیس ابتدائی کارروائی کے بعد لاش کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعہ مردہ خانے منتقل کردیا تھا جبکہ قتل کا مقدمہ مقتولہ کے سوتیلے بھائی محمد علی ناصرکی مدعیت میں درج کیاگیا۔ 

ماڈل گرل قتل

مزید :

صفحہ آخر -