روس، چین کی مشاورت سے افغانستان سے متعلق متفقہ حکمت عملی اپنائیں گے: شاہ محمود

روس، چین کی مشاورت سے افغانستان سے متعلق متفقہ حکمت عملی اپنائیں گے: شاہ ...

  

 دوشنبے(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے روس، چین اور وسطی ایشیائی ممالک خطے کے اہم ممالک ہیں، افغانستان کے حوالے سے ان اہم ممالک سے مشاورت کے بعد متفقہ حکمت عملی اپنائینگے۔تاجکستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا تاجکستان کے وزیر خارجہ سے افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی، ازبکستان،قزاخستان،روس اور چین کے ہم منصبوں سے  بھی ملاقات متوقع ہے۔ یہ سب خطے کے اہم ممالک اور افغانستان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں،پاکستان چاہتا ہے ان اہم ممالک سے مشاورت کے بعد متفقہ حکمت عملی اپنا ئی جائے، پاکستان اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھارہا ہے۔ خدانخواستہ افغانستان کی صورتحال بگڑی تو سب متاثر ہوں گے۔ یہ مشاورتی عمل آگے بڑھا نے کا سنہری مو قع ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جو کئی دھائیوں سے تیس لاکھ افغان پناہ گزینوں کی خدمت کررہا ہے۔اگر خدانخواستہ حالات خراب ہوتے ہیں تو ہم مزید افغان پناہ گزینوں کو رکھنے کے متحمل نہیں ہوسکتے، افغان پناہ گزینوں کی آڑ میں ایسے عناصر بھی داخل ہو سکتے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچائیں، ہم انسانی ہمدردی کے تحت ان کی معاونت کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنے معصوم لوگوں کا تحفظ بھی ہمیں یقینی بنانا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے افغانستان میں دیرپا امن و استحکام ہو،ہم پر کب تک انگلیاں اٹھائی جاتی رہیں گی، ماضی کی غلطیوں کو مت دہرا ئیں، ا و ر مل بیٹھ کر راستہ نکالیں۔ افغانستان کی صورتحال بہتر ہونے کا سب کو فائدہ ہوگا۔ افغانستان کی اہم شخصیات کو بات چیت کی دعوت دیتے ہیں۔ بھارت نے افغانستان میں سپائیلر کا کردار ادا کیا۔ بھارت خطے کے امن میں خلل ڈال رہا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے وہ بھارت کو منفی رویئے سے منع کرے۔ بھارت افغانستان کو امن سے رہنے دے۔قبل ازیں غیر وابستہ ممالک کی تحریک کے اجلاس سے بذریعہ وڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا دیرینہ تنازعات، عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلی اور بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی عالمی ترقی کیلئے خطرہ ہیں جبکہ اسلحے کی دوڑ، نسل پرستی، مذہبی منافرت بالخصوص اسلاموفوبیا عالمی امن و سلامتی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، کشمیر اور فلسطین کے عوام گزشتہ دو دہائیوں سے حق خودارادیت کے حصول کے منتظر ہیں، نیم عالمی برادری دیرینہ تنازعات کے حل میں اپنا کردار ادا کرے، آج دنیا ایک اہم موڑ پر ہے جہاں ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، کورونا وباء نے امن عامہ اور سماجی اقتصادی ترقی سے متعلق عالمی نظام کی خامیاں مزید عیاں کر دی ہیں، کوئی ملک خواہ کتنا بھی مستحکم اور خوشحال کیوں نہ ہو تنہا ان چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ پاکستان حق خود ارادیت کیلئے نیم کے اصولی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔بعدازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دوشنبے میں افغان ہم منصب محمد حنیف آتمر کیساتھ ملاقات میں ان پر واضح کیا کہ منفی بیانات سے افغان امن عمل میں پاکستان کے مثبت کردار کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، الزام تراشی کسی فریق یا خطے کے میں مفاد میں نہیں ہے۔ملاقات افغانستان کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔شاہ محمود نے افغانی ہم منصب کو پاکستان کی جانب سے متحدہ اور پر امن افغانستان کی مستقل حمایت کا یقین دلایا اور زور دیا کہ باہمی امور پر گفتگو، طے شدہ میکنزم، ایپیپس (APAPPS) کو بروئے کار لاتے ہوئے ہونی چاہیے۔ اسلام آباد پاکستان اور افغانستان کے مابین موجود مشترکہ میکنزم "APAPPS" کے جائزہ اجلاس کے جلد انعقاد کا متمنی ہے۔ افغان قیادت غیر ملکی افواج کے انخلا کے تناظر میں باہمی مذاکرات کے ذریعے امسئلے کا جلد سیاسی حل نکالیں تاکہ افغانستان میں مستقل اور دیرپا قیام امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ پاکستان خطے کی اقتصادی ترقی، امن اور روابط کے فروغ کیلئے پرامن اور مستحکم افغانستان کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -