ہم ساتھ نہ دیں تو وفاقی حکومت ختم ہوجائے گی:وسیم اختر

ہم ساتھ نہ دیں تو وفاقی حکومت ختم ہوجائے گی:وسیم اختر

  

ملتان (سٹی رپورٹر)ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر و سابقہ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ حکومت ہمارے سہارے کھڑی ہے۔ہم ہٹ  جائیں تو اسی وقت(بقیہ نمبر42صفحہ6پر)

 حکومت ختم ہو جائے،مہنگائی،بے روزگاری اور لاقانونیت کی وجہ سے عوام پس کر رہ گئے ہیں۔وفاقی حکومت کے ساتھ رہ کر صرف حجت تمام کر رھے ھیں۔ عمران خان سے درخواست ھے کہ تمام جماعتوں کو ملا کر جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے۔ سندھ حکومت نے کراچی اور سندھ والوں کے لئے مسائل کے انبار لگا دیے ہیں۔ پیپلز پارٹی خود دھشت گرد جماعت ھے۔ سندھ میں اس نے جمہوریت کی دھجیاں اڑا دیں ھیں۔ ھم ایک نئے جذبے،ولولے اور عوامی خدمت کو لیکر جنوبی پنجاب میں آئے ھیں۔ ایم کیو ایم جنوبی پنجاب کی تنظیم خطے کے مسائل حل کرے گی۔سرائیکی خطے کے لوگ ھمارے دلوں میں بستے ہیں.ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پروسیم اختر نے ایم کیو ایم جنوبی پنجاب کی تنظیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اظہار الحق ایم کیو ایم جنوبی پنجاب کے صدر اور ادریس جامی جنرل سیکرٹری ھونگے جبکہ سینئرنائب صدر کے لئے جاوید اختر سید وصی حیدر ڈاکٹر اکرم علی، سید آصف جاہ، نائب صدور کے لئے ٹکٹ ہولڈر ایاز شیخ، ریاض حسین دھرالہ،عمرعلی آغا ملک اختر اعوان جوائنٹ سیکرٹری محمد شاہد عوامی سیکرٹری اطلاعات راجہ یامین کھدر پوش جبکہ ممبران میں رائے طارق شہزاد خان، اعظم بیاض راشد خانزادہ رانا سمیع اللہ، طارق مقصود، رانا ذوالفقار اور مرزا شرافت کو نامزد کیا گیا ہے۔وسیم اختر نے مزیدکہا ھے کہ مصنوعی طریقے سے جماعتوں کو توڑنا اور جوڑنا مسائل کا حل نہیں ھے جتنی مشکلات ایم کیو ایم کو جھیلنا پڑیں کسی اور پر آتیں تو ان کا نام و نشان بھی مٹ چکا ھوتا مہنگائی،بے روزگاری اور لاقانونیت کی وجہ سے عوام پس چکے ہیں۔ھمارے سہارے یہ حکومت کھڑی ھے جس دن ھماری جماعت علیحدہ ھوئی حکومت ختم ھو جائے گی۔ حکومت کا ساتھ دیکر حجت تمام کر رھے ھیں۔ اگر وقت آیا تو عوام کے ساتھ کھڑے ھونگے۔ صوبے بنانا کوئی گناہ نہیں۔ عمران خان کو چاہیے کہ تمام جماعتوں کو ساتھ ملا کر جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے۔میں تو کہتا ھوں کہ اس ملک میں بیس صوبے بننے چاہئیں۔ سندھ حکومت نے کراچی اور سندھ کے لئے مسائل کے انبار لگا دیے ہیں۔ انہوں نے تیرہ سال سے سندھ پر قبضہ کیا ھوا ھے۔ کراچی کا ایڈمنسٹریٹر سیاسی کے بجائے سرکاری لگایا جائے۔۔ دھشت گردی پیپلز پارٹی کی گھٹی میں ھے۔ بھٹو کے دور میں ملک توڑا گیا۔آج بھی یہ جمہوریت کی دھجیاں اڑا رھے ھیں۔۔ حکومت سندھ کا چیلنج ھمیں درپیش ہیں۔ ھمیں وہ سیاسی سپیس نہیں مل رھی جو دوسری جماعتوں کو حاصل ھے۔۔ ھماری جدوجہد مراعات کے لئے نہیں بلکہ عوام کے لئے ھے عمران خان نے بلدیاتی انتخابات پر بھی یو ٹرن لے لیا ھے اس سے پہلے وہ بلدیاتی انتخابات کو پسند کیا کرتے تھے کشمیر الیکشن میں کردار ادا کریں گے جس کو آنا ھے وہ ایم کیو ایم میں آئے یہ برانڈ نیم ھے۔ کوئی سیاسی جماعت اپنے لیڈر کو فارغ نہیں کر سکتی ھم نے ایسا کیا کیونکہ ھمارے بزرگوں نے پاکستان بنایا تھا اور کوئی چیز پاکستان سے بڑھ کر نہیں۔ سینیٹ میں ھمارا ایک بھی ایم پی اے نہیں بکا۔ آئین میں ترامیم بھی ھونی چاھیں اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات مرتکز ہو کر رہ گئے ہیں۔۔ ھمارا ایجینڈ اقتدار کے لئے نہیں بلکہ عوامی مسائل کا حل ھے۔ ھم نے اپنی شناخت منوائی ھے اور قربانیاں دیکر یہ ملک بنایا ھے۔ ھم عمران خان اور پی ٹی آئی سے بھی مسائل پر بات چیت کرتے رھتے ھیں۔ جنوبی پنجاب صوبے کی سب سے پہلے آواز اٹھائی اور قرارداد جمع کرائی تھی۔ھمیں سرائیکی خطے کے لوگوں سے ھمیں پیار ھے۔سرائیکی عوام ھمارے دل میں بستے ہیں۔ ھم عملی جدو جہد سے اس خطے کے عوام کا علیحدہ صوبہ بنا کر دم لیں گے۔ علیحدہ صوبہ اس خطے کے عوام کا بنیادی حق ہے ایم کیو ایم متوسط طبقے کی واحد نمائندہ جماعت ھے جس نے اقتدار کے ایوانوں میں متوسط طبقے کے لوگوں کو پہنچایا اور 98 فیصد عوام کی آواز ھر سطح پر اٹھائی۔

وسیم اختر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -