جس کاروبار پر ٹیکس نہیں لگتا اس کی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں، ہائیکورٹ 

 جس کاروبار پر ٹیکس نہیں لگتا اس کی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں، ہائیکورٹ 

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس راحیل کامران شیخ نے قراردیاہے کہ جس کاروبار پر ٹیکس نہیں لگتا اس کی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں اورایسا کاروبار جو رجسٹریشن کا متقاضی نہ ہو اس پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاسکتا،جو کاروبار رجسٹر نہیں وہ ٹیکس اور اضافی ٹیکس بھی دینے کا پابند نہیں، جن کاروبار پر رجسٹریشن کی شرط نہیں اس کومزید ٹیکس اور اضافی ٹیکس دینے پر مجبور کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،عدالت نے برف کے کارخانوں پر ٹیکس اور ان کی رجسٹریشن سے متعلق دائردرخواست پر8صفحا ت پر مشتمل اپنے تحریری فیصلے میں کہاہے کہ جن افراد یا اداروں کو پارلیمان نے سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے ان پر نہ تو رجسٹریشن کی پابندی ہے اور نہ ہی اضافی ٹیکس اور مزید ٹیکس کا اطلاق ہوتا ہے، مندرجہ بالا ٹیکس کا اطلاق ان افراد پر ہے جن پر پارلیمان نے سیلز ٹیکس لاگو کر رکھا ہو اور اس ضمن میں وہ رجسٹریشن کے پابند ہوں گے،درخواست گزار محمد عارف نے لیسکو اور ایس این جی پی ایل کی طرف سے مزید ٹیکس' اور 'ایکسٹرا ٹیکس' کے خلاف درخواست دائر کی جس کے مطابق وہ ایک برف کا کارخانہ چلاتا ہے جہاں بجلی اور گیس کا میٹر لگا ہوا ہے، درخواست گزار بجلی اور گیس کے بل کی مد میں سیلز ٹیکس دے رہا ہے،اس سیلز ٹیکس کے علاوہ لیسکو اور ایس این جی پی ایل کی جانب سے 3 فیصد' مزید ٹیکس اور ایکسٹرا ٹیکس بھی اداکرنے کیلئے کہا گیاہے جو غیر قانونی ہے کسی شہری کے کاروبار کو بغیر رجسٹریشن کے مزید ٹیکس اور اضافی ٹیکس دینے پر مجبور نہ کیا جائے،فاضل جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ ایک شخص جو کوئی ایسی چیز بنا رہا ہے جس پر ٹیکس نہیں لگتا،اس کورجسٹرڈ ہونے کی ضرورت ہے کہ نہیں، سیکشن 14 کی رو سے ان کاروبار وں کی رجسٹریشن لازمی ہے جس میں امپورٹ، ایکسپورٹ، ریٹیل، ہول سیل، ڈیلرشپ اورڈسٹری بیوشن وغیرہ پرٹیکس لگتا ہے، اس زیرنظرکیس کی بات کی جائے تو درخواست گزار برف بناتا ہے اور اس پر ٹیکس نہیں لگتا اگر برف خانوں میں برف بنتی ہے اور امپورٹ ایکسپورٹ نہیں ہوتی تو قانون میں ایسی کوئی شق نہیں جس کے مطابق اس کورجسٹر ڈکرنا لازمی ہے درخواست گزار وفاقی قانون کے مطابق بھی اس کاروبار کو رجسٹر ڈکرانے کاپابند نہیں عدالتی فیصلہ میں مزیدکہا گیا کہ سب سے اہم سوال اب یہ ہے کہ آیا کوئی شخص جو کچھ ایسا بنائے جس پر ٹیکس کی چھوٹ ہو وہ مزید ٹیکس اور ایکسٹرا ٹیکس دیگا یا نہیں؟متعلقہ قانون کے سیکشن 3 کی رو سے کوئی شخص کچھ بھی بنائے جس پر ٹیکس کی چھوٹ ہو اس پر مزید ٹیکس اور اضافی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، درخواست گزار کا برف بیچنا سیلز ٹیکس کے لیوی ٹیکس میں نہیں آتاجیسا کہ درخواست گزار کا برف بیچنا اور بنانا ٹیکس کی چھوٹ میں آتا ہے تو اس کو رجسٹرڈ ہونے کی بھی ضرورت نہیں درخواست گزار پہلے ہی بجلی اور گیس کے بلوں کی مد میں سیلز ٹیکس کی ادائیگی کر رہا ہے عدالت درخواست گزار کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسے مزید ٹیکس اور اضافی ٹیکس دینے سے روکتی ہے۔

تحریری فیصلہ

مزید :

صفحہ آخر -