طالبان کاغزنی شہر کا محاصرہ، بامیان، لغمان کے کئی اضلاع پر قبضہ، ترک فوج افغانستان میں رہی تو کارروائی ہوگی: طالبان

طالبان کاغزنی شہر کا محاصرہ، بامیان، لغمان کے کئی اضلاع پر قبضہ، ترک فوج ...

  

  کابل (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)افغان حکومت کے عہدیداروں نے کہا ہے طالبان جنگجوؤں نے وسطی افغانستان کے شہر غزنی کو گھیرے میں لے لیا ہے۔غزنی کی صوبائی کونسل کے ایک رکن حسن رضائی نے کہا کہ غزنی شہر کی صورتحال انتہائی نازک ہے۔وزارت دفاع کے ترجمان فواد امان نے کہا کہ قندھار کی صورتحال افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ قندھار میں حالیہ ایام میں طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی حملے کیے گئے ہیں۔دوسری طرف  طالبان نے، بامیان اور لغمان کے کئی اضلاع پر قبضہ کر لیا۔ بھارت نے مزار شریف میں بھی قونصل خانہ بند کر دیا ہے۔ طالبان نے حملے کر کے پولیس ہیڈ کوارٹر، چوکیوں اور فوجی تنصیبات پر قبضہ کر لیا۔درجنوں افغانی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے، اکثریت کو فرار ہونے کا موقع دیا گیا۔ طالبان جنگجوؤں نے بھاری تعداد میں اسلحہ اور ملٹری گاڑیاں تحویل میں لے لیں۔طالبان نے ہتھیار ڈالنے والے 22افغان کمانڈوز کو اندھا دھندفائرنگ کرکے ہلاک کردیا، واقعہ صوبہ فاریارب کے علاقے دولت آباد میں پیش آیا۔پہلے سرنڈر کروایا، پھر گولیوں سے بھون دیا،  دوسری طرف ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ دنیا افغانستان میں طاقت کے زور پربنائی گئی حکومت قبول نہیں کرے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اسی حکومت کو تسلیم کیا جائے گا جسے عوامی حمایت حاصل ہو اور جو واضح اکثریت رکھتی ہو، خاص طور پر انسانی حقوق کا احترام کرتی ہو۔جبکہ طالبان نے ترکی کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ترک افواج نے افغانستان نہ چھوڑا تو ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ طالبان نے آئندہ ماہ نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد کابل ائیرپورٹ کی حفاظت کے لیے ترکی کے فوجی دستوں کی افغانستان میں موجودگی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد جو ملک بھی یہاں رکے گا اس کو قابض سمجھا جائے گا۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے عرب نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ ترکی افغانستان میں 20 سال سے موجود ہے تاہم اگر وہ اب بھی یہاں رکنا چاہتا ہے تو میں واضح کردوں کہ ترک افواج کو قابض فوج تصور کیا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ترکی اسلامی ملک ہے اور ہم ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں، ترکی اور افغانستان کے درمیان بہت کچھ مشترکہ ہے لیکن اگر انہوں نے مداخلت کی اور اپنے فوجی افغانستان میں رکھے تو اس کی ذمہ داری ترکی پر ہی ہوگی۔

طالبان

مزید :

صفحہ اول -